Bihar

دینی مدارس کو مٹانے کیلئے پھیلائی جارہی ہیں غلط فہمیاں،امارتِ شرعیہ کی مجلسِ عاملہ کا اہم فیصلہ،موجودہ وقت میںمرکزی اور ریاستی حکومتوں کے نشانے پر ہیں ملک کے بیشتر مدارس و مکاتب ،ان کی قانونی دشواریوں کو حل کرنے کے لیے مرتب کیا جائے گا لائحہ عمل: حضرت امیرشریعت

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:اس وقت ملک کے بیشتر دینی مدارس و مکاتب مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے نشانے پر ہیں، ان کی تہذیبی اقدار اور ملی شناخت کو مٹانے کے لیے ان کے خلاف ملک میں غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں اور اس کے لیے نت نئے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، جو کہ زمینی حقیقت سے بالکل پرے ہیں، یہ تمام ملی ادارے آئین و دستور کے مطابق قائم ہیں،ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سب اس کی حفاظت و بقا کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں اور ملکی قانون کی شرائط کے مطابق اس کے معیارِ تعلیم کو بلند کرنے کی کوشش کریں۔
ان خیالات کا اظہار امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال مفکرِ ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی (مدظلہ) نے امارتِ شرعیہ کی مجلسِ عاملہ میں کیا۔ یہ مجلس 3/ستمبر 2026ء کو حضرت امیرِ شریعت کی صدارت میں زوم ایپ ،،(ZOOM) پر منعقد ہوئی، جس میں آن لائن اور آف لائن اراکینِ عاملہ نے شرکت کی اور فیصلہ کیا کہ مدارس و مکاتب کی قانونی دشواریوں کو حل کرنے کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور وہ تمام مدارس کو فراہم کر دیا جائے،حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی (نائب امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال)نے کہاکہ مدارس کے تعلق سے پورے ملک میں تشویش و بے چینی پھیلی ہوئی ہے،امارتِ شرعیہ ہر مشکل وقت میں امت کی رہنمائی کرتی رہی ہے، اگر اس موضوع پر مدارس کے ذمہ داروں کا اجتماع طلب کر کے ان کی رہنمائی کی جائے تو بہتر رہے گا۔
مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی (ناظم امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال ) نے اراکین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات نے اپنی مصروفیات سے وقت فارغ کر کے میٹنگ میں شرکت کو ترجیح دی، اس سے آپ کی ملی ہمدردی کا اندازہ ہوتا ہے،ان شاء اللہ، آپ کی قیمتی آراء سے روشنی ملے گی، انہوں نےمدارس کے نظام تعلیم وتربیت بہتر بنانے پرزور دیا اور حساب وکتاب آڈٹ کرانے کی بات کہی ،مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی (صدر قاضی شریعت مرکزی دارالقضا امارت شرعیہ ) نے کہاکہ اگر مدارس کا تعلیمی معیار بلند ہو اور اس کے کاغذات درست ہوں تو نقطہ چینیوں کی زبانیں خود بخود بند ہو جائیں گی، مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی (نائب ناظم امارت شرعیہ )نے کہا کہ مدارس کے ساتھ دو طرح کی دشواریاں ہیں: ایک داخلی اور دوسری خارجی۔ ہم سب کو ان دونوں محاذوں پر کام کرنا ہوگا،مولانا مفتی محمد سہراب ندوی (نائب ناظم امارت شرعیہ ) نے کہامدارس کا رجسٹریشن کرانے اور قانونی چارہ جوئی کے لیے لیگل کمیٹی تشکیل دینے پر زور دیا۔
مولانا جمیل احمد رحمانی (استاذِ حدیث و فقہ، جامعہ رحمانی مونگیر) نے کہا سیمانچل کے علاقوں میں جو مدارس قائم ہیں، وہاں کے ذمہ دارانِ مدارس زیادہ پریشان ہیں۔ اس علاقے کے اہل ترین لوگوں سے ملاقات کر کے انہیں صحیح رہنمائی فراہم کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔
حاجی محمد عارف رحمانی (ناظم جامعہ رحمانی مونگیر)نے کہاسرحدی علاقوں میں قائم مدارس کے منتظمین کی خصوصی میٹنگ طلب کی جائے اوران کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکمتِ عملی بنائی جائے،جناب ذاکر بلیغ ایڈوکیٹ نےکہا چمپارن کے علاقوں کے مدارس میں پیش آنے والی دشواریوں کا تذکرہ کیا کہ سرکاری جانچ کمیٹی مدرسوں کے ذمہ داروں سے لین دین کا معاملہ کرتی ہے، تاہم ہم لوگوں کی جدوجہد سے اس پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے،مولانا ظفر عالم (اڈیشہ)نے کہاکہ ہر مسلم آبادی کے چھوٹے مدارس کو کسی بڑے معیاری مدرسے سے جوڑا جائے اور اس کو مرکزیت کا درجہ دے کر دونوں کو قوت بخشی جائے۔
،اور مولانا مفتی احتکام الحق قاسمی (قائم مقام مفتی دارالافتاء، امارتِ شرعیہ)مولانا مفتی انور قاسمی (قاضی شریعت دارالقضا، رانچی)، جناب عطا اللہ صدیقی (جھارکھنڈ)، جناب ایس ایم شرف، جناب جاوید اقبال ایڈوکیٹ، مولانا صبغت اللہ رحمانی (کٹک)نے مدارس کے معیارِ تعلیم کو بلند کرنے اور سرکاری شرائط کے مطابق کاغذات کو درست رکھنے پر توجہ دلائی۔
مجلسِ عاملہ کی نشست میں امیرشریعت اور ناظم امارتِ شرعیہ کی ہدایت پر جھارکھنڈ میں چلائی گئی ووٹر بیداری تحریک کی ستائش کی گئی،مولانا قیام الدین قاسمی نے تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جھارکھنڈ کے ۲۴ اضلاع کے ۵۶ مقامات پر اجتماعات ہوئے، اور علماء، سماجی ذمہ داروں و نوجوانوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، آسام اور اڈیشہ کے حالیہ تباہ کن سیلاب میں امارتِ شرعیہ نے جنگی پیمانے پر راحت رسانی اور بحالی کا کام کیا، آسام کی امدادی ٹیم کی قیادت مولانا احمد حسین مدنی قاسمی، اور اڈیشہ ٹیم کی قیادت مولانا عبداللہ انس قاسمی نے کی،ان دونوں ٹیموں میں امارت شرعیہ کے کارکنا ن،مبلغین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے اساتذہ کرام وفضلاءشامل تھے ، امارتِ شرعیہ نے سینکڑوں خاندانوں کے درمیان خوراک، بستر، کچن سیٹ اور مکانات کی تعمیر کا سامان تقسیم کیا، مجلسِ عاملہ کی کارروائی کا آغاز مولانا احمدحسین مدنی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا،مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے تجویز تعزیت پیش کی، جبکہ مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نے اجلاس کی کارروائی بحسن و خوبی چلائی،اجلاس میں جناب حافظ محمداحتشام رحمانی صاحب ، جناب مولانا رضوان احمد ندوی معاون ناظم امارت شرعیہ بھی شریک رہے ،آخر میں یہ اجلاس حضرت امیرِ شریعت مدظلہ کی دعا پر اختتام پذیرہوئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network