دلی این سی آر
قواعد کے خلاف مقرر کیا تھا ڈاکٹر وتسلا اگروال کو ڈی جی ایچ ایس: بھاردواج
(پی این این)
نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے 650 کروڑ روپے کے مبینہ صحت گھوٹالے میں دہلی کی ڈائریکٹر جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) ڈاکٹر وتسلا اگروال کی گرفتاری پر ای ڈی پارٹی (بی جے پی) کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اگست 2025 میں ہی کہا تھا کہ ای ڈی پارٹی کی حکومت نے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے سینئر اور اہل ڈاکٹروں کو نظر انداز کر کے ڈاکٹر وتسلا اگروال کو ڈی جی ایچ ایس مقرر کیا ہے۔
اب ان کی گرفتاری نے ثابت کر دیا ہے کہ میرے دعووں میں حقیقت تھی۔ ڈاکٹر وتسلا اگروال کے خلاف ویجلنس کی جانچ جاری تھی، اس کے باوجود وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے کہنے پر انہیں اس عہدے پر تعینات کیا گیا۔ اب اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ اس وقت کوئی بھی ڈی جی ایچ ایس کیوں نہیں بننا چاہتا تھا اور ڈاکٹر وتسلا اگروال کے نام کی سفارش کیوں کی گئی۔
عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ 650 کروڑ روپے کے صحت گھوٹالے میں ڈی جی ایچ ایس ڈاکٹر وتسلا اگروال کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ موجودہ ای ڈی پارٹی حکومت نے اگست 2025 میں انہیں ڈی جی ایچ ایس کے عہدے پر تعینات کیا تھا۔ میں نے اسی وقت ایک پوسٹ کے ذریعے کہا تھا کہ یہ تقرری مکمل طور پر قواعد کے خلاف ہے، کیونکہ اس عہدے کے لیے زیادہ اہل اور سینئر ڈاکٹروں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ڈاکٹر وتسلا اگروال کو اس نہایت حساس عہدے پر اس وقت بٹھایا گیا جب ان کے خلاف ویجلنس کی تحقیقات جاری تھیں۔ یہ تحقیقات دہلی اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ میں مبینہ بدعنوانی اور تقرریوں میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے کی جا رہی تھیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تقرریاں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی ہدایت پر کی گئی تھیں۔ آخر ایسے شخص کو اتنے حساس عہدے پر کیوں تعینات کیا گیا؟انہوں نے مزید کہا کہ ای ڈی پارٹی کی دہلی حکومت نے مئی 2025 کے آس پاس ڈاکٹر رتی مکڑ کو ڈائریکٹر جنرل آف ہیلتھ سروسز مقرر کیا تھا، لیکن وہ یہ ذمہ داری نبھانا نہیں چاہتی تھیں۔
اسی لیے انہوں نے جولائی 2025 میں وی آر ایس (رضاکارانہ ریٹائرمنٹ) کے لیے درخواست دے دی۔ آخر اس کی وجہ کیا تھی؟ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی جائیں۔ آخر کوئی بھی ڈی جی ایچ ایس بننے کے لیے تیار کیوں نہیں تھا؟ وزیر اعلیٰ نے ڈاکٹر وتسلا اگروال کے نام کی سفارش کیوں کی، جبکہ یہ تقرری مکمل طور پر قواعد و ضوابط کے خلاف تھی؟ جب ان کے خلاف ویجلنس کی جانچ جاری تھی۔
، جو دہلی اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ میں تقرریوں سے متعلق تھی، تو پھر انہیں اس حساس عہدے پر کیوں مقرر کیا گیا۔
؟ ان تمام سوالات کا جواب عوام کے سامنے آنا چاہیے۔