Bihar
ایک قدآور سیاست داں اور عوامی لیڈرہیں لالوپرساد یادو،ٹی ایم سی رکنِ پارلیمنٹ شتروگھن سنہانےپٹنہ میں آرجے ڈی سربراہ اور رسابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی سے کی ملاقات
(پی این این)
پٹنہ:سابق مرکزی وزیر اور ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ شتروگھن سنہا ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ اس سے قبل بانکی پور ضمنی انتخاب میں پرشانت کشور کی جیت کے بعد شتروگھن سنہا نے پی کے کی جم کر تعریف کی تھی اور انہیں ایک باصلاحیت نوجوان رہنما قرار دیا تھا۔اب شتروگھن سنہا نے پٹنہ میں سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو سے ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر رابڑی دیوی بھی موجود تھیں اور ’بہاری بابو‘ نے دونوں کی بھی کھل کر تعریف کی۔ شتروگھن سنہا نے ہفتہ کے روز راشٹریہ جنتا دل کے قومی صدر لالو پرساد سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً آدھے گھنٹے تک بات چیت ہوئی۔ اس دوران شتروگھن سنہا نے لالو پرساد یادو کی خیریت دریافت کی۔ سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی بھی اس موقع پر موجود تھیں، جبکہ قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ملاقات کے بعد شتروگھن سنہا نے کہا کہ لالو خاندان کے ساتھ ان کے بہت پرانے اور گہرے خاندانی تعلقات رہے ہیں۔ وہ لالو پرساد کی صحت کو لے کر فکرمند تھے، اسی لیے ان سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایشور سے دعا کرتے ہیں کہ لالو پرساد ہمیشہ صحت مند اور خوش رہیں اور انہیں طویل عمر عطا ہو۔
اداکار اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکنِ پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے لالو پرساد سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران ان کی جم کر تعریف کی اور انہیں عوامی رہنما اور ایک نہایت اچھا انسان قرار دیا۔شتروگھن سنہا نے کہا کہ انہوں نے لالو پرساد اور ان کی اہلیہ رابڑی دیوی کے ساتھ کافی دیر تک گفتگو کی۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا، ’’میں یہاں صرف لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی سے ملاقات کے لیے آیا تھا۔ لالو جی میرے پرانے خاندانی دوست ہیں۔ وہ ایک قدآور سیاست دان اور عوامی رہنما ہیں۔ سب سے بڑھ کر وہ ایک بہت اچھے انسان ہیں۔ جب بھی میں پٹنہ آتا ہوں، ان سے ضرور ملاقات کرتا ہوں۔‘‘
ٹی ایم سی رکنِ پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ وہ لالو پرساد کے بیٹوں تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو سے ملاقات نہیں کر سکے، کیونکہ دونوں کسی ضروری کام سے شہر سے باہر تھے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ لالو جی اور رابڑی جی کے ساتھ ان کی کافی دیر تک گفتگو ہوئی۔شتروگھن سنہا نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز بی جے پی سے کیا تھا۔ کچھ عرصہ کانگریس میں رہنے کے بعد وہ ٹی ایم سی میں شامل ہو گئے۔ جمعہ کے روز انہوں نے قومی اہلیتی داخلہ امتحان (نیٹ) کے پرچہ لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر مرکز کی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جبکہ طلبہ کی حمایت میں آگے آنے پر راہل گاندھی کی جم کر تعریف کی تھی۔
ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب میں پرشانت کشور کی جیت پر کہا تھا کہ بہار کی سیاست کے سیاہ بادلوں کے درمیان یہ امید کی ایک کرن ہے۔شتروگھن سنہا نے اپنے آبائی شہر پٹنہ کے دورے کے دوران ’پی ٹی آئی ویڈیو‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی تھی۔
انہوں نے ’جین زی‘ کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے مرکز کی حکمراں این ڈی اے حکومت کے طریقۂ کار پر تنقید کی تھی، جبکہ طلبہ کی حمایت میں مضبوطی سے کھڑے ہونے پر لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی بھی تعریف کی تھی۔شتروگھن سنہا نے کہا تھا کہ یہ ایک قابلِ ذکر جیت تھی۔ حکمراں اتحاد کی جانب سے سیاسی، مالی اور طاقت کے بھرپور استعمال اور تمام تر نامساعد حالات کے باوجود پرشانت کشور نے کامیابی حاصل کی۔ بہار کی سیاست کے چھائے ہوئے سیاہ بادلوں کے درمیان ان کی یہ جیت امید کی ایک کرن بن کر سامنے آئی ہے۔