uttar pradesh

اے ایم یو میں فارماکوویجیلنس کے علاقائی تربیتی مرکز کا وائس چانسلر کے ہاتھوں افتتاح

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں فارماکوویجیلنس پروگرام آف انڈیا، انڈین فارماکوپیا کمیشن کے تحت فارماکوویجیلنس کے علاقائی تربیتی مرکز کا افتتاح اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کیا۔ یہ اقدام خطے میں ادویات کی سفیٹی کی نگرانی اور فارماکوویجیلنس ٹریننگ کو مستحکم کرنے کی جانب یہ ایک اہم سنگ میل ہے۔
اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان، فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال کے پرنسپل و چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر انجم پرویز، دفتر رابطہ عامہ کی ممبر انچارج پروفیسر وبھا شرما اور شعبہ فارماکولوجی کے چیئرمین پروفیسر سید ضیاء الرحمن موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ علاقائی تربیتی مرکز کا قیام محفوظ اور معقول طریقے سے ادویات کے استعمال کے فروغ کے تئیں اے ایم یو کے عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید طبی نظام میں ایک مضبوط فارماکوویجیلنس نظام ناگزیر ہے، جو ادویات کے بازار میں آنے کے بعد بھی ان کی حفاظت اور اثر کی مسلسل نگرانی کو ممکن بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز نہ صرف مریضوں کی نگہداشت کو مضبوط بنائے گا بلکہ تحقیق و تربیت اور شواہد پر مبنی طبی عمل کو بھی فروغ دے گا۔
شعبہ فارماکولوجی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے اس علاقائی تربیتی مرکز کے اے ایم یو میں قیام پر پوری ٹیم کی ستائش کی اور یقین ظاہر کیا کہ یہ مرکز خطے میں مریضوں کے تحفظ اور تحقیقی و طبی خدمات کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔
پروفیسر محمد خالد نے اس مرکز کو اے ایم یو کے طبی نظام میں ایک تاریخی اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز فارماکوویجیلنس کی تعلیم کو مضبوط کرے گا، شواہد پر مبنی طبی عمل کی حوصلہ افزائی کرے گا اور صحت کے شعبہ سے وابستہ ماہرین کو مریضوں کے تحفظ کے اعلیٰ ترین معیارات برقرار رکھنے کے لیے تیار کرے گا۔
پروفیسر انجم پرویز نے زوردے کر کہا کہ ادویات کے مضر اثرات کی بروقت اطلاع دینا معیاری طبی خدمات کی بنیادی ضرورت ہے۔ علاقائی تربیتی مرکز طبی نگرانی کو مزید مؤثر بنائے گا اور مریضوں کے مفاد میں محفوظ علاج کے طریقوں کو فروغ دے گا۔
پروفیسر سید ضیاء الرحمن نے کہا کہ یہ مرکز ادویات کے محفوظ استعمال کے فروغ، ادویات کے مضر اثرات کی رپورٹنگ کو مضبوط بنانے اور طبی نگرانی کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ایک علاقائی مرکز کے طور پر کام کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز ڈاکٹروں، فارماسسٹوں، نرسوں اور محققین کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام، ورکشاپ اور آگہی ماڈیولز کا اہتمام کرے گا تاکہ ادویات کے مضر اثرات کی نشاندہی، رپورٹنگ اور روک تھام کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس موقع پر پروفیسر این ڈی گپتا، پروفیسر محمد شمیم، پروفیسر شیلو شفیق، پروفیسر ایم خواجہ سیف اللہ، پروفیسر مہتاب عالم، پروفیسر سیف اللہ خالد، پروفیسر گیتا راجپوت، پروفیسر پردھیومن، ڈاکٹر جمیل احمد، ڈاکٹر عرفان احمد خان اور ڈاکٹر احمر حسن سمیت سینئر اساتذہ، محققین، طبی ماہرین، ریزیڈنٹس اور طلبہ موجود تھے۔پروگرام کا اختتام ریجنل ٹریننگ سینٹر فار میٹیریووِیجیلنس پروگرام آف انڈیا کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد سرفراز کے کلماتِ تشکر کے ساتھ ہوا، جبکہ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر سومیا ٹھاکر نے کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network