Bihar
بھاگلپور:شاہ کنڈ میں غیرقانونی کاکنی عروج پر
(سعیدانور؍پی این این)
بھاگلپور:ضلع شاہ کنڈ بلاک میں غیر قانونی مٹی کٹائی کا کاروبار مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ بلاک کے موضع پنچ کٹھیا واقع سکھ سروور گاؤں کے پیچھے، بیرائی اور کھلنی پنچایت کے جمال پور علاقے سمیت کئی مقامات پر زرعی رعیّتی زمینوں سے بڑے پیمانے پر مٹی کاٹ کر فروخت کی جا رہی ہے۔ دیہی باشندوں کا الزام ہے کہ کئی جگہوں پر 10 سے 15 فٹ تک مٹی کاٹ لی گئی ہے، جس کے باعث سیکڑوں ایکڑ زرخیز زرعی زمین گہرے گڑھوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے پر عوام میں ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق جے سی بی مشینوں کی مدد سے کھیتوں کی بالائی زرخیز مٹی کاٹی جا رہی ہے اور درجنوں ٹریکٹروں کے ذریعے اس کی نقل و حمل کی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سرگرمیاں کسی دور دراز علاقے میں نہیں بلکہ ایسے مقامات پر ہو رہی ہیں جہاں انتظامی اور پولیس افسران کی باقاعدہ آمد و رفت رہتی ہے۔ اس کے باوجود مٹی کٹائی کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔دیہی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد مرتبہ متعلقہ تھانے اور انتظامی افسران کو اس کی اطلاع دی۔ شکایات میں بتایا گیا کہ زرعی اراضی سے بڑے پیمانے پر مٹی کاٹی جا رہی ہے اور ٹریکٹروں کے ذریعے اس کی کھلے عام نقل و حمل کی جا رہی ہے، لیکن اب تک کوئی ٹھوس کارروائی سامنے نہیں آئی۔ اس صورت حال کے باعث عوام کے درمیان یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ آخر اس غیر قانونی کاروبار کو روکنے میں انتظامیہ بے بس ہے یا پھر کہیں نہ کہیں اسے سرپرستی حاصل ہے۔
معاملے کے تعلق سے جب ضلعی معدنیات افسر سے ردِّعمل لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’موقع پر جا کر معائنہ اور جانچ کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔‘‘ محکمۂ معدنیات کا یہ جواب بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ دیہی باشندوں کا کہنا ہے کہ جب مہینوں سے مٹی کٹائی جاری ہے، وسیع گڑھے بن چکے ہیں اور دن دہاڑے مٹی کی نقل و حمل ہو رہی ہے، تب بھی اگر محکمہ کو صورت حال کی خبر نہیں تو اسے نگرانی کے نظام کی سنگین ناکامی تصور کیا جائے گا۔
ادھر علاقائی رکنِ اسمبلی للیت نارائن منڈل نے اس معاملے میں کہا کہ ’’مٹی کٹائی روکنے کا کام تھانے کا ہے، میرا نہیں۔‘‘ رکنِ اسمبلی کے اس بیان کے بعد بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دیہی باشندوں کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری صرف ترقیاتی منصوبوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ علاقے کے سنگین مسائل کو انتظامیہ کے سامنے اٹھا کر ان کے حل کی سمت میں پہل کرنا بھی ان کے فرائض کا حصہ ہے۔ماہرین کے مطابق کھیتوں کی بالائی مٹی سب سے زیادہ زرخیز ہوتی ہے اور زرعی پیداوار کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ بڑے پیمانے پر مٹی کٹنے سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے اور مستقبل میں کاشت کاری دشوار ہو جاتی ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب جے سی بی مشینیں مسلسل کام کر رہی ہیں، درجنوں ٹریکٹر دن کی روشنی میں مٹی ڈھو رہے ہیں، زرعی اراضی پر گہرے گڑھے بن چکے ہیں اور دیہی باشندے مسلسل شکایات کر رہے ہیں، تب بھی کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟ شاہ کنڈ کے عوام اب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر اس غیر قانونی مٹی کٹائی کو روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے اور علاقے کی زرخیز زرعی زمین کو بچانے کے لیے انتظامیہ کب بیدار ہوگی۔اگر بروقت مؤثر روک نہ لگائی گئی تو آنے والے برسوں میں شاہ کنڈ کی زرخیز زمین زرعی پیداوار کے بجائے آبی جماؤ، زمینی کٹاؤ اور گہرے گڑھوں کی شناخت بن کر رہ جائے گی۔ دیہی باشندوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری جانچ کر کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے اور غیر قانونی مٹی کٹائی پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