دلی این سی آر
لیپا پوتی کرکے پردھان کو بچا رہے ہیں پی ایم: کجریوال
(پی این این)
نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پیپر لیک کے معاملات کی سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کے اعلان کو ملک کے بچوں کو بے وقوف بنانے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو بچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے پی ایم سے سوال کیا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کا کیا ہوا؟بچوں نے تو فاسٹ ٹریک عدالتوں کا مطالبہ کیا ہی نہیں تھا، بلکہ انہوں نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بہت سی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی گئی ہیں، لیکن کئی میں سماعت ہی نہیں ہوتی، جبکہ کئی عدالتوں میں عام عدالتوں سے بھی زیادہ وقت لگتا ہے۔ ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا جس سے بچوں کا یہ اعتماد بڑھے کہ آئندہ پیپر لیک نہیں ہوگا۔ کیا پی ایم کا اپنا کوئی وژن نہیں ہے؟ وزیر اعظم کا یہ بیان ایک شکست خوردہ، سمت سے عاری لیکن متکبر شخص کا بیان معلوم ہوتا ہے۔ جمعرات کو ایکس پر آپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایک ٹویٹ کرکے کہا ہے کہ پیپر لیک کے معاملات میں سزا دلانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ لیکن وزیر اعظم جی، بچوں نے تو یہ مطالبہ کیا ہی نہیں تھا اور نہ ہی یہ ان کا مطالبہ تھا۔ ایسا لگتا ہے جیسے آپ بچوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ اس ملک میں پہلے ہی بہت سی فاسٹ ٹریک عدالتیں موجود ہیں۔عصمت دری کے معاملات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی گئی ہیں، پوکسو کے معاملات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم ہیں اور کئی دیگر معاملات کے لیے بھی فاسٹ ٹریک عدالتیں موجود ہیں۔ لیکن ان میں سماعت ہی نہیں ہوتی۔کئی فاسٹ ٹریک عدالتوں میں تو عام عدالتوں سے بھی زیادہ وقت لگتا ہے۔ اس لیے ایسا لگتا ہے کہ آپ اب بھی معاملے پر لیپا پوتی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دھرمیندر پردھان کو بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ بچوں نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن مودی جی نے اس بارے میں کوئی بات ہی نہیں کی۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ بچوں کے سر پھٹ گئے، ان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں، ان پر لاٹھی چارج کیا گیا، آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور ان پر بربریت کے ساتھ حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی بچے اسپتال میں داخل ہیں۔ میں خود جنتر منتر گیا تھا، وہاں یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کئی بچوں سے ملاقات بھی کی۔ مودی جی نے ان بچوں کے تئیں ہمدردی کا ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ دنیا میں کہیں بھی کچھ ہو جائے تو آپ ٹویٹ کرتے ہیں، کیا یہ بچے آپ کے بچے نہیں ہیں؟ کیا آپ کو ان بچوں کے لیے ذرا بھی رحم نہیں آتا، جن پر آپ نے اتنی بربریت سے حملہ کروایا؟ اروند کیجریوال نے کہا کہ بچے کہہ رہے ہیں کہ ہر سال پیپر لیک ہوتے ہیں۔ مودی جی نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا کہ نظام میں کیا تبدیلیاں کی جائیں گی۔
، تاکہ بچوں کو یہ یقین ہو سکے کہ اگلے سال نیٹ یا کوئی اور امتحانی پرچہ لیک نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت کے پاس کوئی وژن ہی نہیں ہے، آپ کے پاس کوئی وژن ہی نہیں ہے۔ اگلے سال بھی اسی طرح پیپر لیک ہوں گے، کیونکہ آپ نظام میں کوئی تبدیلی تو کر ہی نہیں رہے ہیں۔ اگلے سال بھی نیٹ کا پیپر لیک ہوگا اور پھر بچے خودکشی کریں گے۔ آج مودی جی کا یہ ٹویٹ ایک شکست خوردہ، سمت سے عاری اور متکبر انسان کا ٹویٹ دکھائی دے رہا ہے۔