uttar pradesh

امروہہ:اجتماعی شادی اسکیم کے تحت 800 بیٹیوں کے ہاتھ ہوں گےپیلے

Published

on

(پی این این)
امروہہ:اتر پردیش کے امروہہ ضلع میں ’مکھیہ منتری ساموہک وواہ یوجنا‘ کے تحت 800 بیٹیوں کے ہاتھ پیلے ہوں گے۔ دھوکہ دہی روکنے کے لیے منڈپ میں بایومیٹرک جانچ ہوگی۔ضلعی سماج بہبود افسر پنکھوری جین نے اتوار کو بتایا کہ اتر پردیش حکومت کی اہم ’’مکھیہ منتری ساموہک وواہ یوجنا‘‘ کے تحت رواں سال امروہہ ضلع میں 800 غریب لڑکیوں کی شادیوں کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کے لیے محکمہ سماج بہبود نے اپنی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔
حکومت کی جانب سے اس ہدف کو مقررہ وقت میں پورا کرنے کے لیے محکمہ نے ہر تین ماہ میں 200 شادیوں کے خاکہ تیار کیا ہے، جس میں ہندو اور مسلم دونوں ہی برادریوں کے جوڑے اپنی مذہبی روایات اور رسم و رواج کے مطابق شرکت کریں گے۔
فی الحال اس سال کے پہلے پروگرام کے لیے ٹینڈر کا عمل جاری ہے، جس کی منظوری ملتے ہی بڑے پیمانے پر اجتماعی شادیوں کا انعقاد شروع کر دیا جائے گا۔ محکمہ جاتی اعداد و شمار کے مطابق اس اسکیم سے دیہی علاقوں کے لوگ سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ شہری علاقوں کے لوگ اجتماعی شادیوں کے بجائے نجی طور پر شادیاں کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسکیم کے تحت ہر جوڑے پر مجموعی طور پر ایک لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس میں سے 15 ہزار روپے تقریب کے انتظامات، جیسے ٹینٹ، کھانا، پنڈت یا مولوی اور سجاوٹ پر خرچ ہوتے ہیں، جبکہ 25 ہزار روپے مالیت کا گھریلو سامان تحفے کے طور پر جوڑے کو دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 60 ہزار روپے کی اصل رقم براہِ راست دلہن کے بینک کھاتے میں منتقل کی جاتی ہے۔
شادی مکمل ہونے کے بعد مستفیدین کی فہرست ضلع مجسٹریٹ کی منظوری سے محکمہ جاتی پورٹل پر اپ لوڈ کی جاتی ہے، جس کے بعد ایک سے دو ہفتوں کے اندر رقم محفوظ طریقے سے لڑکی کے بینک کھاتے میں منتقل کر دی جاتی ہے۔ اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے لڑکی کی عمر 18 سال اور لڑکے کی عمر 21 سالسے زیادہ ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ یہ دونوں کی پہلی شادی ہونی چاہیے اور مستفیدین خاندان کی سالانہ آمدنی تین لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network