Bihar
سیلاب متاثرین کی امداد میں شریک اساتذہ و طلبہ کے اعزاز میں امیرشریعت کا خصوصی عشائیہ
(پی این این)
مونگیر:امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، سرپرست جامعہ رحمانی و سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے آسام اور اڈیشہ کے حالیہ سیلاب کے دوران راحت رسانی اور بازآبادکاری کے کاموں میں شریک جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے اساتذہ و طلبہ کو، امدادی ٹیم کی واپسی پر ان کے اعزاز میں خصوصی عشائیے پر مدعو کیا۔
یہ عشائیہ محض ایک رسمی ضیافت نہیں تھا بلکہ ان اساتذہ و طلبہ کی خدمت، وقت، محنت اور جذبۂ انسانیت کو تسلیم کرنے اور نئی نسل میں خدمتِ خلق کے جذبے کو مزید مضبوط بنانے کا ایک بامعنی موقع تھا، جس میں حضرت امیرِ شریعت نے ان کی عملی شرکت اور قربانی کو سراہا۔
اسلام نے انسانی خدمت کو محض ایک سماجی ذمہ داری کے بجائے دینی قدر کی حیثیت دی ہے، اور جو لوگ مصیبت کی گھڑی میں دوسروں کے کام آتے ہیں، ان کی قدردانی اور حوصلہ افزائی بھی اسی دینی مزاج کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: “لَا يَشْکُرُ اللَہَ مَنْ لَا يَشْکُرُ النَّاسَ” یعنی جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا۔ حضرت امیرِ شریعت کی جانب سے دیا گیا یہ عشائیہ اسی جذبۂ تشکر و قدردانی کا عملی اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حضرت امیرِ شریعت کی خصوصی ہدایت اور سرپرستی میں امارتِ شرعیہ نے آسام اور اڈیشہ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں روانہ کی تھیں۔ آسام میں راحت رسانی اور بازآبادکاری کے کام کی قیادت امارتِ شرعیہ کے معاون ناظم مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے کی، جبکہ اڈیشہ کی ٹیم کی قیادت مفتی عبد اللہ انس قاسمی کے سپرد رہی۔ ان دونوں ٹیموں میں امارتِ شرعیہ کے علماء و کارکنان کے ساتھ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے اساتذہ اور منتخب طلبہ نے بھی عملی طور پر شرکت کی۔
حضرت امیرِ شریعت کی جانب سے جامعہ رحمانی کے اساتذہ و طلبہ کو اس مہم میں شامل کرنے کے پیچھے ایک اہم تعلیمی و تربیتی مقصد بھی کارفرما تھا۔ جامعہ رحمانی میں تعلیم محض کتابوں اور کلاس روم تک محدود نہیں بلکہ طلبہ میں سماجی ذمہ داری، ہمدردی، قیادت اور معاشرتی مسائل سے عملی وابستگی پیدا کرنا بھی تربیتی عمل کا حصہ ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے درمیان خود پہنچ کر ان کے حالات دیکھنا اور اپنی بساط کے مطابق ان کے کام آنا، طلبہ کے لیے ان اقدار کو عملی تجربے میں ڈھالنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔
واضح رہے کہ آسام اور اڈیشہ کے سیلاب زدہ علاقوں میں امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی امدادی ٹیموں نے کئی روز تک منظم راحت رسانی اور بازآبادکاری کا کام انجام دیا۔ آسام کے ضلع شیو ساگر میں متاثرہ خاندانوں کی گھر گھر نشاندہی کے بعد انہیں لوہے کے پلنگ، بستر کے سیٹ، کچن کا سامان اور مکانات کی تعمیرِ نو کے لیے ٹین شیٹ و بانس فراہم کیا گیا؛ “اب تک 600 خاندان اس امدادی مہم سے مستفید ہو چکے ہیں، جن کی بحالی اور مکمل بازآبادکاری کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔”
اڈیشہ میں بھی امدادی ٹیم نے مفتی عبداللہ انس قاسمی کی قیادت میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے راحت رسانی کا کام انجام دیا۔امارتِ شرعیہ کی مجلسِ شوریٰ نے 3 ستمبر کو امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں آسام و اڈیشہ کے اس ریلیف ورک کو ایک تاریخ ساز اور مثالی خدمت قرار دیا۔