دلی این سی آر
جامعہ میں اپنی نوعیت کی پہلی دو روزہ قومی کانفرنس کاکیا انعقاد
(پی این این)
نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے شعبہ کامرس اینڈ بزنس اسٹڈیز نے اپنے تعلیمی سفر میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اپنی نوعیت کی پہلی دو روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔
’’وکست بھارت کے لیے جی ایس ٹی اصلاحات: دوہزار سیتالیس تک ہندوستان کی سماجی و اقتصادی تبدیلی کو مستحکم کرنا‘‘کے موضوع پر منعقدہ اس کانفرنس میں ستر تحقیقی مقالات پیش کیے گئے اور سات ریاستوں کے ماہرین تعلیم کے ساتھ ساتھ مرکزی یونیورسٹیوں کے چار وائس چانسلرز نے شرکت کی، تاکہ جی ایس ٹی، اعلیٰ تعلیم اور ‘وکست بھارت دوہزار سینتالیس’‘جیسے اہم موضوع پر وسیع تر مکالمہ انجا م جا سکے۔نئی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں انیس اور بیس اگست دوہزار چھبیس کو منعقدہ اور انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ، نئی دہلی کے اشتراک سے ترتیب دی گئی یہ دو روزہ کانفرنس، ہندوستان کی اقتصادی تبدیلی میں ’’گڈز اینڈ سروسز ٹیکس( جی ایس ٹی)‘ کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم تعلیمی پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ تاہم، اس کانفرنس کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ہونے والی گفتگو محض ٹیکس کے نظام تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ کار حکمرانی، شمولیت، ڈیجیٹل تبدیلی، اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور تعمیرِ قوم جیسے وسیع تر مسائل تک پھیلا ہوا تھا۔اس کانفرنس میں ایک سو آٹھ محققین کی جانب سے ایک سو ساٹھ انفرادی رجسٹریشن کے ذریعے انہتر تحقیقی مقالات موصول ہوئے ۔
جن میں متعدد ایسے مقالے بھی شامل تھے جو ایک سے زائد مصنفین نے مشترکہ طور پر تیار کیے تھے۔ یہ مقالا ت سات ریاستوں اور قومی راجدھانی دہلی میں واقع پچیس سے زائد یونیورسٹیوں اور اداروں کی جانب سے پیش کیے گئے ؛ ان میں دہلی، اتر پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، پنجاب، تلنگانہ اور اوڈیشہ کے تعلیمی ادارے شامل تھے۔
شرکت کا یہ وسیع دائرہ کار معاشی نظم و نسق اور ترقی کے ایک آلے کے طور پر جی ایس ٹی میں بڑھتی علمی دلچسپی کو اجاگر کرتاہے۔ کانفرنس میں اساتذہ، رسرچ اسکالرس، پوسٹ گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ طلبہ اور صنعت سے وابستہ پیشہ ور افراد نے حصہ لیا۔ اس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، جامعہ ہمدرد، دہلی یونیورسٹی اور اس کے ملحقہ کالجز، اگنو ، مانو ،رچنا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ اسٹڈیز، آئی آئی ایل ایم یونیورسٹی، شوبھت یونیورسٹی، کماؤں یونیورسٹی، امراپالی یونیورسٹی، شاردا یونیورسٹی، ایمیٹی یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، خالصہ یونیورسٹی، خالصہ کالج آف لا، اتکل یونیورسٹی اور دیگر کئی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کانفرنس کا آغاز انیس اگست دوہزار چھبیس کو فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے آڈیٹوریم میں تلاوتِ کلامِ پاک اور جامعہ کے ترانے سے ہوا، جس کے بعد کنوینر پروفیسر دیبارشی مکھرجی نے مہمانان او رسامعین و حاضرین کا خیر مقدم کیا اور کانفرنس کے موضوع کا تعارف پیش کیا۔ افتتاحی اجلاس سے شعبہ کامرس اینڈ بزنس اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر نصیب احمد اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر زبیر مینائی نے بھی خطاب کیا۔
ا فتتاحی اجلاس کی علمی حیثیت کو ‘ایبسٹریکٹ پروسیڈنگز’ (مقالہ جات کی تلخٰص پر مبنی مجموعے) بعنوان جی ایس ٹی، گروتھ اینڈ گورنینس:پاتھ ویز تو وکست بھارت اے آئی لٹیریسی : ریتھنکنگ انٹلی جینس ،لرننگ اینڈ ہیومن پوٹینشیل ان دی ایج آف انٹلی جینٹ مشینس کی رونمائی نے مزید مستحکم کیا۔ یہ دونوں مطبوعات اقتصادی طرزِ حکمرانی، تکنیکی تبدیلی، تعلیم اور بھارت کے ترقیاتی سفر جیسے امور کے ساتھ کانفرنس کی وسیع تر وابستگی کی عکاس تھیں۔
