دلی این سی آر

آلودگی پھیلانے والی 106 صنعتی اکائیوں پر کارروائی

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: دہلی حکومت نے دارالحکومت میں صنعتی آلودگی پر شکنجہ کستے ہوئے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی 106 صنعتی اکائیوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔حکومت کے مطابق جنوری سے جولائی 2026 کے درمیان کل 2,011 صنعتی اکائیوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا گیا۔
ان میں 106 اکائیاں مقررہ ماحولیاتی معیارات پر پورا نہیں اتریں، جبکہ 78 اکائیاں دہلی پولوشن کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) سے درست آپریشنل منظوری (سی ٹی او) کے بغیر چلتی ہوئی پائی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جانچ کے بعد 44 معاملات میں ماحولیاتی جرمانہ عائد کیا گیا ہے، جبکہ قواعد کی پاسداری نہ کرنے والی 33 صنعتی اکائیوں کے خلاف کلوزر آرڈر جاری کیے گئے ہیں۔ دیگر معاملات میں بھی متعلقہ ماحولیاتی قوانین اور قواعد کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے جمعہ کو کہا کہ دہلی والوں کو صاف ستھری اور صحت بخش ہوا فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے اور آلودگی پھیلانے والی اکائیوں کے خلاف کسی قسم کی لاپروائی نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی معیاروں کی پاسداری کرنے والی صنعتوں کو حکومت ہر ممکن تعاون دے گی، لیکن دہلی کی ہوا کو آلودہ کرنے والی اکائیوں پر سخت کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف کارروائی کرنا نہیں، بلکہ آلودگی کے ذرائع پر موثر کنٹرول کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے لیے صنعتی اخراج کی باقاعدہ نگرانی کے ساتھ زمینی سطح پر معائنہ بھی بڑھایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آلودگی کے خلاف مہم صرف صنعتی اکائیوں تک محدود نہیں ہے۔ سڑک کی دھول، گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی، تعمیرات و مسماری، کھلے میں کچرا جلانے نیز دیگر آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں پر بھی نگرانی اور کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صنعتی آلودگی، کھلے میں کچرا جلانے، دھول کی آلودگی یا غیر قانونی طور پر کچرا پھینکنے جیسی سرگرمیوں کی اطلاع گرین دہلی ایپ یا ایم سی ڈی 311 ایپ کے ذریعے دیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی، محکموں کے درمیان بہتر رابطہ اور شہریوں کی شراکت داری کے ذریعے آلودگی پھیلانے والوں پر تیزی سے کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network