Bihar
اکیس مرحوم نیٹ امیدواروں کو رضاکارانہ خون عطیہ کیمپ کے ذریعے خراجِ عقیدت
گیا: ہیومن ہُڈ آرگنائزیشن (ٹیم ایچ 20) کی جانب سے جذبۂ انسانیت اور خدمتِ خلق کو فروغ دینے کے مقصد سے شردھانجلی ہیتو سوئیچھک رکت دان شِور کا انعقاد کیا گیا۔ یہ خصوصی خونِ عطیہ کیمپ نیٹ امتحان سے جڑے حالات میں جان گنوانے والے 21 مرحوم طلبہ کی پاکیزہ یاد کے نام منسوب تھا۔
اس موقع پر 21 نوجوانوں نے اپنی رضامندی سے خون کا عطیہ دے کر مرحوم طلبہ کو پُرخلوص خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تنظیم کی جانب سے کہا گیا کہ مرحومین کو حقیقی خراجِ عقیدت صرف الفاظ یا پھول پیش کرنے سے نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت اور کسی کی جان بچانے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ خون کی ہر بوند کسی ضرورت مند مریض کے لیے نئی زندگی کا پیغام بن سکتی ہے اور یہی اس مہم کا بنیادی مقصد ہے۔
کیمپ میں جمع کیا گیا خون ریڈ کراس بلڈ بینک کے حوالے کر دیا گیا تاکہ ضرورت کے وقت مریضوں کو بروقت خون فراہم کیا جا سکے۔ ٹیم H2O کے ذمہ داران نے کہا کہ خراجِ عقیدت کا اصل مفہوم ایسا عمل انجام دینا ہے جس سے کسی انسان کی جان بچ سکے۔ ان کے مطابق خون کا عطیہ جذبۂ ہمدردی، ایثار اور سماجی ذمہ داری کی بہترین علامت ہے۔
کیمپ کو کامیاب بنانے میں تنظیم کے اراکین ثاقب الاسلام، شہنواز ملک، محمد زوہیب، کاشف سراج اور اکرام قریشی نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ ریڈ کراس بلڈ بینک کی طبی ٹیم، موجود شہریوں اور سرپرستوں نے بھی بھرپور تعاون پیش کیا۔ تنظیم نے تمام خون عطیہ کرنے والوں، ڈاکٹروں اور معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی اجتماعی شراکت ہی انسانیت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
خون عطیہ کرنے والوں میں میرا ورما، محمد ریحان، انجلی کماری سنگھ، نیرو یادیو، سید ابوزر، محمد دانش، سید فیضان، شاکب خان، محمد عرفان، شیام پٹیل، محمد انس، راجن برنوال، فیضان علی، اکرام قریشی، محمد شمشاد، محمد اعظم، محمد چاند، محمد ماز، محمد سیف، محمد دانش اور محمد سونو شامل تھے۔ ان تمام افراد نے رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرکے یہ پیغام دیا کہ خدمتِ انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب اور سب سے عظیم فریضہ ہے۔
پروگرام کے اختتام پر تمام شرکاء نے باقاعدگی سے رضاکارانہ خون عطیہ کرنے اور معاشرے میں اس کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا عہد کیا۔ ٹیم ایچ 20 نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی فلاحی مہمات نوجوانوں میں خدمت، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کے جذبے کو مزید فروغ دیں گی اور خون کی کمی کا سامنا کرنے والے مریضوں کے لیے نئی زندگی کا سبب بنیں گی۔
اس موقع پر تنظیم کا یہ پیغام نہایت مؤثر ثابت ہوا: خراجِ عقیدت اُس وقت سب سے زیادہ بامعنی بن جاتا ہے جب وہ کسی دوسرے انسان کی دھڑکنوں میں نئی زندگی بن کر دھڑکنے لگے۔ اسی پیغام کے ساتھ ٹیم ایچ 20 کی یہ مہم محض ایک خونِ عطیہ کیمپ نہیں، بلکہ انسانیت، ایثار، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کی ایک قابلِ تقلید مثال بن گئی۔