افتتاحی اجلاس میں تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کے رکن ڈاکٹر عامر اللہ خان نے کلیدی خطاب کیا، جس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ اور کانفرنس کے سرپرست اعلی عزت مآب پروفیسر مظہر آصف نے صدارتی خطاب کیا۔ اجلاس کا اختتام شریک کنوینر ڈاکٹر وویک کے اظہار تشکر اور قومی ترانے پر ہوا۔
یہ کانفرنس پروفیسر زبیر مینائی اور پروفیسر نصیب احمد کی بطور شریک سرپرست رہنمائی میں منعقد کی گئی، جس میں پروفیسر دیبارشی مکھرجی کنوینر اور ڈاکٹر وویک اور ڈاکٹر اظہار احمد شریک کنوینر تھے۔ اس کے انعقاد میں کانفرنس کوآرڈینیشن ٹیم کا تعاون شامل تھا جس میں زینب علی، سجادہ، اریبہ، اقرا تبسم، فہد مخدومی، ارم خان، کرونا بھٹلا، فیض قمر، عائشہ خان، ابھیشیک پرتاپ سنگھ اور مرزا حنان بشار شامل تھے۔
کانفرنس کا علمی و تحقیقی مرکز آٹھ مختلف موضوعاتی شعبوں پر محیط آٹھ تکنیکی اجلاسوں پر مشتمل تھا، جن میں جی ایس ٹی کے متنوع معاشی، سماجی اور ادارہ جاتی پہلوؤں پر تحقیقی نقطہ نظر کو یکجا کیا گیا۔ مباحثوں کا آغاز ‘جی ایس ٹی اور وکست بھارت دوہزار سینتالیس کا وژن’ کے موضوع پر اجلاس سے ہوا، جس کی صدارت آئی آئی ایم لکھنؤ کے ڈاکٹر کشتیج اوستھی نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر محمد عاطف شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر توصیف الدین صدیقی بطور باحث شامل رہے۔ اس سیشن میں ہندوستان کے طویل مدتی ترقیاتی عزائم کے وسیع تر تناظر میں جی ایس ٹی کا جائزہ لیا گیا۔
دوسرا اجلاس’جی ایس ٹی اور شعبہ جاتی اثرات ‘ کے موضوع پر جس کی صدارت جے نارائن ویاس یونیورسٹی کے پروفیسر کرشن اوتار گوئل نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے جناب ایس شامخ احسن شریک چیئر اور جامعہ کے ڈاکٹر محمد زکریا صدیقی بطور باحث شامل رہے۔ تیسرے سیشن’جی ایس ٹی، شمولیت اور پائیدار ترقی‘ کی قیادت جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر شیما علیم نے کی؛ اس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر سمیر بابو شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر اشرف الیان بطور باحث شریک رہے۔
چوتھے سیشن، ‘چیلنجز، اصلاحات اور مستقبل کا لائحہ عمل’ کی صدارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر محمد یامین نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر سیف الرحمن فاروقی شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر نصیب احمد بطور باحث شامل رہے۔ پانچویں سیشن، ‘جی ایس ٹی اور کاروبار میں آسانی‘ میں مانو رچنا یونیورسٹی کے پروفیسر بھاویش پرکاش جوشی صدر اجلاس، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ڈاکٹر یاسمین شمسی رضوی شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر محمد کمال النبی بطور باحث شریک رہے۔
چھٹے اجلاس’جی ایس ٹی اور سماجی و اقتصادی تبدیلی‘‘ کی صدارت ایمیٹی یونیورسٹی کی ڈاکٹر پلوی تیاگی نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لیفٹیننٹ (ڈاکٹر) انوارہ ہاشمی شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر راحیلہ فاروقی بطور باحث شامل رہیں۔ ساتویں اجلاس مین’جی ایس ٹی، کوآپریٹو فیڈرلزم اور مالیاتی نظم و نسق‘ کی قیادت دہلی اسکل اینڈ انٹرپرینیورشپ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف بزنس، فنانس اینڈ مینیجریل اسکلز کی ڈین پروفیسر شروتی ترپاٹھی نے کی؛ اس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر وسیم اکرم شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر مونس شکیل بطور باحث شریک ہوئے۔
آخری تکنیکی سیشن،’جی ایس ٹی اور ڈیجیٹل اکانومی، کی صدارت آسام یونیورسٹی کے ڈاکٹر دیپ جیوتی چودھری نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ڈاکٹر محمد کاشف خان شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ریحان خان سوری بطور باحث شامل رہے۔
