Bihar
بھاگلپور: انجمن باغ و بہار کے زیراہتمام ادبی نشست منعقد
بھاگلپور:(پی این این)انجمن باغ و بہار، برہ پورہ، بھاگلپور کے زیر اہتمام محمد شاداب عالم کی رہائش گاہ پر شاعر جوثر ایاغ کی صدارت میں ادا ؔجعفر ی کے یوم پیدائش پر ایک ادبی نشست منعقد کی گئی۔
اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریٹر ی ڈاکٹر محمد پرویز نے ادا جعفری کے حیات و فن کے حوالے سے کہا کہ ادا جعفری جدید اردو شاعری میں شاعرہ کی حیثیت سے کسی تعارف کا محتاج نہیںہیں۔ انکو اردو شاعری کی پہلی شاعرہ کہا جاتا ہے۔ انکی شاعری کا لب لہجہ شعر و ادب کے قارئین کے لئے اجنبی نہیںمانوس اور جانا پہچانا ہے۔انکے کلام کا دھیما میٹھا دلاویزلہجہ پڑھنے اور سننے والوں کے دلوں میں رچ بس جاتا ہے۔انکا اصل نام عزیز جہاں اور تخلص اداؔ۔ پہلے وہ بدایوں کے نام سے لکھتی تھیں۔انکی شادی نور الحسن جعفری سے ہوئی تو انہوں نے ادا جعفری لکھنا شروع کیا۔انکے والد کا نام مولوی بدر الحسن تھا جو محکمہ زراعت میں ملازم تھے۔ 22 اگست 1924ء بدایوں میں پیدا ہوئیں اور وفات مارچ 2015ء میں۔ انکی ابتدئی تعلم گھر پر ہوئی اور میٹرک اور انٹر پرائیوٹ طور پر کیا۔انکے گھر میں نیرنگ خیال،ساقی اور رومان جیسے مشہور ادبی رسالے آتے تھے۔
وہ اثر لکھنوی،جوش ملیح آبادی،جگر مراد آبادی،فراق گورکھپوری ،اختر شیرانی کا کلام پڑھا کرتی تھیں اور علامہ اقبال سے متاثر تھیں۔ انہوں نے تیرہ سال کی عمر میں شعر کہنے لگی تھیں۔ انکی پہلی غزل 1945ء کے رومان میں شائع ہوئی ،جس کے مدیر شاعر رومان اختر شیرانی تھے۔انہوں نے اختر شیرانی سے اصلاح لی بعد میں مرزا جعفر علی خاں اثر سے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے متاثر تھیں۔انہوں نے غزلوں اور نظموں کے علاوہ جاپانی صنف ہائیکو پر طبع آزمائی کی۔ نظموں میں انہوں نے پابند اور معریٰ نظمیں لکھی ہیں تقسیم ہند کے بعد 1948ء وہ پاکستان چلی گئیں۔انکی تصانیف میں ساز ڈھونتی رہی،جو رہی سو بے خبر رہی(سوانح حیات)،ساز سخن بہانہ ہے،شہر درد،غزالا ںتم تو واقف ہو،حرف شناسائیِ غزل نما،۔انکی اہم نظموں میں جلا وطن،ابھی ٹھہرو،لمحہ لمحہ،ہم نے خواب دیکھے تھے،سویرا ہو تو کیسے ہو،خالی ہاتھ،وہ لمحہ، گواہی،پانچواں موسم، آنسو ہے گلاب ہے دیا ہے،کوئی تو ہو، آئینوں کے دکھ،اے دل بے ہنر،صدیوں کا سفر،کہیں وقت تھم نہ جائے وغیرہ اہم ہیں ۔ نشست میں جوثر ایاغ، محمد شاداب عالم، شہزور اختر،محمد محبوب عالم،نوشین جہاں نے ادا جعفری کے فن سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