uttar pradesh

ماحولیات ہماری زندگی کے لیے نہایت ضروری:پروفیسر پی کے شرما،شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی پروفیسر ارتضیٰ کریم کی نئی کتاب”ماحولیاتی ادبی تنقید“ کی رسم اجراہ و مذاکرہ

Published

on

میرٹھ:کسی بھی کتاب کا اجراء کتاب کی اہمیت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔”ماحولیاتی ادبی تنقید“بہت اہم کتاب ہے۔ بغیر انوائیر مینٹ کے ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔ یہ مو ضوع بہت ہی عمدہ اور افادیت سے بھر پور ہے اور اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہونا چاہئے۔ماحولیات ہماری زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔آج ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ کتاب کا ترجمہ کرنا بھی بہت آسان ہے۔ارتضیٰ کریم صاحب سے میری درخواست ہے کہ اس کا دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کرائیں تاکہ یہ دیگر زبانوں کے طالب علموں اور ریسرچ اسکالرز تک پہنچے۔یہ الفاظ تھے سابق شیخ الجامعہ سہیل دیو یونیورسٹی، اعظم گڑھ پروفیسر پی کے شرما کے جومہمان خصوصی کی حیثیت سے شعبہئ اردو میں منعقدپروفیسر ارتضیٰ کریم کی کتاب”ماحولیاتی ادبی تنقید“ کی رسم اجراء و مذکراہ کے دوران اپنی تقریرکے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پروگرام کا آ غاز محمد عیسیٰ رانا نے تلا وت کلامِ پاک سے کیا۔ ہدیہئ نعت ایم اے اردو کی طالبہ مہوش نے پیش کیا۔ پروگرام کی صدارت کے فرائض معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کے بطور سابق شیخ الجامعہ سہیل دیو یونیورسٹی، اعظم گڑھ پروفیسر پی کے شر ما نے شر کت فر مائی۔ مہمانانِ اعزازی کے بطور معروف فکشن نگار و منفرد شاعر پروفیسر شفق سو پوری، پروفیسر اے۔کے۔ چوبے]سابق صدر شعبہ زو لوجی[اور پروفیسر کویتا تیاگی]سابق صدر شعبہئ ہندی،میرٹھ کالج[ نے شر کت کی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم، نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی اور شکریے کی رسم ڈاکٹر الکا وششٹھ نے ادا کی۔
اس موقع پراظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ نئی صدی میں نئے مو ضوع پر لکھی گئی نئی کتاب کا نام”ماحولیاتی ادبی تنقید“ہے۔ جس کو بڑی جانفشانی کے ساتھ پروفیسر ارتضی کریم نے ترتیب دی ہے۔ نئی صدی میں ماحولیات ایک اہم اور نیا مو ضوع جس سے اردو والے ذرا کم ہی واقفیت رکھتے ہیں۔اردو ادب میں ما حولیات ہمارے ادبا و شعرا سے اچھوتا نہیں رہا ہے۔جب بھی ہم اردو ادب میں ماحولیاتی ادبی تنقید کی بات کرتے ہیں تو یہاں ماحولیاتی تنقید پر زیادہ سر مایہ نظر نہیں آتا۔ابھی ماحولیاتی ادبی تنقید پر اردو میں کوئی مستند اور معتبر کتاب منظر عام پر نہیں آئی تھی۔ یہ سعادت باری تعالیٰ نے پروفیسر ارتضیٰ کریم کو بخشی، جنہوں نے ما حولیات کو براہِ راست ادبی تنقید کا مو ضوع بنایا۔