کانفرنس کی ایک نمایاں خصوصیت “وکست بھارت دوہزارسینتالیس کے لیے یونیورسٹیاں: اعلیٰ تعلیم، تحقیق، جدت اور سب کو ساتھ لے کر قوم کی تعمیر نو کا تصور کے موضوع پر کانفرنس لیڈرشپ ڈائیلاگ تھا۔ ایک منفرد علمی اجتماع میں، مرکزی یونیورسٹیوں کے چار وائس چانسلرز ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے تاکہ ہندوستانی اعلیٰ تعلیم کے مستقبل اور دوہزار سینتالیس تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تشکیل میں یونیورسٹیوں کے کردار پر تبادلہ خیال کر سکیں۔ پروفیسر دیبارشی مکھرجی کی نظامت میں ہونے والے اس مکالمے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ عزت مآب پروفیسر مظہر آصف، آسام یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر راجیو موہن پنت، میزورم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر دیباکر چندر ڈیکا اور تریپورہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر دیبرتا داس نے شرکت کی۔
ہندوستانی تعلیم کو درپیش کچھ بڑے سوالات کو حل کرنے کے لئے بات چیت ادارہ جاتی نقطہ نظر سے آگے بڑھی: ہندوستانی علمی روایات کی مطابقت، کثیر لسانی تعلیم، بین الضابطہ تعلیم، تحقیق اور اختراع، پائیداری، ادارہ جاتی ذمہ داری اور جامع قوم کی تعمیر میں یونیورسٹیوں کا کردار۔
کانفرنس کے دوسرے دن، بیس اگست دوہزار چھبیس میں، آئی آئی ایم لکھنؤ کے ڈاکٹر کشتیج اوستھی کے ساتھ پالیسی ریسرچ ڈائیلاگ بھی پیش کیا گیا، جس سے تعلیمی انکوائری کو عصری پالیسی کے خدشات سے جوڑنے کا موقع ملا۔
مکالمے نے شرکا کو اس بات پر غور کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے تکنیکی سیشن کی تکمیل کی کہ ٹیکسیشن اور معاشی نظم و نسق پر تحقیق پالیسی کی تشکیل اور نفاذ میں کس طرح اپنا تعاون دے سکتی ہے۔ اس دن کانفرنس میں ایک اور اہم فکری جہت کا اضافہ کرتے ہوئے کتاب ’بہت سے ذہن، ایک قوم‘کی رونمائی بھی ہوئی۔ تحقیقی پریزنٹیشنز، پالیسی ڈائیلاگ، علمی اشاعتوں اور ادارہ جاتی قیادت کے امتزاج نے دوسرے دن کو ایک وسیع کردار دے دیا، جس نے کانفرنس کے بنیادی تھیم کی مختلف جہتوں کو اکٹھا کیا: وکست بھارت دوہزار سینتالیس کی طرف ہندوستان کے سفر میں علم، اداروں اور باخبر عوامی پالیسی کا کردار۔
کانفرنس کا اختتام ایک الوداعی تقریب پر ہوا جس میں یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیداران، ڈینز، سربراہانِ شعبہ جات، ڈائریکٹرز، تعلیمی رہنما اور مندوبین شریک ہوئے۔
اس تقریب سے پروفیسر نصیب احمد، پروفیسر زبیر مینائی، پروفیسر محمد کمال النبی (افسر مالیات ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ) اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی ( مسجل ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ) نے خطاب کیا۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر گووردھن داس (رکن، نیتی آیوگ) نے بھی شرکائسے خطاب کیا، جس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے صدارتی خطاب کیا۔
تقریب کے دوران ‘بہترین مقالے کے ایوارڈ’اور اسناد کی تقسیم کا سلسلہ بھی عمل میں آیا جس کا مقصد کانفرنس کے دوران پیش کی گئی نمایاں تحقیقی خدمات کا اعتراف کرنا تھا۔ ‘مجموعی طور پر بہترین کانفرنس پیپر’ کا ایوارڈ گریٹر نوئیڈا کی آئی آئی ایل ایم (IILM) یونیورسٹی کے ڈاکٹر بلال خان اور ڈاکٹر کیفی اعظم کو ان کے مقالے’ امپیکٹ آف جی ایس ٹی آن بینکنگ سیکٹر ڈولپمنٹ : ایویڈینس فرام اسٹیٹ لیول پینل ڈیٹا ان انڈیا‘کو دیا گیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صہیب بشیر اور ڈاکٹر محمد عاطف کو ان کے مقالے ’فرام اسپیکفک کول سیس ٹو ایڈ ویلوریم جی ایس ٹی: ایکزامننگ انڈیاز امپلی سٹ کاربن پرائس سگنل اینڈ فرم لیول امیشین انٹینسٹی‘ کو ‘دوسرے بہترین مقالے کا ایوارڈ’ دیا گیا۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شہباز احمد خان، ندیم خان اور ڈاکٹر محمد سعیم خان کو ان کے مقالے “GST and the Digital Economy: Examining Youth Digital Startup Intentions in India through Digital Readiness, Financial Literacy, and Entrepreneurial Motivation” کے لیے تیسرے بہترین مقالے کا ایوارڈ’ دیا گیا۔
تقریب کا اختتام شریک کنوینر ڈاکٹر اظہار احمد کے کلماتِ تشکر اور اس کے بعد قومی ترانے پر ہوا۔