uttar pradesh

بچوں کی تعلیم اور تربیت میں اردو اور اردو کے اخبار کا اہم کردار :پروفیسر صغیر افراہیم

Published

on

میرٹھ:بچہ اگر گھر کے ماحول میں ہے تو اس کے ماحول کو خوشگوار کرنے میں اردو کا اہم رول ہے۔ گھر کا ماحول اگراردو کا بن جائے تو یہ ایک تہذیب کو بڑھاوادینا ہوگا۔ اردو کا اخبار منگانا بھی ضروری ہے۔ بچوں کی تعلیم اور تربیت میں اردو اور اردو کے اخبار کا اہم کردار ہوتا ہے۔ والدین بھی اردو کے لیے مایوس نہیں ہو تے۔ وہ بھی اسکول کے پرنسپل سے آکر نہیں کہتے کہ ہمارا بچہ اردو میں کمزور کیوں ہے۔ اسکول والوں پر بھی ہم اعتراض نہیں کرسکتے۔ وہ اردو کے لیے جتنا کررہے ہیں ٹھیک ہے۔ کیو نکہ اگر ہم سنجیدہ نہیں ہیں تو اسکول والوں کو بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بچوں کے والدین اردو کے لیے فکر مند نہیں ہوتے۔ ہمارے بچے مسجد میں قرآن کا ترجمہ، انگریزی میں پڑھتے ہیں مگر اردو میں انہیں دلچسپی نہیں ہے۔ ہمیں قوم کے درد کو محسوس کرنا ہوگا۔ ملک کی آزادی سے قبل بے شمار اردو میڈیم اسکول تھے مگر اب غا ئب ہیں۔یہ الفاظ تھے معروف ادیب و ناقد پروفیسر صغیر افراہیم کے جو شعبہئ اردو اور ایوسا کے اشتراک سے منعقد پروگرام بعنوان”اردو کی پرائمری تعلیم: صورت حال اور امکانات“ میں اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقدپروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کے بطور محمد طیب] پرنسپل جے ایس جونئر ہائی اسکول، غازی پور[اورمہمان اعزازی کے بطورمرزا منہاج الدین، وسیم احمد، محمد عمران اور جاوید علی ]اسسٹنٹ ٹیچر[نے شر کت فرمائی۔ مقرر کے بطور ایو ساکی صدر پروفیسر ریشما پروین بھی موجود رہیں۔استقبالیہ کلمات سیدہ مریم الٰہی، نظامت عرفان عارف]جموں [ اور شکریے کی رسم ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے ادا کی۔
ایو ساکے سیکریٹری ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ اردو کی پرائمری تعلیم آج کا ایک اہم موضوع ہے جو عصر حاضر میں،مدرسوں، اسکولوں اور زبان کی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔پرا ئمری سطح پر اردو تعلیم کے سامنے آج بہت سے مسائل اور میلانات ہیں۔ان مسائل کے ساتھ بہت سی تبدیلیاں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔بہت سے مسائل جیسے اردو اساتذہ کی کمی، جدید اردو کی پرائمری کتب کا نہ ہونا، روزگار سے اردو کا جُڑا نہ ہونا وغیرہ ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ کچھ سہولیات بھی ہیں مثلاً خوبصورت ڈیزائن اور تصاویر کے ساتھ اردو کی پرائمری کتب منظر عام پر آ رہی ہے۔ ذاتی مدارس اور اسکولوں میں دینی تعلیم اور اردو زبان کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ آج کے پروگرام کا موضوع بڑا اہم اور منفرد ہے۔ تعلیم کا بنیادی کام پرا ئمری کے اساتذہ کرتے ہیں۔ میری خود کی ابتدا پرائمری اسکول سے ہوئی۔ میں نے پرائمری ادارہ میں 150 روپے کی تنخواہ پر خود کام کیا ہے۔ ہم اعلیٰ تعلیم والوں کا پرائمری تعلیم والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے جو ایک بڑی کمی ہے۔ اردو کے درخت کی جڑے سینچنا ہوں تو پرائمری تعلیم پر زور دینا ہوگا۔ آج بہت سے مسائل ہیں جو اردو کے فروغ میں رکا وٹ بنے ہوئے ہیں۔ آج کل اردو میں اعلیٰ تعلیم والے کم ہیں۔ اردو زبان کا مقصد دلوں کو ملانا ہے۔ دیگر زبانوں کی طرح اردو بھی روز گار دیتی ہے۔سر کاری اورپرائیویٹ اسکولوں میں اردو کی بقا کے لیے ہم سب کو غور کرنا چاہئے۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محمد طیب نے کہا کہ اردو کی کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اردو کا استاد ہونے کے باوجود اردو کا اخبار تک نہیں منگاتے اور نہ ہی اردو کی نشست و دیگر پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں۔ میں ایسے اردو اساتذہ سے درخوا ست کرتا ہوں جو اردو کی روزی روٹی سے جڑے ہوئے ہیں انہیں اردو سکھانا، پڑھا نا اور اردو کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہئے۔وسیم احمد نے کہا کہ جو ہمارا نصاب ہے اس میں اردو کو خاص طور سے شامل کر کے اردو پڑھوانے کی کوشش کریں۔ ہماری درسی کتابیں آسانی سے مہیا نہیں ہوتیں۔اردو کو گھر گھر تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم اردو کی جگہ دوسری زبانیں پڑھاتے ہیں یا دوسرے کام کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں اردو نصاب کی بھی کمی ہے جس کو پورا کرنا ضروری ہے۔
مرزا منہاج الدین نے کہا کہ آج اردو کے بہت سے اساتذہ کی بھی اردو کمزور ہے۔ہم اردو کے نام پر نوکری کرتے ہیں لیکن ہم سے دوسرے کام لیے جاتے ہیں اور اردو ٹیچرس کا رجحان بھی اردو ٹیچنگ میں نہیں ہے اور نا ہی وہ قوم کے بچوں کے لیے فکر مند ہیں۔ اسکول کے ذمہ داروں کو بھی اردو کی پرائمری تعلیم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس لیے اردو کے طلبہ آگے چل کر اردو مضمون چھوڑ دیتے ہیں اور دوسرے مضا مین کو فوقیت دینے لگتے ہیں۔ہمیں اس مرحلے پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنا ہوگا۔
پروفیسر ریشما پروین نے کہا کہ لکھنؤ کے بہت سے لوگ دوسرے ممالک میں ہیں جو اردو کی پرائمری تعلیم پر زور دے رہے ہیں اور اپنی زبان کو مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم میں سے کچھ لوگ ابھی بھی ہیں جو اردو کے لیے خاصی قربانی دے سکتے ہیں۔ ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اردو کا فروغ کیسے ہو۔لکھنؤ میں اردو کے بہت سے پروگرام ہو تے رہتے ہیں اور اردو کے اساتذہ کی تنخواہ بھی خود دیتے ہیں۔پروگرام میں معروف شاعر سید بایاب الدین نایاب نے یوم اساتذہ کے تعلق سے ایک خو بصورت نظم پیش کی۔پروگرام سے ڈاکٹر ارشد اکرام،سعودی عرب،ڈاکٹر وصی اعظم انصاری، ڈاکٹرآصف علی، ڈاکٹرشاداب علیم ڈاکٹر الکا وششٹھ،محمد شمشاد اور دیگر طلبہ و طالبات جڑے رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network