دلی این سی آر

ساکیت پولیس اسٹیشن میں خواتین صحافیوں پر مبینہ تشدد کی شدید مذمت

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی خواتین ونگ نے نئی دہلی کے ساکیت پولیس اسٹیشن میں دو آزاد خواتین صحافیوں، شاہین خان اور نفیسہ خان کے ساتھ مبینہ تشدد، غیر قانونی حراست اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی سخت مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ 3 ستمبر 2026 کو پیش آیا۔قومی خواتین ونگ کی کنوینر اور پارٹی کی نیشنل جنرل سکریٹری محترمہ شیما محسن نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صحافی ایک عوامی پروگرام میں سوالات کرنے کے بعد اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں کہ انہیں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے زبانی ہراسانی اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ محض پولیس کی بدسلوکی کا معاملہ نہیں بلکہ آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ خاص طور پر یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے کہ مبینہ طور پر ان کی مذہبی شناخت معلوم ہونے کے بعد پولیس اہلکاروں کا رویہ مزید جارحانہ ہوگیا۔ مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی شہری کو نشانہ بنانا آئین کے بنیادی اصولوں اور قانون کی حکمرانی کے منافی ہے۔
شیما محسن نے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور عدم برداشت پہلے ہی ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔ جب سیاسی رہنماؤں کی نفرت انگیز تقاریر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مبینہ خاموشی یا چشم پوشی ایسے رویوں کو تقویت دیتی ہے تو اس کے نتائج جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہراساں یا تشدد کا نشانہ بنانا جمہوریت پر براہِ راست حملہ ہے۔ اور اگر خواتین صحافیوں کو پولیس اسٹیشن جیسی جگہ پر بھی تحفظ حاصل نہ ہو تو یہ اس امر کا سنگین سوال ہے کہ سوال پوچھنے اور اختلاف کی آواز بلند کرنے والی خواتین کے لیے ملک میں عوامی مقامات کس قدر محفوظ رہ گئے ہیں۔ معزز سپریم کورٹ اس واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے بنیادی حقوق اور آزادیٔ صحافت کی اس مبینہ خلاف ورزی کا جائزہ لے۔2. واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دار عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور قصوروار پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
3. مبینہ تشدد اور بدسلوکی میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے اور تحقیقات کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔4. دہلی پولیس کمشنر اور وزارتِ داخلہ واقعے کی جواب دہی یقینی بنائیں اور صحافیوں، بالخصوص خواتین صحافیوں، کے لیے ایسا محفوظ اور امتیاز سے پاک ماحول یقینی بنائیں جہاں وہ بلاخوف اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے سکیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی جنس، مذہب یا سماجی پس منظر سے ہو۔ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کا قومی خواتین ونگ شاہین خان اور نفیسہ خان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ان تمام آزاد صحافیوں کے ساتھ کھڑا ہے جو دباؤ اور خوف کے باوجود سچائی، آزادیٔ اظہار اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network