Bihar

اردو تحقیق او ر تنقید کومزید معیاری بنانے کے لئے سائنٹفک طریقہ کار کو اپنا نا ضروری: پروفیسر آفتاب احمد آفاقی

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:ہندوستانی ادب کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ دیگر زبانوں میں تحقیق وتنقید کے مقابل اردو تنقید وتحقیق تغیر زمانہ کے تقاضوں کو پورا کرتا رہاہے اور ہمارے اکابرین محققین وناقدین نے اپنی محنتِ شاقہ سے اردو تحقیق وتنقید کو نہ صرف بلند معیار بخشا ہے بلکہ مغربی تنقید کے مقابل کھڑا بھی کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر مشتاق احمد، پرنسپل سی ایم کالج، دربھنگہ نے کیا ۔
پروفیسر احمد نے کہا کہ عصرِ حاضر میں علم وادب کی دنیا میں بڑا انقلاب آیا ہے اور تحقیق وتنقید کے شعبے میں بھی بڑی تبدیلی ہو رہی ہے اس لئے ہمارے اساتذہ اور طلبا وطالبات کو سنجیدگی کے ساتھ بدلتی ادبی فضا سے استفادہ کرنے اور اپنے لئے ایک نئی راہ بنانے کی ضرورت ہے۔اب روایتی طریقہ کار کو چھوڑ کر نئی دریافتوں سے روشنی حاصل کرنی ہوگی اور موضوعاتی سطح پر بھی منفرد موضوع کا انتخاب کرنا ہوگا۔
پروفیسر احمد کالج میں اردو زبان وادب کے طلبا وطالبات کے لئے ’’اردو تحقیق وتنقید :سمت ورفتار‘‘ کے موضوع پر منعقد مذاکرہ سے خطاب کر رہے تھے ۔ پروفیسر احمد نے کہا کہ ہماری خوش بختی ہے کہ اس مذاکرہ میں اردو کے نامور محقق وناقد پروفیسر آفتاب احمد آفاقی ، صدر شعبہ اردو ، بنارس ہندو یونیورسٹی، بنارس تشریف لائے ہیں ۔اس موقع پر مہمانِ خاص پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے کہا کہ اردو تحقیق اور تنقید کی تاریخ مثالی رہی ہے اور اس پر ہم اردو والوں کو فخر کرنا چاہئے لیکن عہدِ حاضر میں تحقیق وتنقید کے شعبے کو مزید وسعت دینے اور معیاری بنانے کے لئے سائنٹفک طریقہ کار کو اپنانے کی ضرورت ہے ۔
پروفیسر آفاقی نے کہا کہ آج پوری دنیا میںزبان وادب کے مطالعے کے تعلق سے طرح طرح کی غلط فہمیاں بھی پھیلائی جا رہی ہیں کہ ادب کا دائرہ محدود ہو رہاہے لیکن سچائی یہ ہے کہ اب ڈیجٹل لائبریری اور دیگر سائنسی طریقہ کار کی بدولت زبان وادب کا دائرہ دن بہ دن وسیع ہو رہاہے اور ہزاروں ویب سائٹ کے ذریعہ دنیا کی بڑی آبادی زبان وادب کے سرمایے سے استفادہ کر رہی ہے۔انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ سی ایم کالج، دربھنگہ میں اس طرح کے عصری تقاضوں کے موضوعات پر مذاکرے منعقد کئے جاتے ہیں جس سے طلبا وطالبات کو نئی روشنی حاصل ہوتی ہے۔
اس موقع پر پروفیسر آفتاب اشرف ،ڈاکٹر ناصرین ثریا، ڈاکٹر شمشیر علی، ڈاکٹر ابصار عالم، ڈاکٹر اے کے ایم ہادی، فیضان حیدر، ڈاکٹر روح اللہ خاں وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔آغاز میں متھلانچل کی تہذیبی وثقافتی روایت کے مطابق پروفیسر آفاقی کا پاگ، چادر اور گلدستہ سے پروفیسر مشتاق احمد پرنسپل سی ایم کالج، دربھنگہ نے استقبال کیا اوران کی آمد کے لئے ان کے تئیں اظہارِ تشکر پیش کیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network