Bihar

حاجی پورمیں ویرعبدالحمیدکی یاد میں پروگرام کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
حاجی پور:1965ء کی پاک بھارت جنگ میں شجاعت اور سرفروشی کی بے مثال تاریخ رقم کرنے والے، ملک کے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’پرم ویر چکر‘ سے سرفراز شہید حوالدار عبدالحمید کا یومِ شہادت پر”اسٹار کڈز انٹرنیشنل اسکول، کمال پور” میں ایک باوقار پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں اسکول کے اساتذہ اور بچوں نے شہید موصوف کو خراجِ عقیدت پیش کر کے انہیں یاد کیا۔ پروگرام کی صدارت اسکول کے ڈائریکٹر اسامہ فاروقی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض اسکول کے سینئر استاد محمد علیم الدین انصاری نے اپنے مخصوص، سنجیدہ اور دلکش انداز میں انجام دیے۔
تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی محترمہ صابیہ پروین تشریف فرما تھیں، جبکہ اسکول کی پرنسپل سایکا پروین کے علاوہ دیگر اساتذہ سونی کماری، سادیہ پروین اور پرینکا کماری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شہید عبدالحمید کی حیات، جنگی مہارت اور بے مثال قربانی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔اس موقع پر اسکول کے بچوں کو’اسمارٹ کلاس‘ کے ذریعے ویڈیو اور نمائش دکھا کر شہید عبدالحمید کی حیات، ان کی جنگی مہارت کو تفصیل کے ساتھ روشناس کرایا گیا۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اسکول کے ڈائریکٹر اسامہ فاروقی نے شہید عبدالحمید کے تاریخی کارناموں اور 1965ء کے معرکے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ: “ویر عبدالحمید کی ولادت 1 جولائی 1933ء کو اتر پردیش کے ضلع غازی پور کے دھام پور گاؤں میں ہوئی تھی۔ وہ بھارتی فوج کے ایک ایسے بہادر سپاہی تھے جنہوں نے 1965ء کی جنگ میں پڑوسی ملک پاکستان کے دانت کھٹے کر دیے تھے۔
اس ہند کے ویر سپوت کی بہادری کی کہانی آج اتنے سالوں بعد بھی جب کوئی سنتا ہے تو اس کا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے۔ 1965ء کی اس جنگ میں ان کے جذبے اور کبھی نہ ہار ماننے والی ہمت نے ہی بھارت کو تاریخی جیت دلائی تھی۔” انہوں نے مزید بتایا کہ اپنی جان کی پروا کیے بغیر انہوں نے اپنے بہترین جنگی ہنر سے پاکستانی فوج کے تقریباً 7 ٹینکوں کو تباہ کر دیا۔
آخر میں جب وہ 8ویں ٹینک کو نشانہ بنا رہے تھے، تبھی اچانک دشمن کا ایک گولا ان کی جیپ کے پاس آ کر پھٹا اور وہ شہید ہو گئے۔ تاہم، اپنی آخری سانس لینے سے پہلے بھی وہ اس 8ویں ٹینک کو تباہ کر چکے تھے۔ ان کی اس بے مثال بہادری پر انہیں بعد از شہادت ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ‘پرم ویر چکر’ دیا گیا۔ اسکول کی پرنسپل سایکا پروین نے اپنے خطاب میں شہید کے نقشِ قدم پر چلنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان کی حیات سے وطن پر مٹ مٹنے کا سبق حاصل کرنا چاہیے اور جب کبھی ملک کی سرحدیں یا بقا ہمیں پکارے، تو ہمیں بھی ایسی ہی سرفروشی اور شہادت کی تمنا دل میں رکھنی چاہیے۔ استاد محمد علیم الدین انصاری نے کہا کہ عبدالحمید نے محدود وسائل میں جس عظیم الشان بہادری کا مظاہرہ کیا، اسے ملکی تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
استاد سونی کماری نے کہا کہ عبدالحمید نے بے حد معمولی گاڑی اور محدود وسائل کے باوجود امریکہ کے بنے ہوئے طاقتور ٹینکوں کا غرور خاک میں ملا دیا اور ثابت کر دیا کہ معرکے محض جدید ترین اسلحوں سے نہیں بلکہ فولادی حوصلوں اور حبِ وطنی سے جیتے جاتے ہیں۔ پروگرام کے آخر میں طلبہ و طالبات نے شہید عبدالحمید کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جس کے بعد پروگرام کا اختتام ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network