دلی این سی آر
غیر قانونی تعمیرات پائی گی تو انجینئروں کے خلاف ہوگی کارروائی :کورٹ
نئی دہلی :ایک اہم حکم میں دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر دہلی کے کسی بھی حصے میں غیر قانونی تعمیرات یا تجاوزات پائی جاتی ہیں تو وہاں کام کرنے والے ذمہ دار انجینئروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہائی کورٹ نے دہلی میونسپل کارپوریشن کے ایگزیکٹیو انجینئر، جونیئر انجینئر اور اسسٹنٹ انجینئر اور دیگر متعلقہ محکموں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے۔
جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس منمیت پریتم سنگھ اروڑہ کی بنچ کے سامنے کچھ تصاویر پیش کی گئیں۔ ان تصاویر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ غیر قانونی تعمیرات دہلی میونسپل کارپوریشن کے انجینئروں کی نگرانی میں ہوئی ہیں۔ خاص طور پر، چھ منزلہ عمارتیں اس زمین پر تعمیر کی گئی ہیں جو سیلاب زدہ علاقے میں آتی ہے۔
بنچ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ دارالحکومت میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کی وجہ سے روزانہ حادثات ہو رہے ہیں۔ مزید برآں، سرکاری ملازمین ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور حادثات میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی غیر قانونی تعمیر یا تجاوزات کی صورت میں ایگزیکٹو انجینئر، جونیئر انجینئر، اور اسسٹنٹ انجینئر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
بنچ نے حال ہی میں مشاہدہ کیا کہ جگت پور گاؤں، وزیرآباد گاؤں، رام گھاٹ وزیرآباد، اور نیو ارونا نگر (منجنو کا ٹیلا) میں غیر قانونی تعمیرات دہلی میونسپل کارپوریشن کے افسران کی نگرانی میں کی گئیں۔ بنچ نے ان علاقوں میں انجینئروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی۔ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) اور دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کو ان غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر منہدم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔انجینئرز کے خلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کر لی گئی۔ اس سے متعلق رپورٹ 25 جولائی کو عدالت میں پیش کی جائے۔ انجینئرز کے خلاف کی گئی کارروائی کی رپورٹ بھی اسی دن پیش کی جائے۔ اس حکم کی کاپی ایم سی ڈی کمشنر کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے بنچ نے کہا کہ کمشنر اگلی سماعت پر ان جائیدادوں کی تفصیلات پیش کریں گے۔