uttar pradesh
آرایل ڈی سربراہ جینت چودھری کو بڑا جھٹکا،راشٹریہ لوک دل کے اتر پردیش صدر ڈاکٹر راماشیش رائے کانے دیا استعفیٰ
(پی این این)
لکھنؤ:راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے ریاستی صدر ڈاکٹر راماشیش رائے نے اپنے عہدے کے ساتھ ساتھ پارٹی کی بنیادی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ پارٹی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جینت چودھری کو بھیج دیا ہے۔
ڈاکٹر رائے نے اپنے استعفے میں ریاستی صدر کی ذمہ داری سونپنے کے لیے مسٹر چودھری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دورِ کار میں انہوں نے تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی صلاحیت کے مطابق کوششیں کیں۔ انہوں نے ریاست کے مختلف اضلاع کا وسیع دورہ کیا، کارکنوں سے رابطہ قائم کیا اور تنظیم کی توسیع و مضبوطی کے لیے مسلسل کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ 1974-75 کی لوک نائک جے پرکاش نارائن کی مکمل انقلاب تحریک سے متاثر ہوکر سیاست میں آئے تھے۔ اس وقت بدعنوانی، مہنگائی، بے روزگاری، جمہوری اداروں کے زوال اور حکومت و انتظامیہ کی جواب دہی جیسے مسائل قومی تشویش کا موضوع تھے اور نظام کی تبدیلی کا جو خواب دیکھا گیا تھا، وہ آج بھی ادھورا نظر آتا ہے۔مسٹر رائے نے کہا کہ کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل رہی ہے، جبکہ نوجوان بے روزگاری اور مستقبل کی غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔ تعلیم، روزگار اور سماجی انصاف کے شعبوں میں بڑھتی مایوسی سے عوام میں بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے عظیم رہنماؤں نے سماجی ہم آہنگی، قومی اتحاد اور بھائی چارے کے جذبے کو مضبوط بنانے کے لیے ’’ذات توڑو، سماج جوڑو‘‘ کا پیغام دیا تھا، لیکن آج عوامی زندگی میں سماجی تقسیم اور ذات پات کی بنیاد پر جنون کو بڑھاوا دینے کا رجحان جمہوریت، سماجی ہم آہنگی اور قومی مفاد کے لیے خطرناک بنتا جا رہا ہے۔
مسٹر رائے نے کہا کہ آج سیاست میں نظریاتی وابستگی کی جگہ معاشی طاقت اور خاندانی سیاست کا اثر بڑھتا جا رہا ہے، جس سے جمہوری اقدار کو مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے اپنے استعفے میں کہا کہ آئین، جمہوریت اور آئینی اداروں پر ہونے والے حملوں سے جمہوریت خطرے میں ہے۔ ’’فرد سے بڑی پارٹی اور پارٹی سے بڑا ملک‘‘ کے جذبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہی نظریاتی اور اخلاقی وجوہات کی بنا پر وہ ریاستی صدر کے عہدے اور پارٹی کی بنیادی رکنیت سے اپنا استعفیٰ دے رہے ہیں۔