محاسبہ

جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

Published

on

محسابہ:سید فیصل علی 

تقریبا100دنوں تک جنگی تباہ کاری مچانے کے بعد بالآخر امریکہ نے ہاتھ کھڑے کردیئے۔ 18جون کو ایران کی شرطوں پر ٹرمپ نے جنگ بندی معاہدہ کرلیا۔ حالانکہ اس معاہدہ کو سبوتاز کرنے کے لئے اسرائیل ہنوز لبنان پر بمباری کررہا ہے۔ جس کی دنیا مذمت کررہی ہے۔ ایران کی 14نکاتی شرطوں میں ایک اہم شرط یہ تھی کہ جب تک اسرائیل لبنان پر حملہ بند نہیں کرے گا یہ معاہدہ بے اثر رہے گا۔ چنانچہ ٹرمپ اسرائیل کی شہ زوری کو ختم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ مگر اسرائیل کی فتنہ گری جاری ہے۔ حالانکہ ٹرمپ نے بھی کھل کر اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ ایران کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو کو حملہ روکنے کے لئے یہاں تک کہہ دیا کہ اسرائیل کا وجود امریکہ کے دم سے ہے۔ اگر امریکہ اسرائیل کے ساتھ نہیں رہے گا تو وہ دو گھنٹے بھی جنگ میں ٹک نہیں پائے گا۔ ٹرمپ کے اس اعتراف نے جہاں اسرائیل کی طاقت کی قلعی کھول دی ہے وہیں سو دنوں تک امریکہ سے برسرپیکار رہنے والے ایران کی طاقت بھی دنیا پر آشکار ہوچکی ہے۔اور ایک صفر پاور ایران نے ایک سپر پاور امریکہ پر سبقت لے کر دنیا کو حیران کردیا ہے۔ گرچہ ایران نے اس جنگ میں بہت کچھ گنوابھی دیا ہے۔اس کے بڑے بڑے لیڈر، کمانڈر، سیکڑوں بچوں سمیت ہزاروں لوگ وطن پر نچھاور ہوچکے ہیں، اور یہی قربانی ایران کی طاقت بن چکی ہے۔ عوام جب خود حکومت کے پشت پر کھڑے ہوں تو وہ ملک ہارنے کے باوجود دنیا میں سرخرو ہوتا ہے۔
ایران کی قوت کا ہی نتیجہ ہے کہ ٹرمپ نے جی 7کے پریس کانفرنس میں کھلے دل سے اعتراف کیا ہے کہ اگر ہم معاہدہ نہیں کرتے تو دنیا مزید اقتصادی مصیبت کا شکار ہوجاتی ۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے لاکھوں ڈالر یومیہ کا خسارہ ہورہا تھا، اس خسارے کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ جو لگاتار لبنان پر حملہ کرکے ایران کو مشتعل کررہا ہے۔ تاریخ کا عجیب وغریب منظرنامہ ہے کہ چند ماہ قبل تک ایران دنیا میں ایک دہشت گرد ملک کے طور پر جانا جاتا تھا، اب وہی ایران مظلوم کے طور پر یاد کیا جارہا ہے۔ اور اسرائیل دنیا کے لئے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ امریکہ کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایسا ملک بن گیا ہے جسے دنیا کا کوئی بھی ملک پسند نہیں کررہا ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اسرائیل کے جنگی جنون سے دنیا کے ممالک اس سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ اور یہ بھی قدرت کا عجیب کرشمہ ہے کہ پہلی بار امریکہ نے اسرائیل کو اس کی طاقت کو آئینہ دکھا کر خود کو جنگ سے الگ کرلیا ہے۔ کیونکہ اسے احساس ہوچکا ہے کہ اس کی بمباری ایران کی میزائیلوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے ایران کو دبایا نہیں جاسکتا۔ اس کی میزائیلیں اسرائیل کو تباہ وبرباد کردیں گی۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ نے یہ جنگ بندی صرف اسرائیل کی بقا کے لئے کی ہے۔
ایران امریکہ ڈیل کے بعد مشرق وسطیٰ میں نئی صبح کا آغاز ہوچکا ہے دنیا سکون کی سانس لے رہی ہے۔ مگر اس جنگ نے دنیا کے آگے دنیا کے سپر پاور کی قلعی کھول دی ہے۔ ایران اور اسرائیل بمباری سے چور ایران کی جرأت کو سلام۔ کہ جس طرح اس نے ٹرمپ اور نتن یاہو کو میزائلوں سے جواب دیا ، کہ ٹرمپ کو اعتراف کرنا کہ اسرائیل امریکہ مل کر بھی ایران کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ انھوں نے یوروپین ممالک سے بھی مدد کی گہار لگائی۔ ناٹو ملکوں سے بھی ساتھ دینے کو کہا مگر ایران کی قوت اور ہمت کو دیکھتے ہوئے کسی نے ٹرمپ کا ساتھ نہیں دیا۔ اس جنگ میں صرف امریکہ کا نقصان ہورہا تھا جس سے امریکی عوام بھی برہم تھے۔ خاص بات تو یہ ہے کہ اس جنگ نے یہ بھی واضح کردیا کہ ایران جسے دنیا ملاؤں کا ملک کہتی تھی ، جہالت ، معاشی بدحالی کا مسکن کہا جارہا تھا، خواتین کی بے بسی کا ملک قرار دیا جارہا تھا، اور کہا جارہا تھا کہ وہ ملک ہے جہاں عورت قیدی کی طرح رہتی ہے ، لیکن اس جنگ نے ثابت کردیا کہ ایران تعلیمی ،ثقافتی اور فوجی اعتبار سے بہت آگے ہے۔ ایران دنیا میں خواتین کی تعلیم میں ساتویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ سائنس کے میدان میں تو کمال کا منظرنامہ ہے۔ میزائل کا جو دھواں دھار استعمال ایران نے اس جنگ میں کیا ہے اس میں خواتین کا رول سب سے زیادہ اہم ہے۔ ایران کی سائنسدانوں خواتین کا شمار آج دنیا کی بہترین سائنسداں میں ہورہا ہے۔
علاوہ ایران کی قیادت اور فوجی طاقت کا اندازہ بھی دنیا نے لگا لیا کہ کس طرح اس نے سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اورٹرمپ کو کہنا پڑا کہ اگر ہم جنگ بندی نہیں کرتے تو دنیا سنگین معاشی بدحالی کا شکارہوجاتی ۔ تیل کے ذخائر میں صرف 4ہفتے کا تیل رہ گیا تھا۔ لیکن اس جنگ کا محرک تو اسرائل تھا جو آج بھی اپنے جنون میں مبتلا ہے۔ حالانکہ ٹرمپ اس سے کہہ چکے ہیں کہ تم پاگل ہوچکے ہو، اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے۔ تمہاری وجہ سے دنیا اسرائل سے نفرت کررہی ہے۔ اس جنگ میں کس کا زیادہ نقصان ہوا ، کس نے کیا کھویا ، کیا پایا ، ہم اس کے تجزئے میں نہیں جائیں گے۔ ہم صرف یہ کہیں گے کہ ایک صفر پاور کے آگے ، سپرپاور جس طرح سر نگوں ہوا وہ قدرت کا درس آمیز منظرنامہ ہے۔ ایران سب کچھ کھو کر بھی بہت کچھ حاصل کرچکا ہے۔ اس نے اپنی شرطوں پر جنگ بندی قبول کی ہے۔ امریکہ اب ایران کو 28لاکھ کروڑ کا ہرجانا دے گا۔آبنائے ہرمز 60دنوں تک فری رہے گا۔ اس کے بعد ایران گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرے گا، گویا ایران کی معیشت کو رفتار دینے والی نئی راہ کھل چکی ہے۔ جس طرح یہ معاہدہ ہوا ہے اس میں ایران کی اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ فوجی ترقی کی بھی سربلندی ہوئی ہے۔
بہرحال 100دنوں کی اس جنگ میں ایران بہت کچھ گنوانے کے باوجود سرخرو ہے۔ جبکہ ٹرمپ اورنتن یاہو نے ہزاروں کروڑ گنوانے کے بعد کیا حاصل کیا ہے یہ فکر کا موضوع ہے۔ ایران نے وقار کی اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو بے وقار کردیا ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ ایران جو ہندوستان کا قدیم ترین دوست رہا ہے،کشمیر کے سوال پر ہندوستان کا ہمنوا رہا ہے۔ اس تناظر میں پی ایم کی خاموشی سے کئی سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت اور سیکڑوں بچوں کی اموات کے باوجود پی ایم مودی کی خاموشی سے بہرحال سوال تو اٹھتاہی ہے کہ جس ٹرمپ سے دوستی کا دم مودی بھرتے ہیں وہ مسلسل ہندوستان کی تذلیل کررہا ہے اور خود ہمارے وزیر اعظم کا مضحکہ اڑا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ہندپاک جنگ کے دوران سیز فائر کا اعلان کیا۔ مودی خاموش رہے۔
ٹرمپ نے ہندوستان کو جہنم کا دروازہ قرار دیا پھر بھی خاموش رہے۔ ٹرمپ نے روس ہند تعلقات پر انگلی اٹھائی پھر بھی خاموشی ۔ ٹیرف لگا کر تجارت کو کمزور کرنا چاہا پھر بھی خاموشی، جانے کتنی بار ٹرمپ نے ہندستان کی تذلیل کی یہاں تک کہہ دیا کہ ہم چاہیں تو مودی کا کیریئر برباد کردیں پھر بھی خاموشی،۔ اور حد تو تب ہوگئی جب امریکہ نے تین ہندوستانی جہاز رانوں کو ہلاک کردیا ، اس پر شرمندگی کے بجائے دھمکیاں دیتا رہا ، پھر بھی خاموشی ۔کاش ہمارے وزیر اعظم ایران سے درس لیتے جو زخموں سے چور چور ہونے کے باوجود امریکہ اسرائیل سے لوہالیتا رہا اور انھیں واپس لوٹنے پر مجبور کردیا۔ بقول شاعر
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network