دلی این سی آر
سہارنپو مسجد کی شہادت ہماری بزدلی کا نتیجہ : زیڈ کے فیضان
نئی دہلی :پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ سہارنپور کلکٹریٹ مسجد کی شہادت دراصل بابری مسجد کے تعلق سے ہماری خاموشی اور سرنڈر کا نتیجہ ہے جسے ہماری بزدلی سے تعبیر کیا گیا اور نتیجتاً مساجد،خانقاہوں،درگاہوں، مزارات، مدارس سمیت ہمارے مذہبی مقامات پر بلڈوزر چلاءے جانے کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا جو ہنوز جاری ہے ۔ دراصل سرکار اور فرقہ پرست عناصر نے یہ سمجھ لیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کچھ بھی کیا جائے وہ آواز اُٹھانے والا نہیں ہے – اس بات کا سب سے افسوس ناک اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ہماری ملی جماعتیں اور مسلم سیاسی تنظیمیں صرف امن اور احتیاط کی تلقین پر مبنی بیانات اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی بات کہہ کر پلہ جھاڑ لیتی ہیں ، کسی احتجاج اور عوامی ردعمل کا پروگرام نہیں بناتیں جو کسی جمہوری نظام میں ایک اہم اور لازم ہتھیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ سارے مسائل عدالت سے حل نہیں ہوتے بلکہ واقعہ تو یہ ہے کہ سرکاریں عدالت کا سہارا لے کر اسی کی ہی آڑ میں آسانی سے ظلم، زیادتی اور من مانی کرتی ہیں ۔ لہذا اس طرح کے مسائل کے حل کے لئے عوامی احتجاج ضروری ہو جاتا ہے۔سہارنپور کلکٹریٹ کی مسجد شہید کر دی گئی ، اب یہ زمینی حقیقت ہے کہ آپ کچھ بھی کر لیں، نہ تو سپریم کورٹ وہاں دوبارہ مسجد بنانے کا آرڈر پاس کرنے جا رہی ہے اور نہ ہی کوئی سرکار برسر اقتدار آنے کے بعد ایسا کر سکے گی ۔ لہذا آیندہ کے لئے عوامی احتجاج کے ذریعے بلڈوزر کو روکنے کی اسٹریٹجی بنانی پڑے گی اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو مرادآباد کی زیرِ بحث مسجد بھی نہیں بچا سکیں گے جس پر تلوار لٹک چکی ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا میں کسی بھی طرح کی اور کوئی بھی سرکار ہو وہ صرف عوامی احتجاج کے سامنے ہی جھکتی ہے –
زیڈ کے فیضان نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ بیشتر سیاسی پارٹیوں اور برادران وطن نے اس کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے مگر اتر پردیش کی سب سے بڑی پارٹی، سماج وادی پارٹی، کے لیڈر اکھلیس یادو اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی ابھی بھی کھل کر سامنے آنے سے گریز کر رہے ہیں اور نرم ہندوتوا کی سیاست سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہیں – انھوں نے کہا کہ جو راہل گاندھی دیگر مسائل کو لے کر فوراً خود میدان عمل میں اتر جا رہے ہیں وہ سہارنپور کلکٹریٹ مسجد معاملے میں کھل کر بولنے سے کیوں کترا رہے ہیں اور اس معاملے کو پارٹی کی صوبائی اور دوسری بلکہ تیسری صف کی قیادت پر چھوڑ دیا ہے جیسے یہ کوئی اہم معاملہ نہ ہو جب کہ انھیں سمجھنا چاہئے کہ بیس کروڑ آبادی والے ایک طبقے کی عبادت گاہ کو بنا کسی جواز کے قانون اور دستور کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بزور طاقت علی الاعلان شہید کر دیاگیا ۔ انھوں نے راہل گاندھی ، اکھلیس یادو اور مایاوتی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات پر اپنا موقف واضح کریں کہ اگر آنے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے نتیجے میں ان کی حکومت تشکیل پاتی ہے تو وہ کلکٹریٹ مسجد کو دوبارہ اسی جگہ بنوانے کے لئے عدالت میں مثبت حلف نامہ داخل کرتے ہوئے راہ ہموار کریں گے