دلی این سی آر

ستیہ نکیتن میں حادثے کے بعد ’’آپ‘کا احتجاج

Published

on

نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے اراکین اسمبلی اور کونسلروں نے ستیہ نکیتن عمارت حادثے کے سلسلے میں پیر کو بی جے پی رکن اسمبلی انیل شرما کے گھر کے باہر زوردار احتجاج اور نعرے بازی کی۔ اس موقع پر ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ستیہ نکیتن علاقے میں بڑی تعداد میں پی جی چل رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ریکھا گپتا حکومت ستیہ نکیتن میں کون سا پی جی کس کا ہے، اس کی فہرست جاری کرے۔ اس سے معلوم ہوجائے گا کہ کون سا پی جی کس کا ہے، پی جی مافیا کون چلا رہا ہے، جو مہنگے پی جی میں طلبہ کا استحصال کر رہا ہے، اور ایم سی ڈی ان غیر قانونی پی جی کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت کیوں نہیں کر پا رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ پی جی میں بی جے پی کے بڑے بڑے لیڈروں کی موٹی رقم لگی ہوئی ہے۔ جب بڑے بڑے لیڈر پی جی چلائیں گے تو ایم سی ڈی کا انجینئر یا پولیس کانسٹیبل کارروائی کیسے کر سکتا ہے؟ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اتوار سے سوشل میڈیا پر لوگ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کے بڑے بڑے لیڈروں نے یہاں جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔ طلبہ کے ساتھ پی جی کے نام پر جو لوٹ ہو رہی ہے اور ایم سی ڈی اس پر جو کارروائی نہیں کر رہی ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں بہت بڑے بڑے لیڈروں نے جائیدادیں لے رکھی ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ہمارا ریکھا گپتا سے مطالبہ ہے کہ یہاں کس کس کی جائیداد ہے، اسے عوام کے سامنے لایا جائے۔ اس سے لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ کون کون لوگ یہاں پی جی مافیا چلا رہے ہیں۔ اس فہرست کے سامنے آنے سے یہ باتیں بھی بے نقاب ہوجائیں گی کہ کون سے لیڈر مہنگے پی جی میں طلبہ کا استحصال کر رہے ہیں؟ ایم سی ڈی ان کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت کیوں نہیں کر پاتی؟ ان میں کالے دھن کی سرمایہ کاری کیسے کی جاتی ہے اور کالا دھن کیسے پیدا کیا جا رہا ہے؟ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ مرکزی حکومت کو یہاں بچوں کے لیے ہاسٹل بنوانے چاہئیں۔ جب تک ہاسٹل بن کر تیار نہیں ہوجاتے اور بچوں کو الاٹ نہیں کیے جاتے، تب تک حکومت کی جانب سے بچوں کی پی جی فیس ادا کی جانی چاہیے۔ ایسا کرنے پر ہی حکومت جلد ہاسٹل بنائے گی، ورنہ حکومت نہیں بنائے گی۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ طلبہ کے ساتھ اتنا کچھ ہوا اور آج تمام طلبہ تنظیمیں یہاں موجود ہیں، لیکن دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود کہاں ہیں؟ وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ ریکھا گپتا کبھی کسی وزیر کے ساتھ آ رہی ہیں تو کبھی کسی کے ساتھ، لیکن طلبہ کے وزیر تعلیم آشیش سود گوا میں ہیں۔ وہ گوا میں کیا کر رہے ہیں؟ اتوار کو انہوں نے دوپہر 3 بجے ٹویٹ کیا کہ یہ حادثہ ہوگیا ہے اور بہت بری بات ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں حادثے کی اطلاع مل گئی تھی، پھر شام 4 بجے وہ فلائٹ پکڑ کر گوا کیوں چلے گئے؟ اس بات کا جواب ریکھا گپتا دیں۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ یہاں کسی ایک کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کی معطلی سے کچھ نہیں ہوگا۔ جن بڑے بڑے بی جے پی لیڈروں کا پیسہ یہاں لگا ہوا ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کا استحصال ہو رہا ہے، ان کے نام عوام کے سامنے لائے جانے چاہئیں۔دوسری جانب، براڑی سے رکن اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ سب سے بڑی کارروائی ان وزراء کے خلاف ہونی چاہیے جنہوں نے بڑے بڑے وعدے کیے تھے۔ ساکیت حادثے کے بعد دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمارتوں کا آڈٹ ہوگا۔ اگر واقعی آڈٹ ہوا ہوتا تو آج یہ حادثہ نہ ہوتا۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر بتائیں کہ گزشتہ چھ ماہ میں کتنی عمارتوں کا آڈٹ ہوا، کتنی عمارتیں سیل کی گئیں اور کتنی عمارتیں گرائی گئیں؟ جہاں یہ حادثہ ہوا ہے، وہاں پہلے بھی عمارتیں گری ہیں اور آئندہ بھی گریں گی، کیونکہ اس کے آس پاس بی جے پی کے بااثر لیڈروں کی کئی عمارتیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا صرف چھوٹے افسران کے خلاف کارروائی کا دکھاوا کرکے بچ نہیں سکتی ہیں۔ انہیں ان وزراء سے استعفیٰ لینا چاہیے جن کی لاپروائی اور نااہلی کے باعث مختلف ریاستوں سے اپنا کیریئر بنانے دہلی آئے ان بچوں کی جان چلی گئی، جن کے والدین اپنی خون پسینے کی کمائی ان کے لیے بھیجتے تھے۔ سنجیو جھا نے کہا کہ غیر ارادی قتل کا مقدمہ درج کرکے صرف معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک خستہ حال عمارت کے بیسمنٹ میں کھدائی کرنا کوئی حادثہ نہیں، بلکہ براہِ راست ایک وحشیانہ قتل ہے۔ غیر ارادی قتل کی کمزور ایف آئی آر درج کرکے مالک کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ اسے آسانی سے ضمانت مل جائے۔ مالویہ نگر حادثے کے بعد بھی بڑے بڑے ہوٹل اور عمارت مالکان کو ڈرا کر کروڑوں روپے کی وصولی کی گئی تھی۔ ایم سی ڈی کی جانب سے کی جانے والی یہ پوری کارروائی صرف وصولی کا ایک ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے خود درجنوں خطوط لکھ کر بلڈنگ بائی لاز اور حفاظتی معیارات کی خلاف ورزیوں کی شکایات کی ہیں، لیکن کبھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس سے واضح ہے کہ حکومت بلڈنگ مافیاؤں کو تحفظ دے کر صرف ایکسٹورشن منی وصول کر رہی ہے۔ سنجیو جھا نے مطالبہ کیا کہ ساکیت حادثے کے وقت کیے گئے وعدوں کا حساب دیا جائے کہ چھ ماہ میں کتنی سخت کارروائی ہوئی۔ دوسرا، صرف چند افسران کو معطل کرکے اور کمزور ایف آئی آر درج کرکے حکومت اپنی ذمہ داری سے نہیں بھاگ سکتی۔ بدعنوانی اور لاپروائی کے ذمہ دار وزراء کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے۔ تیسرا، وزیر اعظم ڈیو میں آکر بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں اور وزیر اعلیٰ بھی کالجوں میں چائے پینے پہنچ جاتی ہیں، لیکن انہیں طلبہ کی محفوظ رہائش کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ہر کالج میں طلبہ کے لیے ہاسٹل بنائے جائیں اور ہاسٹل بننے تک پی جی کا کرایہ حکومت خود برداشت کرے۔ اس سے نوجوانوں کو اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایسی غیر محفوظ عمارتوں میں رہنے پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا۔ اگر حکومت نے وقت رہتے اقدامات نہیں کیے تو سڑکوں پر اتر کر سخت احتجاج کیا جائے گا۔تلک نگر سے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ نے کہا کہ چند لوگوں کے چند روپوں کے لالچ میں کب تک لوگوں کی جان سے کھلواڑ ہوتا رہے گا؟ ملک بھر سے بچے اپنے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے دہلی آتے ہیں، لیکن انہیں انتہائی غیر محفوظ ماحول میں رہنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ یہ حادثہ انتہائی افسوسناک ہے، جس میں سے اب تک سات لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور معلوم نہیں کتنے بچے ابھی بھی اپنے خوابوں کے ساتھ اس ملبے میں دفن ہیں۔ جرنیل سنگھ نے کہا کہ اب حد ہوچکی ہے اور ذمہ داریاں طے ہونی چاہئیں۔ ایم سی ڈی کا بلڈنگ ڈپارٹمنٹ آخر کیا کر رہا ہے اور حکومت اتنی بے فکر ہوکر کیوں بیٹھی ہے؟ وزیر اعظم ہفتے کے روز ہی ڈیو میں بڑی بڑی باتیں کرکے آئے ہیں، لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔ سوال پوچھنے والوں کو ذہنی نکسل کہہ دینے سے کام نہیں چلے گا۔ ملک کے نوجوان پریشان ہیں۔ والدین قرض لے کر اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے دہلی بھیجتے ہیں، لیکن یہاں وہ جس جان لیوا ماحول میں رہ رہے ہیں، اس کی جواب دہی کس کی ہے؟ کیا بلڈنگ ڈپارٹمنٹ اور دہلی پولیس کا کام صرف پیسے وصول کرنا رہ گیا ہے؟ جرنیل سنگھ نے کہا کہ اگر حکومت کی نیت صاف ہے اور متاثرہ خاندانوں کے تئیں ذرا سی بھی ہمدردی ہے تو اسے اس معاملے میں ایک سخت مثال قائم کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کو روکا جا سکے۔ اس وارڈ کے بلڈنگ ڈپارٹمنٹ کے جے ای، اے ای اور ایکس ای این کی فوری طور پر جواب دہی طے کی جانی چاہیے۔ برسات کے موسم میں اگر بیسمنٹ بن رہی تھی تو بلڈنگ ڈپارٹمنٹ والے رشوت لینے کے لیے دو گھنٹے کے اندر وہاں پہنچ گئے ہوں گے۔ ان بدعنوان افسران کے خلاف اتنی سخت کارروائی ہونی چاہیے کہ مستقبل میں پیسوں کے لیے لوگوں کی جان سے کھیلنے کا سوچنے والوں کی بھی روح کانپ اٹھے۔ کونڈلی سے رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ پرانی عمارت بند پڑی تھی، اسے دوبارہ شروع کرانے اور اس میں کھدائی کرانے کا کام کیا گیا۔ ایم سی ڈی اور بی جے پی کیا کر رہی ہے؟ دہلی کے اندر بیٹھ کر ان کے رکن اسمبلی اور لیڈر دلالی کر رہے ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ اس وقت شہری ترقی کے وزیر آشیش سود کہاں ہیں؟ یہاں ہمارے بچے ملبے میں دب کر مر رہے ہیں اور وہ گوا میں چھٹیاں منا رہے ہیں۔ وہ گوا میں بی جے پی کے پروگراموں کا افتتاح کر رہے ہیں، کلبوں میں گھوم رہے ہیں اور موج مستی کر رہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی بے رحم حکومت ہے، جس کے اندر کوئی رحم کا جذبہ باقی نہیں رہا ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ بھی ایسے حساس موقع پر صرف بہانے بناتی ہیں اور اپنی ذمہ داری سے بھاگتی ہیں۔ ایم سی ڈی میں قائد حزب اختلاف انکش نارنگ نے کہا کہ ستیہ نکیتن میں پی جی کی عمارت گرنے کے معاملے میں پیر کو بی جے پی رکن اسمبلی انیل شرما کے گھر کے باہر عام آدمی پارٹی کے اراکین اسمبلی اور میونسپل کونسلروں نے احتجاج کیا۔ دہلی میں بی جے پی حکومت اور بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی کی لاپروائی کے باعث کب تک بچوں کی جانیں جاتی رہیں گی؟ بی جے پی حکومت کو ستیہ نکیتن علاقے میں چلنے والے تمام پی جی کی فہرست عوام کے سامنے لانی چاہیے اور بتانا چاہیے کہ ان میں سے کتنے پی جی قواعد کے مطابق چل رہے ہیں۔ آخر غیر قانونی پی جی اور خطرناک عمارتوں کے خلاف بی جے پی کی چار انجن والی حکومت کی کارروائی کب ہوگی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network