Bihar

’دعوتِ گفتگو‘کے تحت ایک علمی و ادبی مذاکرہ کا انعقاد

Published

on

گیا جی : شہر کے نیو کریم گنج میں واقع مولانا انوارالحق اردو لائبریری میں جمعہ کی شام ’’دعوتِ گفتگو‘‘ کے تحت ایک علمی و ادبی مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں ادب، علم اور فکر کے دو اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ پہلا موضوع ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ ممتاز افسانہ نگار و ادیب پروفیسر حسین الحق کی شخصیت اور ادبی خدمات تھا، جبکہ دوسرا موضوع بھارت رتن اور سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی تصنیفی خدمات اور ان کے افکار کی عصری معنویت پر مشتمل تھا۔
مقررین نے کہا کہ پروفیسر حسین الحق نے اپنی تخلیقات میں انسانی رشتوں، سماجی تبدیلیوں اور عوامی زندگی کے مسائل کو نہایت حساس اور فنی انداز میں پیش کیا، جس کی وجہ سے انہیں اردو فکشن میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
اس موقع پر ان کی غیر مطبوعہ تحریروں پر مشتمل دو کتابوں ’’حسین الحق: فن اور فنکار‘‘ اور ’’حسین الحق: مسافر کا خواب‘‘ کی رسمِ اجرا بھی انجام دی گئی۔ ان کتابوں کی تدوین ان کے صاحبزادے ڈاکٹر سید عینین علی حق نے کی ہے۔ مقررین نے اسے اردو ادب کے لیے ایک اہم اضافہ قرار دیا۔
دوسرے اجلاس میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی سائنسی، تعلیمی اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ان کی تحریریں نوجوانوں میں علم، تحقیق، سائنسی مزاج اور قومی خدمت کا جذبہ پیدا کرتی ہیں اور ان کی زندگی عزم، دیانت اور محنت کی روشن مثال ہے۔
جلسے کی صدارت پروفیسر سید احمد قادری نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض شارے علی حق نے انجام دیے۔ مذاکرے سے پروفیسر قاسم فریدی، پروفیسر عین تابش، ندیم جعفری، پروفیسر محمد بدیع الزماں، پروفیسر اصفر جمال ملک، پروفیسر مشیر الزماں، نوشاد ناداں، ڈاکٹر احسان اللہ دانش، پروفیسر پرویز وہاب اور امان الحق نے خطاب کیا۔ مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ مدثر ظفر اور غلام غوث نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
اس موقع پر اسد الحق، آفتاب عالم، صحافی فیصل رحمانی، ممتاز احمد، معراج احمد، ایس ایم ثاقب، سید فضل الرحمن، ابو آلے، اشتیاق عالم اور لائبریرین محمد دانش سمیت بڑی تعداد میں اہلِ علم، ادباء، محققین اور کتاب دوست افراد موجود تھے۔
اختتام پر پروفیسر پرویز وہاب نے کہا کہ مولانا انوارالحق اردو لائبریری صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ علمی و ادبی مکالمے کا ایک فعال مرکز ہے۔ بعد ازاں پروفیسر عین تابش کے کلمات تشکر سے پروگرام اختتام پزیر ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network