دلی این سی آر

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں3 روزہ فیکلٹی ڈولپمنٹ پروگرام اختتام پذیر

Published

on

نئی دہلی :شعبہ تعلیمی مطالعات، فیکلٹی آف ایجوکیشن ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل ٹیکنالوجی(سی آئی ای ٹی) این سی ای آرٹی کے اشتراک سے دس سے بارہ اگست دوہزار چھبیس تک ’اساتذہ، اساتذہ کے تربیت کاروں اور زیرِ تربیت اساتذہ کے لیے آئی سی ٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیزـکے موضوع پر سہ روزہ فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام کا مقصد اساتذہ، اساتذہ کے تربیت کاروں اور زیرِ تربیت اساتذہ کی تکنیکی اور تدریسی صلاحیتوں کو بہتر کرنا اور انہیں اس قابل بنانا تھا کہ وہ تعلیمی ٹیکنالوجی کے تیزی سے تبدیل ہوتے منظرنامے میں بامعنی، تنقیدی اور تخلیقی انداز میں شامل ہو سکیں۔ اس پروگرام میں تقریباً سو شرکا نے حصہ لیا، جن میں ملازمت سے قبل اور دورانِ ملازمت اساتذہ، پوسٹ گریجویٹ طلبہ اور تحقیقی اسکالرس شامل تھے۔
پروگرام کے پہلے دن کا آغازدکشاایپلی کیشن کے ذریعے شرکا کی اندراج سے ہوا، جس کے بعد ایک ’پری ٹیسٹ‘ لیا گیا تاکہ پروگرام سے متعلقہ موضوعات کے بارے میں شرکا کی معلومات اور ان کی فہم کا اندازہ لگایا جا سکے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخؒ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف نے کی۔ این سی ای آر ٹی، نئی دہلی کے جوائنٹ ڈائریکٹر پروفیسر پرکاش چندر اگروال اس اجلاس کے مہمانِ خصوصی تھے۔ پروگرام شعبہ ایجوکیشنل اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر اعجاز مسیح کی رہنمائی میں منعقد کیا گیا۔ پروفیسر کوشل کشور اور ڈاکٹر سمیر بابو ایم نے بطور کوآرڈینیٹر اپنی خدمات انجام دیں، جب کہ ڈاکٹر آفاق ندیم خان اور ڈاکٹر محمد موسیٰ علی نے بطور منتظم سیکریٹری اپنے فرائض انجام دیے۔ افتتاحی اجلاس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ تعلیمی مطالعات کے اساتذہ نے شرکت کی۔
افتتاحی اجلاس کا آغاز قرآن پاک کی تلاوتِ سے ہوا، جس کے بعد جامعہ کا ترانہ پیش کیا گیا۔ عصری تعلیم میں آئی سی ٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی روز افزوں اہمیت پر روشنی ڈالی اور پروگرام کے انعقاد میں سی آئی ای ٹی، این سی ای آر ٹی اور شعبۂ تعلیمی مطالعاتِ کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے خاص طور پر این سی ای آر ٹی کے ساتھ اشتراک پر پروفیسر کوشل کشور کی کوششوں کی تعریف کی۔
اس کے بعد سی آئی ای ٹی، این سی ای آر ٹی،کے میڈیا پروڈکشن ڈویژن کے پروفیسر شیریش پال سنگھ نے فیکلٹی ڈولپمنٹ پروگرام (ایف ڈی پی)کا ایک جائزہ پیش کیا۔ انھوں نے پروگرام کے مقاصد، ضرورت، دائرہ کار اور مجموعی ڈھانچے کی وضاحت کی۔ پروفیسر سنگھ نے کورس کے مواد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بتایا کہ اس ایف ڈی پی کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے تاکہ اساتذہ، اساتذہ کے تربیت کاروں اور زیرِ تربیت اساتذہ کو تعلیم سے متعلق آئی سی ٹی کی جدید پیش رفت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے روشناس کرایا جا سکے۔ انھوں نے پروگرام کے نفاذ، جانچ اور سرٹیفیکیشن (بشمول ماقبل ٹسٹ اور مابعد ٹسٹ) میں ’دکشا‘پلیٹ فارم کے کردار کی بھی وضاحت کی۔
