uttar pradesh
طلبہ یونین سے اے ایم یو کورٹ تک کے انتخابات کا مطالبہ، اموٹا کا دھرنا
(پی این این)
علی گڑھ:ملک بھر میں یومِ اساتذہ منائے جانے کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن (اموٹا) نے یونیورسٹی میں مختلف جمہوری اداروں کے انتخابات کرانے اور اساتذہ کے دیگر مطالبات کو لے کر ایک روزہ دھرنا دیا۔ اساتذہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایگزیکٹو کونسل، اکیڈمک کونسل، اے ایم یو کورٹ اور طلبہ یونین کے انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں۔
اموٹا کی جانب سے اسٹاف کلب میں منعقد ایک روزہ دھرنے میں اساتذہ نے یونیورسٹی کے اندر جمہوری عمل کی بحالی پر زور دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے مختلف جمہوری اداروں کے انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ اور طلبہ کی جمہوری شمولیت متاثر ہو رہی ہے۔اموٹا کے صدر پروفیسر طفیل احمد نے کہا کہ یونیورسٹی میں جمہوری عمل کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد یونیورسٹی کے مختلف طبقات کو نمائندگی فراہم کرنے اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔
اموٹا کے سکریٹری ڈاکٹر اشرف متین نے کہا کہ ان کی تمام مانگیں قانون کے دائرے میں ہیں اور وہ کسی غیر قانونی مطالبے کے لیے دھرنا نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی میں جمہوری عمل کمزور ہو رہا ہے اور مختلف اداروں کے انتخابات مسلسل ملتوی کیے جا رہے ہیں۔
اساتذہ نے کہا کہ یونیورسٹی میں ایگزیکٹو کونسل، اکیڈمک کونسل اور کورٹ جیسے اہم اداروں کے انتخابات طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔ ان کے مطابق اے ایم یو میں طلبہ یونین کے انتخابات بھی 2018 سے نہیں ہوئے ہیں۔ اسی طرح اکیڈمک کونسل کے انتخابات 2020 سے اور اے ایم یو کورٹ کے انتخابات بھی 2018 سے زیر التوا ہیں، جبکہ کورٹ کی متعدد نشستیں خالی ہیں۔مظاہرین نے کہا کہ جمہوری اداروں کو فعال کیے بغیر یونیورسٹی کے مسائل کا مؤثر حل ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ اور طلبہ کی جائز آواز کو سنا جائے اور تمام زیر التوا انتخابات کا جلد اعلان کیا جائے۔اموٹا کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ اگر انتظامیہ نے ان کی بات سنی ہوتی تو آج دھرنا دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ اور دیگر متعلقہ مسائل کا جلد از جلد حل نکالا جائے۔
دھرنے میں سابق ایگزیکٹو کونسل رکن پروفیسر شمیم احمد، پروفیسر معین الدین، پروفیسر عبید صدیقی، مصور علی اور مراد خان سمیت کئی سینئر اساتذہ موجود رہے۔
اس کے علاوہ سابق اموٹا سکریٹری پروفیسر آفتاب عالم، ڈاکٹر نسیم احمد، ڈاکٹر عسکر حسین، ڈاکٹر محمد طارق، ڈاکٹر عشات محمد خان، ڈاکٹر افتخار احمد، ڈاکٹر دیوان اسرار خان، ڈاکٹر محمد ارشد باری، ڈاکٹر عابد ہادی، ڈاکٹر عبدالرحمن، ڈاکٹر صبیحہ تبسم، ڈاکٹر مدثر علی شاہ، ڈاکٹر طارق عثمانی، ڈاکٹر نفیس احمد، ڈاکٹر محمد شارق، ڈاکٹر شفیق اللہ، ڈاکٹر اسلم خان، ڈاکٹر محمد عاصم اور ڈاکٹر بلال تفسیر سمیت دیگر اساتذہ بھی دھرنے میں شریک ہوئے۔
دھرنے میں شریک اساتذہ نے کہا کہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ نے جلد ہی ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا تو اموٹا دوبارہ اجلاس منعقد کرکے آئندہ کی حکمت عملی طے کرے گی۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل بھی اے ایم یو کے طلبہ نے یونین ہال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے علاوہ ایگزیکٹو کونسل، اکیڈمک کونسل اور کورٹ کے انتخابات کرانے کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے۔