Bihar

سیمانچل میں بیشتر اوقافی املاک بے تجاوزات اور عدم تحفظ کا شکار:مولانا طارق انور

Published

on

(پی این این)
پورنیہ:اوقاف کے امور کے فعال کارکن اور معروف سماجی کارکن مولانا سید طارق انور نے بہار، بالخصوص سیمانچل خطہ میں واقع قیمتی اوقافی املاک کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ، شفاف انتظام اور مؤثر استعمال کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ امید پورٹل کے آغاز سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ طویل عرصے سے چلی آرہی بے ضابطگیوں پر قابو پایا جائے گا، اوقافی املاک کا منظم ریکارڈ تیار ہوگا، غیر محفوظ اور متنازع اراضی کی نشاندہی ہوگی اور اوقاف کی املاک اپنے اصل مقصد اور عوامی فلاح کے لیے محفوظ ہوسکیں گی۔ تاہم اب تک زمینی سطح پر ایسی پیش رفت واضح طور پر نظر نہیں آرہی ہے جس سے عوام کی توقعات پوری ہوتی دکھائی دیں۔مولانا سید طارق انور نے کہا کہ بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کی مؤثر توجہ اور مسلسل نگرانی نہ ہونے کے باعث سیمانچل کی متعدد وقف املاک آج بھی غیر قانونی قبضوں، مبینہ ناجائز استعمال، تجاوزات اور عدم تحفظ کے مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے پورنیہ کے بنمنکھی، کاجھا، گردا، مہندر پور، رام باغ، روٹا، امور اور بائسی سمیت متعدد علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں موجود وقف املاک کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر پورنیہ شہر کے رجنی چوک اور لکھن چوک کے درمیان واقع چہار دیواری والی وقف اراضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قیمتی شہری اراضی کے تحفظ کے لیے متعلقہ وقف حکام کو بروقت قانونی اور انتظامی اقدامات کرنے چاہئیں، تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔مولانا نے کہا کہ سیمانچل کے دیگر اضلاع، خصوصاً ارریہ، کٹیہار اور کشن گنج میں بھی کروڑوں روپے مالیت کی متعدد اوقافی املاک کے سلسلے میں یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ وہ غیر مصرف، غیر محفوظ یا تنازعات سے دوچار ہیں۔ ایسی املاک کی باقاعدہ نشاندہی، دستاویزات کی جانچ اور قانونی تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ بہت سی مساجد اور قبرستان آزادی سے قبل اور بعد سے مسلسل مسجد اور قبرستان کے طور پر استعمال ہوتے چلے آرہے ہیں، لیکن ان میں سے متعدد اراضی کا ریکارڈ اب تک وقف کے نام سے درست طور پر درج نہیں ہوسکا ہے۔ ایسی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخی استعمال، دستیاب دستاویزات اور مقامی شواہد کی بنیاد پر ایسے مقامات کی قانونی حیثیت واضح کرنے اور ان کے تحفظ کے لیے مناسب راستہ نکالیں۔
مولانا طارق انور نے کہا کہ انہوں نے امید پورٹل پر سیمانچل کی متعدد اوقافی املاک کی تفصیلات اپ لوڈ کرنے کے عمل میں خود حصہ لیا ہے، اس لیے انہیں اس پورے معاملے کی پیچیدگیوں اور زمینی صورتحال کا براہِ راست ادراک ہے۔انہوں نے بتایا کہ امید پورٹل پر نئے اوقاف کے اندراج کے لیے سیمانچل کے درجنوں قبرستانوں اور دیگر اوقافی مقامات کے سلسلے میں درخواستیں دی گئی ہیں، لیکن مطلوبہ اور قدیم دستاویزات کی عدم دستیابی کے باعث متعدد معاملات میں رجسٹریشن کا عمل ابھی زیرِ التوا ہے۔
انہوں نے بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ سے مطالبہ کیا کہ ایسے معاملات میں صرف دستاویزات کی کمی کی بنیاد پر معاملہ زیرِ التوا رکھنے کے بجائے قانونی ماہرین، ریونیو حکام اور متعلقہ مقامی افراد کے تعاون سے دستاویزات کی تکمیل اور زمین کی تاریخی و موجودہ حیثیت کی جانچ کے لیے ایک مؤثر طریق? کار وضع کیا جائے، تاکہ ان اوقافی اراضی کا مستقبل محفوظ ہوسکے۔
مولانا سید طارق انور نے کہا کہ سیمانچل کی بہت سی وقف اسٹیٹس میں ایک طویل عرصے سے باقاعدہ انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نہ ہونے کی وجہ سے بھی متعدد عملی اور انتظامی دشواریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ مقامی سطح پر اہلِ علاقہ اور وقف سے وابستہ افراد کی جانب سے کئی وقف اسٹیٹس کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی درخواستیں بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ، پٹنہ میں طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں، جس کے باعث ان اوقافی املاک کی نگرانی، دیکھ بھال اور قانونی تحفظ کا نظام مؤثر طور پر قائم نہیں ہوپا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وقف املاک کی حفاظت کے لیے مقامی سطح پر ذمہ دار، شفاف اور فعال کمیٹیوں کا قیام نہایت ضروری ہے۔ اس لیے وقف بورڈ کو چاہیے کہ زیرِ التوا درخواستوں کا ترجیحی بنیاد پر جائزہ لے، جہاں قانونی تقاضے مکمل ہوں وہاں بلاوجہ تاخیر کے بغیر کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل مکمل کرے اور جہاں کوئی قانونی یا دستاویزی کمی ہو، وہاں درخواست گزاروں کو واضح طور پر اس کی نشاندہی کرکے ضروری رہنمائی فراہم کرے۔
آخر میں مولانا سید طارق انور نے کہا کہ اوقاف کسی فرد یا خاندان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہیں۔ اس امانت کی حفاظت، درست ریکارڈنگ، قانونی تحفظ اور عوامی فلاح کے لیے استعمال یقینی بنانا متعلقہ وقف اداروں، انتظامیہ اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیمانچل کی اوقافی املاک کے تحفظ کے لیے اب محض کاغذی کارروائی کے بجائے شفاف ریکارڈ، مؤثر نگرانی، قانونی معاونت اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ایسے میں انہوں نے عاجزانہ مگر واضح درخواست کرتے ہوئے کہا کہ بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ ان معاملات کو محض خط و کتابت، معلومات کے حصول یا رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھے، بلکہ وقف املاک کے تحفظ، قانونی حیثیت کے تعین اور ریکارڈ کی تکمیل کے لیے ضروری ادارہ جاتی تعاون، قانونی رہنمائی اور عملی معاونت فراہم کرے، تاکہ قیمتی اوقافی املاک کو مزید نقصان، تجاوزات اور غیر قانونی تصرف سے محفوظ رکھا جاسکے اور یہ امانتیں آنے والی نسلوں کے لیے بھی برقرار رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network