Uncategorized

قومی تعمیر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے کردار اور وکست بھارت 2047 کے وژن پر اجلاس

Published

on

لکھنؤ: قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مقاصد کو آگے بڑھانے اور اقلیتی تعلیمی اداروں کی شراکت کو مضبوط بنانے کے لیے اتوار کو اندرا بھون، لکھنؤ میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔
اس اجلاس کا مشترکہ انعقاد نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (این سی ایم ای آئی)، حکومت ہند اور محکمہ اقلیتی فلاح و اوقاف، حکومت اتر پردیش کی جانب سے کیا گیا۔ اجلاس کا موضوع ’’قومی تعمیر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کا کردار اور وکست بھارت2047 کا وژن‘‘ تھا۔
اجلاس کی صدارت این سی ایم ای آئی کے قائم مقام چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر نے کی، جبکہ اتر پردیش حکومت کے وزیر مملکت برائے اقلیتی فلاح، اوقاف و حج دانش آزاد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اس موقع پر محکمہ اقلیتی فلاح اتر پردیش کے ڈائریکٹر شیلندر سنگھ یادو سمیت لکھنؤ اور اطراف کے مختلف اقلیتی تعلیمی اداروں کے منتظمین، عہدیداران، ماہرین تعلیم اور نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اقلیتی تعلیمی اداروں کو درپیش مختلف مسائل، ان کے حقوق کے تحفظ، قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ اور ملک کو سال 2047 تک ایک ترقی یافتہ قوم بنانے کے ہدف میں ان اداروں کے کردار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر نے کہا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے نہ صرف تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور انسانی وسائل کی ترقی میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این سی ایم ای آئی ملک بھر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے اور ایسے اداروں کو درپیش انتظامی و قانونی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اداروں کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اقلیتی درجہ حاصل کرنے کے لیے متعلقہ محکموں اور حکام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور ضروری دستاویزی کارروائی کو بروقت مکمل کریں تاکہ انہیں قانون کے تحت دستیاب تمام سہولیات اور تحفظات حاصل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی حیثیت کا حصول اداروں کو اپنے تعلیمی اور انتظامی امور کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

وکست بھارت@2047 کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر شاہد اختر نے کہا کہ جب بھارت اپنی آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا تو ملک کو ترقی یافتہ، بااختیار اور علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے تعلیمی اداروں کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے تمام اقلیتی تعلیمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے اداروں کے لیے جامع عملی منصوبے تیار کریں، اہداف کا تعین کریں اور ان کے حصول کے لیے ذمہ داریاں واضح طور پر تقسیم کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ادارے اپنے تعلیمی، انتظامی اور سماجی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے کم از کم پانچ قابلِ عمل تجاویز تیار کریں اور انہیں کمیشن کے ساتھ شیئر کریں تاکہ پالیسی سازی کے عمل میں زمینی حقائق اور اداروں کی ضروریات کو شامل کیا جا سکے۔

مہمانِ خصوصی دانش آزاد انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اتر پردیش حکومت اقلیتوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کا مقصد یہ ہے کہ اقلیتی طبقے کے نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع، روزگار کے امکانات اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی فلاح مختلف فلاحی اور تعلیمی اسکیموں کے ذریعے اقلیتی برادری کے طلبہ اور تعلیمی اداروں کی مدد کر رہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ جدید تعلیم، ہنرمندی اور روزگار سے متعلق پروگراموں کو مزید وسعت دی جائے تاکہ نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

اجلاس میں شریک مختلف اقلیتی تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اداروں کو درپیش مسائل، انتظامی امور، بنیادی سہولیات، تعلیمی معیار میں بہتری اور حکومتی تعاون سے متعلق متعدد تجاویز پیش کیں۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو قومی ترقی کے دھارے میں مزید مؤثر طریقے سے شامل کرنے کے لیے مسلسل مکالمے اور تعاون کی ضرورت ہے۔

اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء، منتظمین اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے اہداف اور وکست بھارت@2047 کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور تعلیم کے ذریعے ملک کی ہمہ جہت ترقی میں اپنا حصہ بڑھائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network