Bihar

دنیا کی کوئی بھی طاقت ہماری پارٹی کے وجود کومٹا نہیںسکتی،راشٹریہ لوک مورچہ کے بی جے پی میں انضمام کی خبروں کو اوپیندر کشواہا نے کیا یکسر مسترد

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:راشٹریہ لوک مورچہ کے صدر اوپیندر کشواہا نے اپنی پارٹی کے بی جے پی میں انضمام سے متعلق قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ کل ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پارٹی کا بی جے پی میں انضمام کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اوپیندر کشواہا نے کہا کہ ہم اتحاد کے اصولوں اور ذمہ داریوں کو نبھانے والے لوگ ہیں اور اتحاد میں شامل سب سے بڑی جماعت کا احترام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’’ہم پوری مضبوطی کے ساتھ این ڈی اے کے ساتھ تھے، این ڈی اے کے ساتھ ہیں اور آئندہ بھی این ڈی اے ہی کے ساتھ رہیں گے۔ اس بارے میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
اوپیندر کشواہا نے کہا، ’’کئی ماہ قبل یہ خبریں گردش میں تھیں کہ راشٹریہ لوک مورچہ کا انضمام ہونے والا ہے۔ بعض میڈیا چینلوں نے تو اس کے لیے تاریخ تک کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ تمام معاملات طے پا چکے ہیں اور صرف رسمی کارروائی باقی رہ گئی ہے، حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ آپ 100فیصد یقین رکھیں کہ راشٹریہ لوک مورچہ کا وجود کسی ایک عہدے یا منصب کی خاطر ختم نہیں ہوگا۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت ہماری جماعت کے وجود کو اس بنیاد پر ختم نہیں کر سکتی۔پارٹی کے ریاستی کنونشن کے دوران اوپیندر کشواہا نے کہا کہ وہ این ڈی اے کا حصہ ہیں اور آئندہ بھی اسی اتحاد کے ساتھ رہیں گے۔ قابلِ ذکر ہے کہ قانون ساز کونسل (ودھان پریشد) کا ٹکٹ ان کے بیٹے کو نہ ملنے کے باعث ان کی ناراضی کی خبریں سامنے آ رہی تھیں۔اس موقع پر اوپیندر کشواہا نے کہا: ’’اوپیندر کشواہا صرف ایک خاندان ہی نہیں چلاتا بلکہ ایک سیاسی جماعت کی قیادت بھی کرتا ہے اور آپ سبھی لوگ اس جماعت کا اہم حصہ ہیں۔‘‘
واضح ہوکہ بہار میں 18 جون کو ہونے والے قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) انتخابات سے قبل این ڈی اے کے اندر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اس بحث کا مرکز بہار حکومت کے وزیر اور قومی لوک مورچہ کے سربراہ اوپیندر کشواہا کے بیٹے دیپک پرکاش ہیں، جن کا نام این ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ ایم ایل سی امیدواروں کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔اس کے بعد دیپک پرکاش کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
آئینی ضابطوں کے مطابق اگر کوئی وزیر اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن نہ ہو تو اسے 6ماہ کے اندر کسی ایک ایوان کی رکنیت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔دیپک پرکاش فی الحال وزیر ہیں، اس لیے ایم ایل سی امیدواروں کی فہرست میں ان کا نام شامل نہ ہونے کے بعد ان کے وزارتی عہدے پر بحران کے امکانات اور سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network