پروفیسر کویتا تیا گی نے کہا کہ یہ موضو ع آج ہندوستان کے لیے بہت ضروری ہے۔ جب کو ئی مصنف لکھتا ہے تو وہ کتاب اس کی پرچھائی ہوتی ہے۔کتاب کی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اردو اور ہندی میں بھی ترجمہ ہونا چاہئے تا کہ ان زبانوں کے قارئین تک بھی اس کتاب کا میسیج پہنچے۔روایت سے ہٹ کر آج کے مصنفین ایسے موضوعات کو برت رہے ہیں جن کی آج سماج کو بہت زیادہ ضرورت ہے۔پروفیسر اے۔کے چوبے نے کہا کہ ما حولیات کے تعلق سے جو چیزیں سامنے آ رہی ہیں ان پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔ہمیں اپنے اپنی حفاظت کرتے ہوئے ترقی کی جانب بھی گامزن ہونا ہے۔ اس لیے ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے ما حول کو سمجھیں اور اس کے مطابق کام کریں۔آج جو نیچرکے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہورہی ہے اس پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔بہترین کتاب کے لیے ارتضیٰ کریم صا حب کو مبارک باد!
پروفیسر شفق سو پوری نے کہا کہ ابھی تک بہت سے اسکالرز ما حولیاتی تنقید کو پورے طور پر نہیں سمجھ پائے۔ سب سے پہلے ماحولیاتی ادب کی شناخت ضروری ہے۔ماحولیاتی تنقید کا مفہوم میرے خیال سے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے آ یا ہے اور اردو میں یہ نیا تنقیدی رجحان”ماحولیاتی ادبی تنقید“ کی صورت میں سا منے آ یا ہے اور اس کا سہرا پروفیسر ارتضیٰ کریم کے سر جاتا ہے۔ ان کے لٹریچر کو پڑھ کر سمجھنا چاہئے۔ ارتضیٰ کریم کی تنقید میں اوچھا پن نہیں ملتا، ان کی تنقید کا ایک معیار ہے’۔ ”ماحولیاتی ادبی تنقید“ اردو میں انقلاب لائے گی۔میں اس شعبے میں آنے کا بڑا خواہش مند تھا۔ سوشل میڈیا پر میں نے شعبے کی ایکٹویٹیز دیکھی ہیں،نہایت ہی فعال شعبہ ہے۔ میں شعبے کے تمام اراکین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ کتاب بھی بچے کی مانند ہوتی ہے۔ایک دن میں جوان نہیں ہو سکتی، اس کے لیے وقت در کار ہوتا ہے۔ اے آئی سے ہمارا ماحول متاثر ہورہا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تنقید صرف ما حولیات کی ہی تنقید نہیں ہے ہمیں اس کی گہرا ئی کو سمجھنا ہے۔NEP میں جن مقامی زبانوں کو اپنانے کا ذکر کیا گیا ہے، مقامی بولیوں اور زبانوں کو نصاب میں شامل کیا ہے اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ان مقامی بولیوں اور زبانوں کی حفاظت کی جاسکے۔یہ بھی ما حولیاتی تنقید کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری یہ کتاب عن قریب ہندی میں بھی شائع ہو گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک یہ کتاب پہنچ سکے۔
آخر میں اپنی صدارتی تقریر کے دوران پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ شعبہئ اردو میں بہت سی کتابوں کا اجراء ہو تا رہا ہے لیکن اس کتاب کا اجراء بہت اہم ہے۔ کیو نکہ آج ایک نیا تنقیدی دبستان”ماحولیاتی ادبی تنقید“ کا آغاز ہوا ہے۔کتاب کسی بھی موضوع پر ترتیب دی جائے بس شرط یہ ہے کہ اس کا موضوع اچھا ہو،منفرد ہو تو ایسی کتاب تخلیقی کتاب سے بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ یہ کتاب ہمیں کس کس طرف متوجہ کرتی ہے۔ ہمارے آس پاس کی چیزیں ہمارے ادب کو بھی متاثر کرتی ہیں،یہ بھی ماحولیاتی ادبی تنقید کا حصہ ہے۔ اس کتاب کی یہ بھی اہمیت ہے کہ ماحولیات کی سبھی زبانوں میں بات کی جاتی ہے۔میں ارتضیٰ کریم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ارتضیٰ کریم نے ایک نیا موضوع ہمیں دیا اور ایک نئی تنقید سے ہمیں رو شناس کرایا۔اس موقع پر ڈاکٹر عفت ذکیہ، انل شر ما، ہینت گویل، جتیندر سی راج،آفاق احمد خاں، سراج الدین احمد، عابد سیفی،محمد ندیم، اریبہ سر فراز،طاہرہ پروین، نایاب، نمرہ،عائقہ صدیقہ، سیدہ مریم الٰہی،شاکر مطلوب اور طلبہ و طالبات موجود رہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network