Bihar

بہار میں جرائم پیشہ افرادکے خلاف قانونی شکنجہ مزید سخت،زمین پر ناجائز قبضہ کرنے والے مافیا اور پرچہ لیک کرنے والوں پرنافذ ہوگا سی سی اے ، ریاستی اسمبلی میں متعلقہ بل متفقہ طورپر منظور

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں زمین مافیا اور پرچہ لیک کرنے والے گروہوں کے خلاف اب مزید سخت کارروائی ممکن ہو سکے گی۔ درحقیقت ریاست کی سمراٹ چودھری کی حکومت نے جرائم پر قابو پانے سے متعلق قانون کو مزید سخت کرتے ہوئے منظم جرائم اور زمین مافیا کو بھی اس کے دائرۂ کار میں شامل کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں کل بہار اسمبلی نے بہار انسدادِ جرائم (ترمیمی) بل 2026 منظور کر لیا۔
اس ترمیم کے تحت پرچہ لیک کرنے والے گروہوں، دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم، کسی شخص کو اس کی جائیداد سے زبردستی بے دخل کرنے، سرکاری املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے، نیز جنگلاتی وسائل اور جنگلی حیات کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچانے جیسے جرائم کو بھی اس قانون کے دائرۂ کار میں شامل کیا جائے گا۔
نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار چودھری نے کہا کہ بدلتے وقت کے ساتھ جرائم کی نوعیت بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ سائبر جرائم، سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور منظم جرائم سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے قانون کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ترمیم کے تحت سوشل میڈیا پر گالی گلوچ، ناشائستہ زبان استعمال کرنے یا کسی شخص کے خلاف غیر مہذب اور توہین آمیز تبصرہ کرنے والوں کے خلاف بھی بہار انسدادِ جرائم قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے گی۔ ایسے معاملات میں چھ ماہ سے ایک سال تک قید کی سزا کی گنجائش رکھی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پرچہ لیک جیسے جرائم کو بھی منظم جرائم کے زمرے میں شامل کر لیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ممکن ہو سکے گی۔ یہ بل اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
بہار میں خصوصی جامعات قائم کی جائیں گی، جہاں جدید تحقیق، تکنیکی اختراع، سائنسی ریسرچ اور انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔ ان جامعات کے قیام سے نئے سائنسی نظریات اور روزگار پر مبنی تعلیم کو تقویت ملے گی۔ بہار اسمبلی نے کل بہار خصوصی جامعات بل 2026 کی منظوری دے دی۔
ایوان میں بل پیش کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم سنجے سنگھ ٹائیگر نے کہا کہ ریاست میں کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور فنِ تعمیر (آرکیٹیکچر) جیسے شعبوں کی خصوصی جامعات قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اسی مقصد کے تحت یہ بل پیش کیا گیا ہے۔اسی طرح شیاما پرساد مکھرجی مصنوعی ذہانت و کمپیوٹر سائنس یونیورسٹی کے قیام کی تجویز کو بھی منظوری دے دی گئی۔ جبکہ مظفرپور میں شہید جبّا سہنی فنِ تعمیر و سول انجینئرنگ یونیورسٹی قائم کی جائے گی، جہاں فنِ تعمیر، سول انجینئرنگ اور ان سے متعلقہ شعبوں میں اعلیٰ درجے کی تحقیق، اختراع اور علمی ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network