محاسبہ
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے دنیا بھر میں مخالفت اور مظاہروں کے باوجود اپنا بیرونی دورہ منسوخ نہیں کیا۔ جبکہ نیویارک ، لندن ، کینڈا وغیرہ میں ان کی آمدکے خلاف مظاہروں کا سلسلہ دراز تھا ،خاص کر نیویارک میں تو کئی دنوں تک آر ایس ایس کی نفرت انگیز پالیسی خاص کر ہندوستان کے اقلیتوں پر بھگوا سیاست کے مظالم کے خلاف مظاہرہ ہوتے رہے، بھاگوت کو کھلے عام انسانیت کا دشمن قرار دیا گیا۔ ان کی آمد پر روک لگانے کے لئے میئر ہمدانی سے بھی اپیل کی گئی۔ لیکن امریکہ ایک عظیم جمہوری ملک ہے جہاں آزادی رائے کا اظہار سب پر مقدم ہے۔ میئر ممدانی نے آر ایس ایس کی مسلم دشمنی اور فسطائی فکر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کے خطاب کو روکنے سے قاصر ہوں لیکن اگر خطاب میں کوئی نفرت انگیز خیالات کا مظاہرہ کیا گیا تو یقینا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ بات درست ہے کہ نیویارک کے میئر زہران ممدانی آر ایس ایس چیف بھاگوت کا بھاشن نہیں روک پائے لیکن ممدانی کی وجہ سے بھاگوت کو ایک ڈیموکریٹک، سیکولر اور ایک توازن آمیز خطاب کرنا پڑا۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کا یہ سیکولر بھاشن محض ایک مکھوٹا ہے۔ اصل آر ایس ایس وہ ہے جو ہندوستان کے مختلف شہروں میں اپنی شاخائوں اور شیو مندروں ، اسکولوں کے ذریعہ نفرت کی تجارت کرتا ہے۔
بھاگوت بھی امریکہ میں شدید عوامی مخالفت کی نبض پکڑ چکے تھے چنانچہ انھوں نے ایسی پلٹی ماری کہ اس سے نہ صرف امریکہ میں ان کے مخالفین بھی حیران رہ گئے۔ بلکہ ہندوستان کے بی جے پی اور آر ایس ایس خیمے میں بھی ہلچل مچ گئی،بی جے پی ، آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں دن رات مسلمانوں سے نفرت کے تانے بانے میں لگی رہتی ہیں۔ بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میںمسلم دشمنی کا کھلا منظرنامہ ہے۔ کب کوئی مدرسہ ، درگاہ ، رہائشی مکان بلڈوز کردیا جائے کب کسی کو این ایس اے میں بند کردیا جائے ، یکساں سول کوڈ نافذ کردیا جائے ، یہ دلسوز منظرنامہ بیرون ملک میں بھی لوگ دیکھ رہے ہیں۔ اور ہندوستان کی جمہوریت سیکولرازم کا بھگوا سیاست کے ہاتھوں سبوتاز ہوتا بھی دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لندن ، نیویارک ، کینڈا وغیرہ میں مسلسل بھگوا فاشزم کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ مگر موہن بھاگوت نے جس طرح خود کو گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ثابت کرتے ہوئے ہندوتوا کا اصلی چہرہ دکھایا کیا اسے ہندوستان کا آر ایس ایس، بی جے پی تسلیم کرسکے گا۔ المیہ تو یہ ہے کہ بیرون ملک میں وزیر اعظم مودی مسلم سربراہوں کو گلے لگاتے ہیں اور ہندوستانی مسلمانوں کو لباس سے پہچاننے کی بات کرتے ہیں۔ آر ایس ایس ہندوستان میں مسلم دشمنی کا کھلا مظاہرہ کرنے والوں کی سرپرستی کرتی ہے اور بیرون ملک میں اس سے بڑا کوئی مسلمانوں کا ہمدرد نہیں ہے اس کا مکھوٹا پیش کرتی ہے۔
غورطلب ہے کہ نیویارک میں ’دنیا ایک انسانیت کانفرنس‘ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جس میں 51سے زائد ممالک کے مذہبی قائد جمع ہوئے تھے۔ جہاں بھاگوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر کوئی ہندو سوچتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو نہیں ہونا چاہئے تو وہ ہندو ہی نہیں ہے۔ تنوع میں اتحاد ہندوستان کے ڈی این اے میں شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوتوا کی پہلی شرط ہی یہ ماننا ہے کہ تمام راستے ایک ہی خدا تک جاتے ہیں۔ انسانوں میں کوئی تفریق نہیں۔ یہی انسانیت ہے۔
