دلی این سی آر
بھارتی ریلوے کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین تیار،جند-سونی پت روٹ پر چلے گی10 کوچز پر مشتمل جدید ٹرین ، 2600 مسافروں کی گنجائش
خالد وسیم
نئی دہلی:بھارتی ریلوے ملک کی پہلی ہائیڈروجن فیول سیل ٹرین کو پٹریوں پر اتارنے کے لیے تیار ہے۔ یہ جدید ٹرین ہائیڈروجن ایندھن کی مدد سے خود اپنی بجلی پیدا کرے گی اور اس کے آپریشن کے دوران کاربن کے اخراج کو تقریباً صفر سطح تک محدود رکھا جا سکے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف ریلوے نظام میں ایک بڑی تکنیکی تبدیلی ہے بلکہ بھارت کے گرین انرجی مشن کو بھی نئی رفتار فراہم کرے گا۔بھارتی ریلوے گزشتہ ایک دہائی کے دوران تیزی سے برقی کاری کے عمل کو مکمل کر چکی ہے اور اب براڈ گیج نیٹ ورک کا 99 فیصد سے زیادہ حصہ بجلی سے چل رہا ہے۔ اس کے باوجود ریلوے انتظامیہ صاف توانائی کے مزید جدید ذرائع تلاش کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی کو عملی شکل دی گئی ہے۔اس ٹیکنالوجی میں ٹرین کے اندر نصب فیول سیل ہائیڈروجن اور فضا میں موجود آکسیجن کے درمیان کیمیائی عمل کے ذریعے بجلی پیدا کرتا ہے۔ اس عمل میں نہ دھواں پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج، جبکہ صرف پانی کے بخارات خارج ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرینوں کو مستقبل کا ماحول دوست سفری ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔بھارتی ریلوے کی یہ ٹرین دو ہائیڈروجن پاور کارز اور آٹھ مسافر کوچز پر مشتمل ہوگی۔ ہر پاور کار تقریباً 1200 کلو واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ ٹرین کی ڈیزائن رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔ اس میں ایک وقت میں تقریباً 2600 مسافر سفر کر سکیں گے، جو عالمی سطح پر چلنے والی بیشتر ہائیڈروجن ٹرینوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ گنجائش ہے۔ریلوے حکام کے مطابق ٹرین کو ابتدائی طور پر شمالی ریلوے کے جند-سونی پت سیکشن پر چلایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ہریانہ کے جند میں ملک کا سب سے بڑا ریلوے ہائیڈروجن ری فیولنگ مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں گرین ہائیڈروجن کی تیاری، ذخیرہ اور سپلائی کا مکمل نظام موجود ہے۔ہائیڈروجن کی آتش گیر نوعیت کے پیش نظر منصوبے میں خصوصی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ٹرین اور ری فیولنگ اسٹیشن دونوں مقامات پر ہائیڈروجن لیکیج سینسر، آگ اور دھوئیں کی نشاندہی کرنے والے جدید آلات، خودکار شٹ ڈاؤن سسٹم اور مسلسل نگرانی کے نظام نصب کیے گئے ہیں۔ کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں نظام خودکار طور پر ہائیڈروجن کی سپلائی بند کر دیتا ہے۔ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرین کو مسافروں کے لیے شروع کرنے سے قبل مختلف تکنیکی اور حفاظتی آزمائشوں سے گزارا گیا، جن میں بریکنگ سسٹم، برقی نظام، کمپن اور مواصلاتی نظام کے تفصیلی ٹیسٹ شامل تھے۔ جرمنی کی معروف سرٹیفکیشن ایجنسی TÜV SÜD نے بھی اس منصوبے کا آزادانہ حفاظتی جائزہ لیا ہے۔ماہرین کے مطابق ہائیڈروجن ٹرین کا آغاز بھارت کو گرین ٹرانسپورٹ کے عالمی نقشے پر ایک نئی شناخت دلائے گا۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو دیگر ریلوے روٹس، خصوصاً کالکا-شملہ جیسے تاریخی راستوں تک توسیع دینے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جو ملک میں ماحول دوست سفری نظام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