دلی این سی آر
روشن خیال اور وژنری شخصیت کے حامل تھےپریم چند ر: شانتنو مکھرجی
(پی این این)
نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے زیر اہتمام لکچر روم 2 انیکسی انڈیا انٹرنیشنل سینٹر نئی دہلی میں 31 جولائی 2026 کو ایک پینل ڈسکشن بعنوان آج کے تناظر میں پریم چند کی معنویت’ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر صغیر افراہیم(ممتاز ناقد و محقق،سابق صدر شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ) نے کی جبکہ بحیثیت مہمان خصوصی ڈاکٹر شانتنو مکھرجی (ریٹائرڈ آئی پی ایس، سابق مشیر برائے قومی سلامتی ماریشس و ڈائرکٹرخسرو فاؤنڈیشن،نئی دہلی) اور بطور پینلسٹ پروفیسر شہزاد انجم (کارگذار ڈائرکٹر،جے پی اے ایل سی،سابق صدر شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی) اور سائرہ مجتبیٰ (معروف مترجم و نیوز اینکر،آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی) شریک ہوئے، جبکہ اس پروگرام کی نظامت نہاں رباب (اسسٹنٹ ایڈیٹر این سی پی یو ایل) نے کی ۔
استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد شمس اقبال (ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی) نے کہا کہ پریم چند ایک ایسے ادیب ہیں جنھوں نے اس ملک کی پچاس فیصد آبادی پر اثر ڈالا ہے۔ان کا فکشن نہ صرف اردو اور ہندی بلکہ تمام ہندوستانی ادبیات پر اپنا اثر رکھتا ہے اور دنیا کی تمام ترقی یافتہ زبانوں میں ان کی تخلیقات شائع ہوچکی ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پریم چند اردو فکشن کے سب سے موثر ادیب کے طور پرابھرتے ہیں۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے پریم چند کی تمام تخلیقات پر مشتمل چوبیس جلدوں میں کلیات منشی پریم چند شائع کیا، اس کے علاوہ کمل کشور گوئنکا اور دیگر پریم چند شناس ادیبوں کی تحریریں ھی کونسل شائع کرچکی ہے۔بطور ڈائرکٹر پریم چند کے یوم پیدائش کی مناسبت سے اس پینل ڈسکشن کا اہتمام کرتے ہوئے مجھے حد درجہ مسرت ہورہی ہے۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر شانتنو مکھرجی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہندوستانی ادب میں جو ان کی خدمات ہیں وہ نمایاں ہیں اور ان کے نقوش انمٹ ہیں،انھوں نے پریم چند کی مختلف کہانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پریم چند کسی بھی مسئلے میں بنیاد کو پکڑتے ہیں اور پھر اس کو تمام باریکیوں کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عورتوں کے مسائل میں بھی پریم چند نے جس روشن خیالی کا مظاہرہ کیا وہ وہی کرسکتے تھے ان کی شخصیت وژنری تھی۔ انھوں نے گفتگو کے آخر میں پریم چند کی کہانی ‘دنیا کا سب سے انمول رتن’ بھی اپنے مخصوص لہجے میں پڑھ کر سنائی۔
صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ پریم چند احساسات اور جذبات کے ادیب ہیں، پریم چند نے اپنے کو دولت کے لیے نہیں بلکہ ادب اور سماج کے لیے وقف کر دیا تھا،پریم چند پہلے فکشن نگار ہیں جن کے اندر حب الوطنی کا جذبہ نمودار ہوا۔ ان کی کہانیاں بظاہر سادہ معلوم ہوتی ہیں لیکن ان کی تہ بہ تہ جزئیات ان کو خاصی معنی خیز بناتی ہیں۔پریم چند سماج کے کسی بھی طبقے کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ وہ ان چیزوں پر انگلی رکھتے ہیں جن سے سماج میں تبدیلی پیدا ہو۔پریم چند کو آج تقریباً دنیا کے تمام ممالک میں پڑھایا جا رہا ہے ، جس کی بنیادی وجہ ان کا تصور انسان و انسان دوستی ہے۔
اس پروگرام کے پینلسٹ پروفیسر شہزاد انجم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی اردو کونسل مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے پریم چند پر اس اہم مذاکرے کا انعقاد کیا۔انھوں نے کہا کہ دنیا میں شاید ہی کوئی زبان ہو جس میں پریم چند کا ترجمہ نہ ہوا ہو،پریم چند نجی زندگی میں بہت سادگی پسند تھے،مشکلات کا سامنا بھی کیا لیکن سماج کے مسائل کو واشگاف کرنے کے معاملے میں بہت ہی زیادہ حساس تھے،انھوں نے پریم چند کے کرداروں پر روشنی ڈالتے ہوئے موجودہ سماجی تناظر کو بھی ان سے جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا کہ پریم چند نے زبان کی سطح پر بھی اس وقت ایک بڑی تبدیلی پیدا کی تھی جس میں انھوں نے مشترکہ تہذیب کی جھلک پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔پریم چند ہندوستانی ادب کے معمار اور سرخیل تھے،جن پر گفتگو ہوتی رہنی چاہیے۔پریم چند کی شخصیت اور فن کی معنویت آج بھی برقرار ہے۔
محترمہ سائرہ مجتبیٰ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پریم چند نے جس سماج کا منظرنامہ اپنی تخلیقات میں پیش کیا تھا موجودہ منظرنامہ اس سے بہت مختلف نہیں ہے، اب بھی سماج میں ایسی فکر موجود ہے جس کو بدلنے کے لیے محنت کی ضرورت ہے،پریم چند کا تصور ایک بہتر انسانی سماج کی تشکیل کا تصور تھا، آج بھی ہمیں اس تصور کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
مذاکرے کے آغاز سے قبل شال پوشی کے ذریعے مہمانوں کا استقبال کیا گیا۔اس پروگرام میں پریم چند پر خصوصی گوشے پر مشتمل قومی اردو کونسل کے رسالے ماہنامہ’اردو دنیا‘ اور سہ ماہی ’فکر و تحقیق ‘کے ترجمہ نمبر کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ ڈاکٹرمسرت(ریسرچ آفیسر) کے کلماتِ تشکر کے ساتھ یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ اس پروگرام میں کونسل کے اسٹاف کے علاوہ دہلی کے اہل علم و قلم ، دانشوران، اساتذہ و ریسرچ اسکالرز کی بڑی تعداد موجود رہی۔