Bihar

شراب مافیا اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے سے کیوں گھبراتی ہےفرضی انکاؤنٹر کرانے والی حکومت؟ہم انصاف کی لڑائی میں ہمیشہ متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں:تیجسوی یادو

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:پٹنہ میں جسم فروشی کے مبینہ اڈے کی مخالفت کرنے پر بنٹی کے اغوا کے بعد قتل کیے جانے کے معاملے پر بہار کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے اس واقعے کو لے کر وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔تیجسوی یادو نے مقتول بنٹی کی اہلیہ سے فون پر بات کر کے اظہارِ تعزیت کیا اور انہیں صبر و حوصلہ رکھنے کی تلقین کی۔
انہوں نے اس گفتگو کی ایک ویڈیو بھی اپنے ایکس ہینڈل پر شیئر کی ہے، جس میں بنٹی کی غمزدہ اہلیہ آبدیدہ نظر آتی ہیں اور شدتِ غم سے زار و قطار رو رہی ہیں۔تیجسوی یادو نے بنٹی کی اہلیہ کو دلاسا دیتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ انصاف کی لڑائی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے سمراٹ چودھری حکومت پر الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت مجرموں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔تیجسوی یادو نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا، ’’پٹنہ کے کربیگہیا علاقے میں اقتدار اور پولیس کی سرپرستی میں مبینہ طور پر چلائے جا رہے جسم فروشی کے اڈے کی مخالفت کرنے پر 25 سالہ کرانہ تاجر بنٹی کمار کو 6 جولائی کو پٹنہ جنکشن کے قریب سے اغوا کر لیا گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں پوری واردات واضح طور پر نظر آ رہی ہے، لیکن مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے والی پولیس نے انہیں تلاش کرنے کے بجائے اہلِ خانہ کو ہی ڈانٹ پھٹکار لگائی۔
انہوں نے مزید لکھا، ’’کل راشٹریہ جنتا دل کے ایک وفد نے اغوا شدہ تاجر کی اہلیہ سے ملاقات کی اور میری ان سے ٹیلی فون پر بات کرائی۔ ہمارے دباؤ کے بعد ہی پولیس نے کل پٹنہ دیہی ضلع کے اتھمل گولا تھانہ علاقے سے ان کی مسخ شدہ لاش برآمد کر کے اہلِ خانہ کو اس کی اطلاع دی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پولیس کو پورے معاملے کی پہلے سے جانکاری تھی۔‘‘
تیجسوی یادو نے مزید لکھا، ’’مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ جسم فروشی کا مبینہ دھندا چلانے والے بے خوف ہو کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس غیر اخلاقی اور ناجائز کمائی کا ایک حصہ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ تک پہنچتا ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری بتائیں کہ ایسے مجرموں اور اس مبینہ نیٹ ورک کے سرغنہ کون ہیں؟انہوں نے الزام عائد کیا کہ بہار کے عوام جانتے ہیں کہ گزشتہ دنوں بی جے پی حکومت قائم ہونے کے بعد پٹنہ جنکشن کے اطراف جسم فروشی کے مبینہ اڈوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اسی علاقے میں حکومت کے ایک بی جے پی وزیر کی رہائش گاہ بھی واقع ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر کا تعلق بھی اسی علاقے سے بتایا جاتا ہے۔
تیجسوی یادو نے مزید سوال اٹھایا، ’’بے گناہوں کے فرضی انکاؤنٹر کرانے والی حکومت شراب مافیا، جسم فروشی کے مبینہ دھندے سے وابستہ عناصر اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے سے کیوں گھبراتی ہے؟ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کی ان مبینہ انسانی اسمگلروں اور جسم فروشی کے دھندے سے وابستہ افراد کے ساتھ آخر کیا ملی بھگت ہے کہ انہیں بچانے میں پوری طاقت صرف کی جا رہی ہے؟‘‘
واضح رہے کہ بنٹی کمار پٹنہ کے نیو کربیگہیا علاقے کے رہائشی تھے، جو جکن پور تھانہ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ 6 جولائی کو کوتوالی تھانہ علاقے میں واقع دودھ منڈی کے قریب سے ان کا مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ملزمان انہیں بائی پاس کے راستے موکامہ کی جانب لے گئے اور بختیار پور-موکامہ فور لین کے قریب قتل کر دیا۔ بعد ازاں ان کی لاش اتھمل گولا تھانہ علاقے کے پھلیل پور گاؤں کے نزدیک زمین میں دبا دی گئی۔ پولیس کئی روز تک بنٹی کمار کی تلاش میں مصروف رہی، تاہم بروقت ان کا کوئی سراغ لگانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network