Bihar
بہار کے 5 اضلاع میں ڈینگو کا پھیلاؤ، پٹنہ، مظفرپور سمیت 5 اضلاع ریڈ زون میں شامل،محکمہ صحت کی جانب سےخصوصی اور سخت نگرانی کے انتظامات
(پی این این)
پٹنہ:بہار کے پانچ اضلاع کو ڈینگو کے ریڈ زون میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں مظفرپور کے علاوہ پٹنہ، مدھے پورہ، ویشالی اور بھاگلپور شامل ہیں۔ ان اضلاع میں ڈینگو کی روک تھام کے لیے خصوصی چوکسی اور سخت نگرانی برتی جائے گی۔
ضلع ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے کنٹرول کے افسر ڈاکٹر راجیش کمار کے مطابق ڈینگی پر قابو پانے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اب تک کسی بھی مریض کی حالت تشویشناک ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے، جبکہ اسپتالوں میں تشخیصی کٹس بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔
محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق مظفرپور کا مُشہری علاقہ ڈینگی کے ہاٹ اسپاٹ کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موتی جھیل، اہیاپور اور شہبازپور علاقوں میں بھی ڈینگو کے نسبتاً زیادہ مریض سامنے آئے ہیں۔رواں سال اب تک پورے بہار میں ڈینگو کے 191 مریض سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں سے صرف ریڈ زون قرار دیے گئے پانچ اضلاع میں 84 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
مظفرپور ضلع میں اب تک ڈینگی کے 17 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پٹنہ میں سب سے زیادہ 54 مریض سامنے آئے ہیں، جبکہ ویشالی میں 6، مدھے پورہ میں ایک، بھاگلپور میں 6 اور مظفرپور میں 17 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ان اضلاع میں گزشتہ سال بھی ڈینگو کے مریضوں کی تعداد نسبتاً زیادہ رہی تھی، جس کے پیش نظر انہیں ریڈ زون میں شامل کیا گیا ہے۔ سال 2025 میں پٹنہ میں 1817، ویشالی میں 166، مدھے پورہ میں 127، مظفرپور میں 125 اور بھاگلپور میں 93 ڈینگو کے مریض ریکارڈ کیے گئے تھے۔
روزانہ سامنے آ رہے ہیں ڈینگو کے نئے مریض: سرکاری لیبارٹریوں کی جانچ کے مطابق اب تک ڈینگی کے صرف 17 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ نجی لیبارٹریوں کی رپورٹوں میں روزانہ نئے مریض سامنے آ رہے ہیں۔
محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ جب تک ایلائزا (ELISA) ٹیسٹ کے ذریعے ڈینگی کی تصدیق نہ ہو جائے، مریض کو سرکاری اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا جاتا۔ ایلائزا ٹیسٹ ایس کے ایم سی ایچ اور صدر اسپتال میں کیا جاتا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈینگی کے 17 مریض سامنے آنے کے باوجود اب تک اسپتالوں میں ڈینگی کے لیے خصوصی وارڈ قائم نہیں کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایک تشویشناک صورتِ حال یہ بھی ہے کہ محکمۂ صحت کی رپورٹ کے مطابق مظفرپور میں ڈینگی پر قابو پانے کے لیے فعال فوگنگ مشینوں کی تعداد 15 بتائی گئی ہے، مگر ان میں سے صرف 6 ہی قابلِ استعمال ہیں۔
اسی طرح ریاست بھر میں فعال فوگنگ مشینوں کی تعداد 318 ظاہر کی گئی ہے، لیکن درجنوں مشینیں خراب ہونے کے باعث کام نہیں کر رہی ہیں۔مظفرپور ضلع میں ڈینگو کے 17 کیس سامنے آنے کے باوجود کئی علاقوں میں فوگنگ نہیں کرائی گئی۔ محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں فوگنگ کرانے کی ذمہ داری اس کی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں یہ ذمہ داری میونسپل کارپوریشن کے سپرد ہے۔