غورطلب ہے کہ بھاگوت تین ملکوں امریکہ، کینڈا اور برطانیہ کے گلوبل آئوٹ رینج کے دورے پر ہیں۔ آر ایس ایس یہ پروگرام اپنے صد سالہ جشن کے تحت غیر ملکی تنظیموں کے زیر اہتمام منعقد کررہا ہے۔ بھاگوت کے نیویارک خطاب کی کئی ملی ومذہبی تنظیموں نے ستائش کی ہے۔ جبکہ آر ایس ایس کی دورخی پالیسی جگ ظاہر ہے۔ مولانا ارشد مدنی کہتے ہیں کہ بھاگوت کے پیغام کو امریکہ سے زیادہ ہندوستان میں ضرورت ہے۔ اگر وہ نیک نیتی سے اپنی بات کہہ رہے ہیں تو انھیں سب سے پہلے مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کی بات کرنے والوں کو پارٹی سے نکال دینا چاہئے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے ہجومی تشدد ، مدراس پر حملے ، مسلمانوں کا سماجی ومعاشی بائیکاٹ کی فتنہ انگیز اپیل اقلیتوں کے شہری حقوق پر سوال اٹھانے والوں پربھاگوت خاموش کیوں رہتے ہیں۔ ان کی مسلم نوازی اور ہندوتوا کی نئی تشریح کی گونج ہر سمت سنائی دے رہی ہے۔ واہ واہی مچی ہوئی ہے۔لیکن ہم اس پر یقین نہیں کرسکتے۔
گری راج سنگھ ، کپل مشرا، وغیرہ وغیرہ جانے کتنے فرقہ پرست سپولئے کھولے عام مسلمانوں کو گالیاں دیتے ہیں۔ انھیں ملک سے نکالنے کی بات کرتے ہیں مگر ایسے لوگ وزارت کی کرسی کا جلوہ کیوں بنے ہوئے ہیں۔ بھاگوت جی کو یاد ہوگا کہ چند برسوں پہلے جب ایک کانسٹبیل نے مودی ، یوگی کا نام لے کر ٹرین میں تین مسلمانوں کو گولیوں سے بھون دیا تھا۔ تو وہ خاموش کیوں تھے۔ ایوان اقتدار میں سناٹا کیوں تھا؟ بلاشبہ بھاگوت کا تمام مذاہب کا احترام قابل ستائش پیغام ہے۔ لیکن آج جو ملک کی صورت ہے وہ انتہائی زخمی ہے۔ اب تو مسلم افسران بھی نشانے پر لیے جانے لگے ہیں۔ ٹی ایم سی ممبر پارلیمنٹ مہوا موئترا نے اپنے ایکس پلیٹ فارم پر بڑا تلخ تبصرہ کیا ہے،انھوں نے لکھا ہے کہ بنگال میں امت شاہ کی موجودگی میں مسلم افسران کو روک دیا گیا ،سلی گوڑی کے سی پی وقار رضا کو استقبالیہ لائن سے ہٹا دیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل ایس ٹی ایف جاوید شمیم کو کہیں نہیں بلایا گیا۔ اور آئی اے ایس خلیل احمد کو مٹنگ سے باہر جانے کو کہا، کیا اس بیمارذہنیت اور فرقہ پرست بکواس پر احتجاج نہیں کیا جائے گا۔
ملک کی جونفرتی سیاست ہے ،اب وہ عروج پر ہے۔اب تو حکومت وقت سے سوال پوچھنے کی پاداش میں صحافی بھی حراست میں لئے جارہے ہیں، دہلی کی وزیر اعلیٰ کے پروگرام میں دو خاتون صحافی شاہین خان ، نفیسہ خان کو سوال پوچھنے کی پاداش میں ساکیت پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور جب ان کے نام سے مسلمان ہونا ظاہر ہوا تو ان کی پٹائی بھی کی گئی۔ اس واقعہ سے پورا ملک شرمسار ہے۔ پریس کلب آف انڈیا میں مذمتی میٹنگ بھی ہوئی ہے اور ہر سمت نفرت کے اس کھیل کی مذمت ہورہی ہے۔ہزاروں وکلا نفرت کے اس کھیل خلاف میدان میں اترچکے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اب مودی کے ہندوتوا کا اقبال زوال پذیر ہورہا ہے۔ چندہ چوری معاملے میں ایودھیا کے سادھو سنت خلاف ہوگئے ہیں۔ مہنگائی بے روزگاری پر ہندوتوا کو ترجیح دیئے جانے کولیکر نئی نسل سڑکوں پر اتر چکی ہے۔ جین زی اور جین الفا آج حکومت وقت کے گلے کی ہڈی بن گئے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی کولیکر پچاس سے زائد شہروں میں بچوں کا احتجاج جاری ہے۔ ملک کی ایک بڑی آبادی بھی ہندوستانی مسلمانوں پر مظالم کو لیکر صدائیں بلند کررہی ہے۔جین زی نے ملک کے ضمیر میں حرارت بھر دی ہے۔خوف اور دبائو کے ماحول سے عدالتیں بھی آزاد ہورہی ہیں۔ راہل گاندھی کا چھاتروں کی گونج ایک سوال بن کر برسراقتدار جماعت کو چیلنج کررہا ہے۔ بقول شاعر
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا