دلی این سی آر

ایل جی نے کروڑی مل کالج میں انکیوبیشن سینٹر کا کیا افتتاح

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے کہا ہے کہ 2047 تک ہندستان کو ایک ترقی یافتہ قوم بنانے کے ہدف کی طرف بڑھتے ہوئے یونیورسٹیوں کو تحقیق، جدت طرازی اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے میں اور بھی بڑا کردار ادا کرنا ہوگا۔مسٹر سندھو نے اتوار کو کروڑی مل کالج (کے ایم سی) کے انکیوبیشن سینٹر کے افتتاح کے موقع پر یہ بات کہی۔ یہ افتتاح دہلی یونیورسٹی کے شنکر لال کنسرٹ ہال میں کالج کے اورینٹیشن پروگرام 2026 کے دوران ہوا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے سائنس بلاک لفٹ کا بھی افتتاح کیا۔ اس پروگرام میں کروڑی مل کالج کی گورننگ باڈی کی چیئرپرسن پروفیسر واسوبین ترویدی، دہلی یونیورسٹی کے رجسٹرار وکاس گپتا، پرنسپل پروفیسر دنیش کھٹر، فیکلٹی ممبران، والدین اور طلبہ نے شرکت کی۔جدت طرازی پر وزیراعظم نریندر مودی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر سندھو نے کہا کہ یونیورسٹی کے کیمپس ایسے مراکز کے طور پر ابھر رہے ہیں جہاں نوجوان نئے خیالات اور تکنیکی کامیابیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس نئے انکیوبیشن سینٹر سے طلبہ کے درمیان تحقیق اورانٹرپرینیورشپ کو فروغ ملے گا۔نئے بیچ سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وہ خود دہلی یونیورسٹی سے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ہیں۔
اور انہوں نے کبھی بیرونِ ملک تعلیم حاصل نہیں کی۔ انہوں نے کہا، “بیرونِ ملک میں قوم کی خدمت میں جو کچھ بھی میں اپنا تعاون دے سکا ہوں، وہ دہلی یونیورسٹی میں رکھی گئی بنیاد پر بنا تھا۔” انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ہندستان کے اداروں اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھیں۔مسٹر سندھو نے کروڑی مل کالج کو دہلی یونیورسٹی کے ممتاز اداروں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ اس کی وراثت دہائیوں میں مفکرین، سول سرونٹس، تاجروں، سائنسدانوں اور فنکاروں کو تیار کر کے قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے صرف بنیادی ڈھانچے یا رینکنگ کے بجائے اپنے تیار کردہ شہریوں کے معیار سے شناخت حاصل کرتے ہیں۔
انہوں نے ان طلبہ اور فیکلٹی ممبران کو بھی مبارکباد دی جن کے چار سالہ انڈر گریجویٹ پروگرام میں تحقیقی مقالوں کو تسلیم کیا گیا تھا اور کہا کہ یہ تعلیمی پوچھ گچھ کی ایک مضبوط ثقافت کو ظاہر کرتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے سائنس بلاک لفٹ کو آسان رسائی اور شمولیت کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو تمام طلبہ کے لیے مساوی مواقع یقینی بنانے چاہئیں۔ انہوں نے طلبہ سے تعلیمی عمدگی کے ساتھ ساتھ سائنسی سوچ، فکری تجسس اور دیانتداری فروغ دینے کی اپیل کی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network