افتتاحی اجلاس کے اہم ترین لمحات میں سے ایک مہمانِ خصوصی، پروفیسر پرکاش چندر اگروال ،جوائنٹ ڈائریکٹر،  این سی ای آرٹی کا خطاب تھا۔ ان کے فکر انگیز کلیدی خطبے میں ٹیکنالوجی کے ارتقا اور تعلیمی عمل پر اس کے بڑھتے ہوئے اثرات کا احاطہ کیا گیا۔ اینالاگ ٹیکنالوجیز سے سیمی کنڈکٹر پر مبنی پیش رفت کی طرف منتقلی کا جائزہ لیتے ہوئے ، پروفیسر اگروال نے وضاحت کی کہ کس طرح تکنیکی ترقی نے تعلیم کے تصور اور اس کی فراہمی کے طریقوں کو بتدریج تبدیل کر دیا ہے۔ انھوں نے تعلیم کے میدان میں ٹیکنالوجی کو ’مساوات پیدا کرنے والے ‘عنصر کے طور پر پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس کا بامقصد استعمال اس بات کو یقینی بنانے پر منحصر ہے کہ تمام سیکھنے والے تکنیکی مواقع سے استفادہ کرنے کے اہل ہوں۔
عزت مآب پروفیسر مظہر آصف،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدارتی کلمات نے افتتاحی اجلاس کو ایک گہرا فلسفیانہ اور تعلیمی پہلو عطا کیا۔ ایک اردو شعر سے آغاز کرتے ہوئے ، پروفیسر آصف نے تعلیم، سیکھنے کے عمل اور انسانی تجربے کے گہرے مفہوم پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے ’ گیان‘(علم) اور ’شکشا‘(تعلیم) کے درمیان ایک بصیرت افروز فرق واضح کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تعلیم محض معلومات کے ذخیرے سے کہیں زیادہ وسیع چیز ہے۔ ان کے مطابق، حقیقی تعلیم میں فہم و ادراک، اقدار، تجربے اور علم کا بامقصد اطلاق شامل ہے۔
پروفیسر آصف نے ’تجرباتی تعلیم‘پر خصوصی زور دیا اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایسے مواقع پیدا کریں جن کے ذریعے طلبہ نظریاتی علم کو حقیقی زندگی کے تجربات سے ہم آہنگ کر سکیں۔ انھوں نے ’قومی تعلیمی پالیسی‘کی تشکیل میں شامل کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے اپنے تجربات اور مشاہدات بھی شرکا کے ساتھ شیئر کیے ، جس سے شرکا کو دورِ حاضر میں تعلیمی تبدیلیوں کے حوالے سے پالیسی پر مبنی ایک اہم نقطہ نظر حاصل ہوا۔ پروفیسر آصف کے خیالات نے فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کے وسیع تر مقاصد کو ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی ماحول میں اساتذہ کے بدلتے ہوئے پیشہ ورانہ کردار سے مربوط کیا۔
پروفیسر کوشل کشور، سابق سربراہ، شعبہ تعلیمی مطالعات، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سامعین کی شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے شیخ الجامعہ ،جامعہ ملیہ اسلامیہ، مہمانِ خصوصی، فیکلٹی ممبران، کوآرڈینیٹرز، منتظمین، خصوصی ماہرین اور شرکا کا ان کی قیمتی موجودگی اور تعاون پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے منتظمہ کمیٹی ،خاص طور پر ڈاکٹر سمیر بابو ایم، ڈاکٹر آفاق ندیم خان اور ڈاکٹر محمد موسیٰ علی کے ساتھ ساتھ تمام طلبہ رضاکاروں، دفتری عملہ اور تکنیکی عملے کی مخلصانہ کوششوں کا بھی اعتراف کیا، جن کے تعاون  سے مختلف اجلاس کامیابی کے ساتھ منعقد ہوگئے ۔ افتتاحی تقریب کا اختتام قومی ترانے کی نغمہ سرائی سے ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network