Bihar

ایس سی پی کوچنگ سینٹرکے وائرل ویڈیو معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
ارریہ:فاربس گنج واقع ایس سی پی کوچنگ سینٹر میں یومِ اساتذہ کے موقع پر منعقدہ ایک پروگرام کی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ زیرِ بحث ہے۔ وائرل ویڈیو کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات کا اظہار کرتے ہوئے پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
مبینہ طور پر 5 ستمبر کو یومِ اساتذہ کے موقع پر منعقدہ پروگرام کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی، جس میں طالبات کو برقع میں ایک گانے پر رقص کرتے ہوئے دکھائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو کی حقیقت، پروگرام کے اصل حالات اور اس میں شامل افراد کے کردار کے بارے میں مختلف طرح کی باتیں سامنے آنے کے بعد مقامی نوجوانوں اور شہریوں نے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی سلسلے میں جوکی ہاٹ کے نوجوانوں اور مقامی شہریوں کی جانب سے متعلقہ افسران کو درخواست پیش کی گئی۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے لیٹر ہیڈ پر جوکی ہاٹ تھانہ صدر اور بلاک ایجوکیشن آفیسر کو درخواست دی گئی، جبکہ ضلع ایجوکیشن آفیسر اور ضلع مجسٹریٹ، ارریہ کو بھی درخواست پیش کرکے معاملے کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا گیا۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور اس سے متعلق تمام حقائق کی غیر جانب دارانہ طور پر جانچ کی جائے۔ ساتھ ہی پروگرام کے انعقاد، ویڈیو کے اصل پس منظر اور ذمہ دار افراد کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اس موقع پر SDPI کے ضلعی صدر محمد مدثر، سکریٹری جمشید عالم، راجد کے نوجوان رہنما تحسین فائز اور محمد صائم، سیمانچل یوا سنگٹھن کے محمود قمر، صادق انور اور راغب راہی، نیز تحفظِ شریعت و ویلفیئر سوسائٹی کے سکریٹری عبدالوارث سمیت مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں سے وابستہ افراد موجود تھے۔
نوجوانوں نے کہا کہ ان کا مقصد کسی فرد یا ادارے کو تحقیقات سے قبل قصوروار قرار دینا نہیں ہے، بلکہ وائرل ویڈیو کی حقیقت اور پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے ذریعے اصل حقائق کو سامنے لانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی جانب سے قانون کی خلاف ورزی یا کسی مذہب اور اس کے ماننے والوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی بات تحقیقات میں ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ مستقبل میں ایسے معاملات کی روک تھام ہوسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network