uttar pradesh
انصاف اور حقوق کے لیے اپنا پرچم اور اپنی آزاد قیادت کو مضبوط کریں
دیوبند: مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اسد الدین اویسی نے ہفتہ کی شام سہارنپور منعقدہ مجلس کے ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اتر پردیش اسمبلی انتخابات2027 کے لیے اپنی جماعت کی انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ اس موقع پر ہزاروں کارکنان اور حامی موجود تھے، جبکہ پارٹی نے بی جے پی کو روکنے کے لیے ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے بھی واضح اشارے دیے۔اپنے خطاب میں اسد الدین اویسی نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف مجوزہ کارروائی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کیا جاتا ہے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ مسلمان تعلیم یافتہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ضرور ہے، لیکن یہاں شرح خواندگی سب سے کم ہے، جبکہ مسلمانوں میں گریجویٹ افراد کی تعداد صرف تقریباً ساڑھے تین سے ۵ فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تعلیمی اداروں کو منہدم کرنے کے بجائے انہیں قانونی طور پر باقاعدہ (ریگولرائز) کیا جانا چاہیے، کیونکہ ان اداروں کے بند ہونے کا سب سے زیادہ نقصان طلبہ کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی میں اس وقت تقریباً تین ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اگرچہ اعظم خان اور ان کے بیٹے انتخابات نہیں لڑ سکتے، لیکن حکومت کو وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے مستقبل کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ اویسی نے اپنی تقریر میں کہا کہ کسی بھی قوم کو انصاف اسی وقت ملتا ہے جب اس کا اپنا پرچم اور اپنی آزاد قیادت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف نمائندوں کی تعداد نہیں بلکہ ایسے نمائندوں کا ہونا ہے جو اپنے ضمیر کے مطابق آواز بلند کر سکیں۔ انہوں نے اس موقع پر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا بھی ذکر کرتے ہوئے آزاد سیاسی قیادت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی آبادی ملک میں تقریباً 19 فیصد ہے، لیکن شرح تعلیم انتہائی کم ہے، خصوصاً مسلم خواتین کی شرح خواندگی سب سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں اور اسی لیے تعلیمی اداروں کا تحفظ ناگزیر ہے۔اپنے خطاب میں اویسی نے تعلیم، روزگار، سیاسی نمائندگی، آئینی حقوق اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اتر پردیش میں ایک خودمختار اور بااختیار سیاسی قیادت تیار کرنا چاہتی ہے، تاکہ محروم طبقات کی آواز مؤثر انداز میں ایوانوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی سیاسی طاقت کو پہچانیں، تعلیم کو ترجیح دیں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو بے خوف ہو کر ان کے حقوق کی بات کر سکیں۔ اسد الدین اویسی نے اپنے انداز میں تقریر کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کانگریس کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں کو بھی نشانے پر لیا، ساتھ ہی انہوں نے مقامی سیاستدانوں پر بھی سخت تنقید کی۔ جلسے کے دوران اے آئی ایم آئی ایم کے مغربی اتر پردیش کے صدر مہتاب چوہان نے بھی خطاب کیا۔ اسد الدین اویسی کے انتخاب جلسے میں زبردست بھیڑ رہی اور بے قابو بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی کا سہارا لینا۔ یہاں کارکنان کی بھاری تعداد موجود تھی اور بھیڑ بے قابو ہو گئی اور حامی اپنے لیڈر کو دیکھنے کے لیے بے قابو ہو گئے، حالانکہ بعد میں پروگرام بحسن خوبی اختتام کو پہنچا۔