Uncategorized

بی جے پی سرکارمیں بدحال سرکاری اسپتالوں کی حقیقت ہوئی بے نقاب : بھاردواج

Published

on

 

 

(پی این این)
نئی دہلی: بی جے پی کی حکومت نے دہلی کے سرکاری اسپتالوں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ لوگوں کا علاج کرنے والے سرکاری اسپتال آج خود بیمار پڑے ہیں۔ اسپتالوں میں مریضوں کو نہ دوائیں مل رہی ہیں اور نہ ہی ضروری ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔
عام آدمی پارٹی کے رکنِ اسمبلی سنجیو جھا اور کلدیپ کمار نے گرو تیغ بہادر اسپتال (جی ٹی بی) کا دورہ کرکے وہاں کی زمینی حقیقت کو بے نقاب کیا۔ آپ کے ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے دورے کی ویڈیو ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی حکومت کے سب سے بڑے طبی مراکز میں سے ایک جی ٹی بی اسپتال شدید غفلت کا شکار ہے۔ حالات اتنے تشویشناک ہیں کہ لوگوں کو باہر سے دوائیں خریدنے اور ٹیسٹ کرانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جی ٹی بی اسپتال میں دواؤں کی شدید قلت ہے اور مریضوں کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ مکمل دوائیں نہیں مل پا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جانچ کی سہولیات بھی پوری طرح ٹھپ پڑی ہیں۔ ضروری ٹیسٹ اور اسکین اسپتال میں دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے مریض باہر کی پرائیویٹ لیب سے یہ ٹیسٹ کرانے پر مجبور ہیں۔ علاج کے لیے آنے والے عام لوگوں کی یہ پریشانی دہلی کے سرکاری اسپتالوں کی زمینی حقیقت کو واضح طور پر اجاگر کرتی ہے۔
دراصل، جمعرات کو آپ کے ارکانِ اسمبلی سنجیو جھا اور کلدیپ کمار نے جی ٹی بی اسپتال کا دورہ کرکے زمینی حقیقت جاننے کی کوشش کی۔ جب انہوں نے اسپتال آنے والے لوگوں سے بات کی تو معلوم ہوا کہ ہر مریض اسپتال میں پھیلی بدنظمی سے انتہائی پریشان اور دکھی ہے۔ اگر ڈاکٹر پانچ دوائیں لکھ رہے ہیں تو ان میں سے صرف دو یا تین دوائیں ہی اسپتال سے مل رہی ہیں، باقی دوائیں باہر سے خریدنی پڑ رہی ہیں۔ دواؤں کے کاؤنٹر بھی کم کر دیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے مریضوں کا نمبر آتے ہی کاؤنٹر بند ہو جاتا ہے اور وہ بغیر دوا لیے واپس لوٹنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
اسپتال میں کوئی ٹیسٹ نہیں ہو پا رہا ہے اور ڈاکٹر انہیں باہر سے ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ بہت سے مریضوں نے بتایا کہ عام آدمی پارٹی کی حکومت کے دوران تمام دوائیں اسپتال سے ہی مل جاتی تھیں۔ ہر طرح کے ٹیسٹ بھی اسپتال میں ہوتے تھے، لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے۔مریضوں سے بات کرنے کے بعد رکنِ اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ اسپتال میں تعینات سکیورٹی گارڈ 100 سے 200 روپے لے کر مریضوں کو براہِ راست ڈاکٹر کے کمرے میں داخل کرا دیتے ہیں۔
، جبکہ لائن میں کھڑے لوگ باہر ہی رہ جاتے ہیں۔ لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ ایمرجنسی کی پرچی راجیو گاندھی اسپتال سے بنے گی، جبکہ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے محلہ کلینک میں اسپتالوں سے بھی بہتر دوائیں ملتی تھیں۔ جب سے محلہ کلینک بند ہوئے ہیں، تب سے اسپتالوں میں کھانسی، نزلہ، بخار جیسی بیماریوں کے علاج اور جانچ کے لیے شدید بھیڑ ہو رہی ہے۔ سنجیو جھا نے کہا کہ اسپتال میں کوئی ٹیسٹ نہیں ہو رہا ہے۔ مریضوں کو باہر سے الٹراساؤنڈ کرانے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ باہر الٹراساؤنڈ کے لیے 1000 روپے مانگے جا رہے ہیں۔ اسی طرح لوگوں کو ایم آر آئی اور ایکسرے کرانے کے لیے بھی باہر بھیجا جا رہا ہے۔ سنجیو جھا نے وزیرِ صحت اور وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا سے کہا کہ پہلے ان کے وزیرِ صحت نے 300 کروڑ روپے لوٹ لیے۔ 100 کروڑ روپے مالیت کی دوائیں 400 کروڑ روپے میں خریدی گئیں۔ اب وہ دوائیں بھی غائب ہیں۔ وہ دوائیں اسپتال تک پہنچی ہی نہیں ہیں اور دواؤں پر ایم آر پی اس لیے درج ہے تاکہ انہیں باہر فروخت کیا جا سکے۔ اسپتال کے حالات ایسے بنا دیے گئے ہیں کہ مریضوں کو دوائیں مل ہی نہیں رہی ہیں۔ اس دوران کلدیپ کمار نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے محض ڈیڑھ سال میں ہی سرکاری اسپتالوں کی حالت بدتر کر دی ہے۔ مریض دواؤں اور ٹیسٹ کے لیے دھکے کھا رہے ہیں۔ نہ مکمل دوائیں مل رہی ہیں اور نہ ہی ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ جی ٹی بی اسپتال میں دور دراز علاقوں سے لوگ علاج کرانے آتے ہیں، لیکن یہاں آنے کے بعد وہ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں مکمل دوائیں نہیں مل رہی ہیں۔ لوگوں کو جو دوائیں دی جا رہی ہیں، ان پر ناٹ فار سیل نہیں لکھا ہے بلکہ ان پر ایم آر پی چھپی ہوئی ہے۔ جان بوجھ کر ایم آر پی والی دوائیں دی جا رہی ہیں تاکہ انہیں باہر بازار میں فروخت کیا جا سکے۔ کلدیپ کمار نے کہا کہ اسپتال میں دستیاب سہولیات کا بھی برا حال ہے۔ سکیورٹی کے لیے تعینات گارڈ باہر کاؤنٹر پر پیسے لے کر بغیر لائن کے دوائیں دلوانے کا گورکھ دھندا چلا رہے ہیں۔اسپتال میں داخل ایک مریض کے تیماردار نے بتایا کہ وہ دو دن سے وہاں شفٹ ہیں، لیکن اس عمارت میں پانی نہیں آ رہا ہے، پنکھے خراب پڑے ہیں اور گرمی و بدنظمی کے باعث خواتین بے ہوش ہوکر گر رہی ہیں، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network