دلی این سی آر
جے پی اگروال نے یمنا گھاٹ سے 310 خاندانوں کی بے دخلی پر تشویش کا کیااظہار
نئی دہلی: چاندنی چوک کے سابق رکنِ پارلیمنٹ اور دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سابق صدر شری جے پرکاش اگروال نے پرانے یمنا گھاٹ علاقے میں دہائیوں سے مقیم تقریباً 310 خاندانوں کو بغیر کسی متبادل رہائش فراہم کیے بے دخل کیے جانے پر سخت ناراضگی اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس کارروائی کو غیر انسانی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔جے پرکاش اگروال نے کہا کہ شدید گرمی کے موسم میں غریب اور محروم طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو مناسب بازآبادکاری کے بغیر ان کے گھروں سے نکال دینا حکومت کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ترقیاتی منصوبے عوام کی عزت، روزگار اور بنیادی حقوق کی قیمت پر نہیں ہونے چاہئیں۔سابق رکنِ پارلیمنٹ نے نشاندہی کی کہ یمنا گھاٹ کا علاقہ صرف رہائشی بستی نہیں بلکہ سیکڑوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔ قریبی شمشان گھاٹ سے وابستہ متعدد پنڈتوں، پجاریوں اور مذہبی خدمات انجام دینے والے افراد کی آمدنی گھاٹ کی سرگرمیوں پر منحصر ہے۔ انہدامی کارروائی اور بے دخلی کے باعث نہ صرف رہائشی متاثر ہوئے ہیں بلکہ وہ تمام افراد بھی مشکلات کا شکار ہیں جن کا روزگار اس علاقے سے وابستہ تھا۔دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر شری مدِت اگروال نے بے گھر کیے گئے خاندانوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل و شکایات کو قریب سے سنا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی ان کے حقوق اور مطالبات کو ہر ممکن پلیٹ فارم پر اٹھائے گی اور انصاف دلانے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔مدِت اگروال نے کہا کہ کسی بھی انہدامی یا بے دخلی کی کارروائی سے قبل حکومت کی ذمہ داری ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے مناسب بازآبادکاری اور متبادل رہائش کا انتظام کیا جائے۔ انہوں نے کہا، “کسی بھی شخص کو ایک ہی دن میں بے گھر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ایک انسانی اور جامع بازآبادکاری منصوبہ ناگزیر ہے۔”شری جے پرکاش اگروال اور شری مدِت اگروال نے مرکزی وزیر برائے ہاؤسنگ و شہری امور سے مطالبہ کیا کہ تمام بے گھر کیے گئے خاندانوں کی فوری بازآبادکاری کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کے انتخابی وعدے “جہاں جھگی، وہاں مکان” کی یاد دہانی کراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس وعدے کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنایا جائے۔کانگریس رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد مستقل رہائش، بنیادی سہولیات اور باعزت بازآبادکاری پیکیج فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ماحولیاتی تحفظ اور شہری ترقی اہم ہیں، لیکن ان کا نفاذ اس انداز میں ہونا چاہیے کہ انسانی وقار، روزگار اور سماجی انصاف محفوظ رہیں۔شری جے پرکاش اگروال نے کہا، “متاثرہ خاندان ہمدردی، انصاف اور فوری بازآبادکاری کے حق دار ہیں۔ ترقی ایسی ہونی چاہیے جو سب کو ساتھ لے کر چلے اور کسی بھی کمزور شہری کو بے گھر اور بے سہارا نہ چھوڑے۔”