محاسبہ
اب تو مظلوم بغاوت پر اتر آئے ہیں
محسابہ:سید فیصل علی
آخر کا رملک کے طلبا جیت گئے ہیں۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہی نہیں مقابلہ جاتی امتحانات کو کرانے والی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی(این ٹی اے ) کے تمام افسران ہٹا دیئے گئے ہیں۔ وزارت تعلیم کا سکریٹری بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔ یہ طلبا کی ایسی جیت ہے جس سے ملک کے کرپٹ تعلیمی نظام میں تبدیلی آئے گی جو دو دہائی سے بدترین بدعنوانی کا شکار تھا۔ دس برسوں میں پیپر لیک کے 152 معاملات ہوئے ، اس پیپر لیک کی وجہ سے جانے کتنے منا بھائی میڈیکل خطے میں پہنچ کر انسانی جانوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ پیپر لیک سے لاکھوں اہل طلبا اپنی منزل نہیں پاسکے۔ طلبا کی جیت ایک ایسی تاریخی جیت ہے جس سے ہندوستان کی بے بس جمہوریت کی رگوں میں حوصلے کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ ملک میں نفرت کے شکاریوں کے بجائے اب محبت کے پجاریوں کا پرچم بلند ہواہے۔ طلبا نے ہندوستان کی جمہوریت کو آزاد کرکے عوام کے دلوں سے خوف نکال دیا ہے اور انھیں زبان دے دی ہے ۔دس برسوں بعد احساس ہوا ہے کہ ہمارے سنسکار واقدار کے اندر ابھی جان باقی ہے۔ ابھی ہندوستان زندہ ہے۔
آج بھی اپنے مستقبل کولیکر ہزاروں طلبا روزانہ دہلی آرہے ہیں ، ملک کے گوشوں گوشوں میں طلبا کا مظاہرہ ہورہا ہے۔ جنتر منتر کی آگ نے دنیا بھر کی نظریں ہندوستانی تعلیمی نظام پر مبذول کردی ہیں۔ آسٹریلیا۔ لندن ، کینڈا سمیت کئی بیرونی شہروں میں جنتر منتر کے طلبا کی حمایت میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ اور آج بھی ملک کے کئی شہروں میں طلبا سڑکوں پر ہیں۔ خاص کر بہار کے طلبا میں جنتر منتر پر ہوئے پولیس بربریت کے خلاف اتنا غم وغصہ ہے کہ کٹیہار ، جہان آباد، پٹنہ ، دربھنگہ، مدھوبنی، نالندہ میں پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ جو افسوسناک ہیں۔ لیکن یہ مظاہرے ظاہر کرتے ہیں کہ صبر کا پیمانہ چھلک چکا ہے ، اقتدار کا نشہ اور بے قصوروں پر ظلم وستم اور ایک خاص طبقہ کے خلا ف نفرت کی آگ میں تمام ترقیاتی منصوبے جو پس پشت کردیئے گئے ہیں اب ان پر نظر ثانی ضروری ہے۔ زین زی کایہ مظاہرہ ہندوستان کی سیاست کا نیا منظرنامہ ہے۔ جو ایک نئے انقلاب کی آمد کا پتہ دے رہا ہے۔
مجھے بے حد مسرت ہے کہ جنتر منتر پر برسوں بعد اصلی ہندوستان دیکھنے کو ملاجہاں تمام تر رکاوٹوں ، بڑی تعداد میں فورس کی تعیناتی ، 18میٹرو اسٹیشنوں کے بند ہونے کے باوجود ملک کے گوشے گوشے سے طلبا جنتر منتر پر پہنچ رہے تھے۔ جن میں بڑی تعداد طالبات کی تھی ، جو اپنے والدین کو بھی ساتھ لیکر جنتر منتر پہنچ رہی تھیں۔ پہلی بار والدین کا بھی غم وغصہ دیکھنے کو ملا۔ جنتر منتر سچ مچ ایک ایسا ہندوستان نظر آیا جس کی دنیا میں آج بھی مثل دی جاتی ہے۔یہ بچوں کے جوش کا منظرنامہ تھا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود طلبا کو جہاں جگہ ملی وہیں سے وہ صدائے احتجاج بلند کررہے تھے۔ بلاشبہ برسوں بعد ہندوستان کی جمہوری رگوں میں ایک نئی قوت دوڑ رہی ہے۔ خوف کا ماحول زائل ہورہا ہے ۔ جنتر منتر پر قومی یکجہتی اور ہم آہنگی ، آپسی بھائی چارہ کا ایسا منظرنامہ دیکھنے کو ملا جسے دیکھے مدت گزر گئی تھی۔ گرمی میں بیٹھے طلبا ایک دوسرے کو پنکھا جھل رہے تھے۔ ملک کے گوشے گوشے سے فوڈ پیکٹ آرہے تھے۔ دبئی اورریاض سے لیکر کئی ملکوں سے زومیٹو کے ذریعہ طلبا کو فوڈ پیکٹ فراہم کیا جارہا تھا۔ 20جون کو دہلی کے جنید نے جس حوصلے کے ساتھ جنتر منتر پر بھوکے پیاسے طلبا کے لئے کھانے کے لئے نظم کیا ،وہ انسان دوستی دنیا دیکھ رہی تھی اور اسی کی تقلید میں جنتر منتر پر طرح طرح کے کھانوں کا انبار لگا ہوا تھا، کہ سی جے پی کے لیڈروں کو اعلان کرنا پڑا، باہر سے کھانا نہ بھیجا جائے برباد ہورہا ہے۔ اسی جنتر منتر پر گودی میڈیا کی جتنی تذلیل ہوئی وہ اس بات کا غماز ہے کہ آج کی نسل قومی میڈیا سے کتنی نفرت کرتی ہے۔ آج کے دور میں جب عدلیہ ودیگر خودمختار اداروں پر سے اعتماد ختم ہورہا ہے تو اسی دور میں اب جنتر منتر سے جو آواز ابھری ہے وہ یقینا ایک ایسا عندیہ ہے جو نئے ہندوستان کی تعمیر کا خو ش آئند منظرنامہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جنتر منتر پر شبانہ اعظمی ،ہما قریشی ، نصیر الدین شاہ، پرکاش راج سمیت فلمی دنیا کی مشہور ہستیاں طلبا کی حوصلہ افزائی کے لئے موجود تھیں، وہیں سماج پارٹی کے قائد اکھلیش یادو کی اہلیہ ڈمپل یادو کے ذریعہ زخمی بچوں کی جس طرح دیکھ بھال کی جارہی تھی وہ بھی دنیا نے دیکھا۔ یہ پہلا منظرنامہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سیکڑوںبڑے وکیل جنتر منتر پر طلبا کی حمایت میں کھڑے ہوگئے۔ دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ دہلی کے بڑے بڑے ڈاکٹروں نے زخمی طلبا کے لئے کیمپ لگالیا۔دنیا نے دیکھا کہ پریشان حال طلبا کے لئے دہلی کے گرودواروں اور مسجدوں کے دروازے کھول دیئے گئے۔ اہل دہلی کی انسان دوستی کا منظرنامہ بھی سب نے دیکھا، جہاں تمام تر مسلم دشمنی کے باوجود شاہین باغ ، سیلم پور، پرانی دہلی کے مردو خواتین پانی کے بوتلوں اور کھانے کی اشیا لیکر طلبا کے پاس پہنچ رہے تھے۔
وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے آگے راہل گاندھی کے حوصلے کو بھی ساری دنیا نے دیکھا کہ ناک سے بہتے خون کے باوجود انھوں نے کہا کہ جب تک پردھان کا استعفیٰ نہیں ہوگا ہم اسپتال نہیں جائیں گے۔
بلاشبہ جنتر منتر سے اٹھی آواز نے جہاں عام لوگوں میں خوف کا ماحول نکال دیا وہیں جنتر منترکی آواز نے اپوزیشن کے بھی حوصلے کی تجدید کردی ہے۔ بلاشبہ یہ جنتر منترپر طلبا کی آواز کا ہی اثر تھا کہ دو دن سے وزیر اعظم انسٹا گرام اور سوشل میڈیا پر رات کے بارہ بجے آکر طلبا کے زخموں پر مرہم رکھنے کی سعی کررہے ہیں لیکن طلبا جنھوں نے پردھان کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیاکیا وہ ہندوتوا کے چہرے کو بدلنے میں کامیاب ہوں گے؟ ،کیونکہ موجودہ سرکار نفرت کی سیاست کی بنیاد پر اپنا اقتدار قائم کئے ہوئے ہے۔کیا نئی نسل نفرت کے اس کھیل کو ناکام کرے گی۔ کیونکہ جس طرح جنتر منتر کے بعد ملک بھر میں احتجاج کا دائرہ بڑھ رہا ہے وہ تشویش کا موضوع بھی ہے اور امید کا مرکز بھی ہے۔کہ طلبانے ہندوستان کی تعمیر کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں لیکن کیا ہندوتوا کی سیاست کا مقابلہ کرسکیں گے؟ انھوں نے نظام کی تبدیلی کا جو بیڑہ اٹھایا ہے اس میں کامیاب ہوں گے،یہ ایک بڑا سوال ہے۔ بقول شاعر
اپنے بھارت کی حفاظت میں اتر آئے
ایک دیوانے شہادت پر اترا ٓئے ہیں
اب تو ظالم تجھے ہر حال میں جھکنا ہوگا
اب تو مظلوم بغاوت پر اتر آئے ہیں