دلی این سی آر
جامعہ میں’پیغمبرمحمدؐایک تعلیمی مشن‘ کے عنوان سے سمینار کا انعقاد
نئی دہلی: شعبہ تعلیمی مطالعات،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم):ایک تعلیمی مشن’ کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار کا مقصد ایک ایسا علمی پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا جہاں پیغمبرِ اسلام (صلعم) کے تعلیمی مشن، تدریسی انداز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و اسوہئ حسنہ کی دائمی افادیت و اہمیت پر غور و فکر کیا جا سکے ۔
جاری ریلیز کے مطابق پروگرام میں ممتاز ماہریِنِ تعلیم، اساتذہ، ریسرچ اسکالرس اور طلبہ نے شرکت کی جس سے بامقصد علمی و روحانی مکالمے اور غور و فکر کا سلسلہ قائم ہوا۔ پروگرام کا آغاز کنوینر اور نظامت کے فرائض دے رہے ڈاکٹر محمد جاوید حسین اسسٹنٹ پروفیسر کے تعارفی کلمات سے ہوا۔ انھوں نے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر مختصراً روشنی ڈالی۔ اس کے بعد انھوں نے ریسرچ اسکالر انضمام الحق کو تلاوتِ کلامِ پاک کے لیے دعوت دے کر باقاعدہ کاروائی کا آغاز کیا۔ اس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ ٹی ٹی اینڈ این ایف ای کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر طارق انور نے نعتِ رسولِ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی، جس نے تقریب کے روحانی ماحول کو مزید پرکیف اور بابرکت بنا دیا۔
شعبہ تعلیمی مطالعات کے سابق سربراہ پروفیسر ارشد اکرام احمد نے پروفیسر اختر الواسع کا تعارف پیش کیا اور اسی شعبے کے موجودہ سربراہ پروفیسر اعجاز مسیح نے ان کا خیرمقدم کیا۔ شعبہ تعلیمی مطالعات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر علی حیدر نے پروفیسر جنید حارث کا تعارف کرایا، جن کا خیرمقدم شعبہ تعلیمی مطالعات کے سابق سربراہ پروفیسر کوشل کشور نے کیا۔ پہلا علمی خطاب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامی مطالعات کے پروفیسر جنید حارث نے ‘بطور معلم: پیغمبرِ اسلام (صلعم)’ کے موضوع پر دیا۔ اس اجلاس کا محور پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو ایک معلم کے نقطہئ نظر سے سمجھنا اور آپ صلعم کے مشن کی تعلیمی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ یہ موضوع شعبہ تعلیمی مطالعات کے لیے خاص طور پر موزوں اور اہم تھا، کیونکہ اس نے تعلیم پر محض معلومات کی منتقلی کے بجائے ایک ایسے عمل کے طور پر غور و فکر کرنے کا موقع فراہم کیا جس کا تعلق افراد کی تعمیر، ان کے کردار، اقدار، طرزِ عمل اور معاشرے کے ساتھ ان کے تعلقات سے ہے ۔ اس خطاب نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اور مشن کے تعلیمی پہلوؤں پر مزید گفتگو کے لیے ایک فکر انگیز بنیاد فراہم کی۔
علمی اجلاسوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ تعلیمی مطالعات کے ریسرچ اسکالر محمد طارق کی جانب سے نعتِ رسولِ مقبولؐ پیش کی گئی۔ نعت خوانی نے سمینار میں ایک فکر انگیز اور روحانی پہلو کا اضافہ کیا اور اسے اگلے علمی خطاب کی جانب ایک بامعنی ربط فراہم کیا۔ دوسرا اہم خطبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامیات کے پروفیسر پدم شری جناب اختر الواسع نے دیا۔ اس موضوع پر ان کے عالمانہ خیالات و مشاہدات نے سمینار کو مزید ثروت مند بنایا۔ ایسے ممتاز عالم کی موجودگی اور شرکت نے شرکا کو اس موضوع پر وسیع تر فکری اور تعلیمی تناظر میں غور و فکر کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ان کے خطاب نے سمینار کے بنیادی مقصدیعنی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے منسوب تعلیمی مشن کو سمجھنے اور عصری تعلیمی فکر و عمل میں اس کی مسلسل افادیت پر غور کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ شعبہ تعلیمی مطالعات، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سربراہ پروفیسر اعجاز مسیح کے اختتامی کلمات سے مزید تقویت ملی۔ اپنے خطاب میں انھوں نے سیمینار سے برآمد اہم نکات کا احاطہ کیا اور تعلیمی اقدار، اخلاقی نشوونما اور افراد و معاشرے کی تشکیل میں اساتذہ کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کی اختتامی تقریر نے مباحث کو ایک مناسب علمی تکمیل فراہم کی اور اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے اس موضوع کی افادیت کو اجاگر کیا۔ سمینارکا اختتام شعبہ تعلیمی مطالعات، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر آفاق ندیم خان باضابطہ اظہار تشکر پر ہوا۔ انھوں نے ممتاز مقررین، پروفیسر جنید حارث اور پدم شری پروفیسر اختر الواسع کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اپنے قیمتی علمی خیالات سے شرکا کو مستفید کیا۔ انھوں نے شعبہ تعلیمی مطالعات کے سربراہ پروفیسر اعجاز مسیح کا ان کی قیادت اور رہنمائی کے لیے ، نیز پروفیسر ارشد اکرام احمد، پروفیسر کوشل کشور، ڈاکٹر محمد موسیٰ علی، ڈاکٹر علی حیدر، ڈاکٹر سجاد احمد، ڈاکٹر طارق انور اور دیگر تمام اساتذہ، ریسرچ اسکالراور طلبہ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس پروگرام کے کامیاب انعقاد میں اپنا گراں قدر تعاون پیش کیا۔