Bihar
خانقاہ بشیریہ اصدقیہ میں 118 سالہ عرس شہودی اصدقی روایتی شان و شوکت کے ساتھ اختتام پذیر
(پی این این)
بہار شریف:نالندہ کی تاریخی سرزمین پیر بیگہ شریف میں قطب عالم شیخ الجن والانس حضرت سیدنا خواجہ شاہ قیام اصدق الصادقی الچشتی الفخری النظامی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلف اکبر و جانشیں سند المحدثین قطب الارشاد حضرت علامہ الحافظ مولانا خواجہ غلام قطب الدین شاہ شہود الحق اصدقی الصادقی الچشتی رحمۃ اللہ علیہ کا 118 سالہ عرس شہودی اصدقی 18/17 ستمبر بروز جمعرات اور جمعہ مفکر اسلام سحبان الہند حضرت علامہ مولانا سید شاہ سیف الدین اصدق چشتی سجادہ نشیں خانقاہ بشیریہ اصدقیہ چشتی چمن پیر بیگہ شریف کی سرپرستی میں روایتی شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوا، 16 ستمبر بعدِ نمازِ عصر شہر بہار شریف کے حبیب خاں قبرستان میں شیخ طریقت، مجدد سلسلہ اصدقیت حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ کے مزار پر انوار پر چادر پوشی، گل اندازی اور فاتحہ خوانی کا اہتمام ہوا، 17 ستمبر بروز جمعرات بعد نماز ظہر حلقہ ذکر و تقسیم لنگر اور بعد نماز مغرب آستانہ عالیہ میں حضرت خواجہ سیدنا شاہ شہود الحق اصدقی الصادقی الچشتی کی مزار مقدس پر چادر پوشی وگل اندازی کی رسم ادا کی گئی اور قوم و ملت کی امن و سلامتی کے لئے دعا مانگی گئی۔ بعد نماز عشاء گنبد موئے مبارک کے گراؤنڈ میں لنگر عام تقسیم کیا گیا۔
اس کے بعد خانقاہ بشیریہ اصدقیہ کے کمپاؤنڈ میں مفکر اسلام حضرت حافظ و قاری علامہ الحاج سید شاہ سیف الدین اصدق چشتی سجادہ نشیں خانقاہ بشیریہ اصدقیہ کی صدارت میں ایک عظیم الشان جلسہ میلاد النبی کا انعقاد ہوا تلاوتِ کلامِ مقدس سے محفل کا آغاز ہو۔
ا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر آپ اپنے شیخ، پیر و مرشد سے محبت کرتے ہیں تو ان کی کتابوں کو خریدیں اور مطالعہ کریں تاکہ سیرتِ طیبہ، بزرگوں کے اقوال، قرآنی اسباق اور احادیث مبارکہ پڑھنے سمجھنے کا موقع مل سکے۔
مولانا موصوف نے کہا کہ حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ کی کتابوں کا گہرائی سے مطالعہ کرو انہوں نے مکتوباتِ اصدقی، حیات اصدق، خطرات کے بادل، تاریخ ہجرت، آئینہ مخدوم جہاں، درس رسول ﷺ اور حضرت کی دیگر کتابوں کا مطالعہ کرکے بزرگان دین کی تعلیمات، ان کی خدمات، اور رشد و ہدایت پڑھ کر اپنے دلوں کو منور و مجلہ کرے، حضرت کی کتابیں پڑھ کر تمہیں خواجہ شاہ شہود الحق اصدقی چشتی اور خواجہ شاہ قیام اصدق الصادقی الچشتی کے مقام و مرتبہ کا پتہ چلے گا انہوں نے کہا کہ کتابوں کے ذریعہ بزرگوں کے طرزِ زندگی اور اخلاقِ حسنہ سے آگاہی ملتی ہے جو ہمارے کردار کو سنوارتی ہے۔ اس موقع پر ناظم عرس معمار قوم و ملت حضرت علامہ مولانا سید شاہ نور الدین اصدق چشتی مہتمم مدرسہ اصدقیہ مخدوم شرف نے کہا کہ اگر بزرگوں سے محبت ہے تو خانقاہ سے رشتہ مضبوط رکھیں، رشتہ مضبوط کرنے کا طریقہ باقاعدہ حاضری اور صحبتِ صالح بزرگانِ دین کے آستانوں پر باقاعدگی سے حاضری دیں۔ سجادہ نشیں کی صحبت میں وقت گزاریں، کیونکہ اچھے لوگوں کی بیٹھک انسان کے اخلاق اور سوچ کو بدل دیتی ہے۔ مولانا موصوف نے کہا کہ خانقاہی نظام کا اصل مقصد صرف حاضری دینا نہیں، بلکہ وہاں سکھائے جانے والے اسباق جیسے صبر، شکر، عاجزی، اور توکل کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہے، خانقاہوں میں ہونے والی ذکر کی محافل، درود شریف کی کثرت اور دعاوں میں شریک ہوں تاکہ دل کو روحانی طاقت ملے اور انہوں نے کہا کہ خانقاہیں ہمیشہ سے لنگر اور غریبوں کی مدد کا مرکز رہی ہیں۔ وہاں ہونے والے فلاحی کاموں اور لنگر وغیرہ میں اپنی استطاعت کے مطابق جانی یا مالی تعاون کریں، اور مریدوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ عرس شہودی اصدقی میں بلاناغہ تشریف لائے، اس کے بعد حافظ محمد فہیم اصدقی دھنبادوی، اور الحاج عبد السعید کوثر اصدقی رانچی نے یکے بعد دیگرے شیخ طریقت حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ کی شان میں منقبت کے اشعار پڑھے جس کو سن کر تمام لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں کی سوغات پیش کرنے لگی، بعدۂ قاری دانش رضا اور قاری ارشد اقبال نے نعتیہ کلام کے اشعار پڑھے، اس کے بعد حضرت مولانا سید شاہ ارشد افضلی فریدی اصدقی خانقاہ افضلیہ فریدیہ اصدقیہ نوادہ کے سجادہ نشیں نے کہا کہ حضرت خواجہ قیام اصدق چشتی نے ملک گیر سطح پر سفر کیا ملک کے گوشے گوشے میں احیائے دین اور تبلیغ تصوف کے لیے سرگرم رہ کر دین و ملت اور احکام و سنت کو استحکام بخشا اور عقائد باطنہ کی خوب خوب مخالفت و مدافعت کی، علامہ موصوف نے کہا کہ مجدد سلسلہ اصدقیت، شیخ طریقت حضرت علامہ الحاج سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ کو مجھ سے بے حد محبت تھی انہوں نے آخری ملاقات میں کہا کہ آپ بلا ناغہ عرس شہودی اصدقی میں تشریف لائیں گے وہ ہمارے رہنما رہبر تھے اب کہاں ایسا رہبر و رہنما ملنے والا، اس کے بعد شہزادہ وقار ملت قاری محمد وقار تابش نے نعتیہ کلام کے بہترین اشعار پڑھ کر سامعین کے قلوب کو منور و مجلہ کیا بعدۂ محمد توصیف عالم اصدقی بہاری نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ نے ادارہ قائم کرکے بہار شریف والوں پر احسان کیا آج شہر کے ہر محلوں میں حضرت کے مدرسے کا حفاظ نظر آتا ہے اور نہ جانے ہم جیسے کتنے غلاموں کو اس در اصدق کی چوکھٹ پر لاکر کھڑا کردیا، اس کے بعد مولانا سید عابد اللّٰہ قادری نے اپنی ناصحانہ خطاب سے سامعین کو محظوظ کیا، مولانا محمد فرحان رضا ثقافی نے اپنی اصلاحانہ خطاب کے ذریعہ قوم مسلم کے اتحاد پر زور دیا، اس موقع پر ٹی پی آئی انگلش اسکول کے طلبا حافظ محمد عبید عالم اور شہنین احمد نے سورہ التین کی تلاوت کی اور ایک نے اس کا ترجمہ پڑھ کر سامعین کو محظوظ کیا 18 ستمبر بروز جمعہ بعد نماز فجر خانقاہ میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ اس کے بعد 8 سے 9 بجے موئے مبارک کی زیارت کرائی گئی، اور آقا کریم ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا، اس کے بعد 9 سے 1 بجے تک محفل سماع و فاتحہ خواجگان کے بعد مجلس اختتام کو پہنچا۔ بعد نماز جمعہ لنگر تقسیم کیا گیا۔ بعد نمازِ مغرب محفل ذکر منعقد ہوا عرس شہودی اصدقی میں ہندوستان کے مختلف صوبوں، شہروں، قصبوں سے علماء و مشائخ، مریدین، متوسلین، معتقدین ، معززین ، مخلصین اور عقیدت مندوں نے حاضری دے کر بزرگوں کے روحانی فیوض و برکات سے مالامال ہوئے۔ اس موقع پر معمار قوم و ملت حضرت علامہ سید شاہ نورالدین اصدق چشتی نے تمام علماء ومشائخ اور مریدین ، معززین ، معتقدین مخلصین ، متوسلین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ۔