Connect with us

دیش

نوویں اور دسویں کے طلبا کیلئے تین زبانیں پڑھنا لازمی

Published

on

نئی دہلی۔ملک بھر کے لاکھوں طلباء اور اسکولوں کے لیے ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ سی بی ایس ای نے 9ویں اور 10ویں جماعت میں تین زبانوں کے اصول کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے اصول کے مطابق طلباء کو اب تین زبانیں پڑھنی ہوں گی جن میں سے کم از کم دو ہندوستانی زبانیں ہوں گی۔ اس کا نفاذ جولائی 2026-27، تعلیمی سال سے ہوگا۔ سی بی ایس ای نے اس سلسلے میں تمام کے نئے نصاب کے مطابق کرائی جائے گی۔

نئے نظام کے تحت طلبا غیر ملکی زبان کا انتخاب بھی کر سکتے ہیں لیکن اسے صرف تیسری یا اضافی چوتھی زبان کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہم ہندوستانی زبانوں کی جگہ انگریزی، فرانسیسی، جرمن یا دیگر غیر ملکی زبانوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔ سی بی ایس ای نے یہ بھی کہا ہے کہ اسکول اپنی سہولت، وسائل اور دستیاب اساتذہ کی بنیاد پر زبانوں کا انتخاب کر سکتے ہیں، لیکن تین زبانوں میں سے کم از کم دو کا ہندوستانی ہونا ضروری ہے۔

سی بی ایس ای نے تمام اسکولوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 31 مئی 2026 تک اپنی تیسری زبان کو حتمی شکل دیں۔ بہت سے اسکولوں نے تیاری شروع کردی ہے، لیکن کچھ اداروں کو زبان کے انتخاب اور اساتذہ کے انتظام میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بورڈ اسکولوں کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور نئے نظام کے بروقت نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت کے مطابق مدد فراہم کر رہا ہے۔

کئی اسکولوں میں زبان کے اساتذہ کی کمی کو لے کر سی بی ایس ای نے متبادل آپشنز بھی تجویز کیے ہیں۔ بورڈ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اسکول موجودہ اساتذہ کی زبان کی مہارت کو استعمال کر سکتے ہیں۔ کلسٹر پر مبنی تدریس، آن لائن اور ہائبرڈ کلاسز، ریٹائرڈ لینگویج ٹیچرز کی مدد اور قابل پی جی طلباء کی عارضی شمولیت کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

سی بی ایس ای نے اسکولوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نصاب میں مقامی ادب، نظمیں، کہانیاں اور علاقائی پڑھنے کے مواد کو شامل کریں۔ اس کا بیان کردہ مقصد طلباء کی زبان کی مہارت کو مضبوط کرنا اور انہیں اپنی جڑوں سے جوڑنا ہے۔ فی الحال، 2026-27 کے سیشن کے لیے، اسکولوں کو 9ویں جماعت میں کلاس 6 سے R3 کتابیں عارضی طور پر استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

طلباء اور والدین کے لیے خوش آئند راحت یہ ہے کہ تیسری زبان کے لیے بورڈ کا کوئی امتحان نہیں لیا جائے گا۔ سی بی ایس ای نے واضح کیا ہے کہ R3، یا تیسری زبان کی تشخیص اسکول کی سطح پر اندرونی طور پر کی جائے گی۔ تاہم طلباء کی کارکردگی کو سی بی ایس ای سرٹیفکیٹ میں شامل کیا جائے گا۔ بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی طالب علم کو اس کی تیسری زبان کی وجہ سے کلاس 10 کے بورڈ کے امتحان میں شرکت سے نہیں روکا جائے گا۔

CBSE نے کہا ہے کہ خصوصی ضروریات والے بچوں (CwSN) طلباء کو موجودہ قواعد کے مطابق چھوٹ ملتی رہے گی۔ مزید برآں، بیرون ملک سے واپس آنے والے طلباء اور ہندوستان سے باہر CBSE اسکولوں میں پڑھنے والوں کو بھی خصوصی چھوٹ حاصل ہوگی۔

بورڈ نے اسکول کے پرنسپلوں کو 30 جون 2026 تک OASIS پورٹل پر کلاس 6 سے 9 کے لیے تیسری زبان کی معلومات کو اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے علاوہ سی بی ایس ای نے کہا ہے کہ نئے زبان کے نظام کے بارے میں تفصیلی رہنما خطوط 15 جون 2026 تک جاری کیے جائیں گے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دیش

نیٹ پیپر لیک معاملے میں خاتون لیکچرار گرفتار

Published

on

(پی این این)
پونے۔نیٹ یوجی پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی نے پونے کی بیالوجی کی لیکچرار منیشا گروناتھ کوگرفتار کیا ہے۔ منیشا کو دہلی میں سی بی آئی ہیڈکوارٹر میں پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کرلیا گیا ہے۔ سی بی آئی کا دعویٰ ہے کہ منیشا این ٹی اے کی پیپر سیٹنگ کمیٹی کا حصہ تھیں۔
افسران کے مطابق منیشا کو پتہ تھا کہ امتحان میں باٹنی اور زلوجی کے اکون سے سوالات آئیں گے۔ انھوں نے امتحان سے پہلے اپنے پونے کے گھر پر اسپیشل کوچنگ چلائی اور طلبا کو سوال بتائے اور نوٹ بک میں جواب لکھائے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے نیٹ کے امیدواروں کو جمع کیا تھا اور نیٹ پیپر کے بدلے طلبا سے لاکھوں روپے وصولے۔منیشا کو سی بی آئی پونے سے لاکر دہلی ہیڈکوارٹر میں پوچھ گچھ کی ، ان کی گرفتاری پیپر لیک ماسٹر مائنڈ کلکرنی کے پوچھ تاچھ کے بعد ہوئی۔
منیشا کے سارے سوال اصلی پرچے سے میل کھاتے ہیں۔ غورطلب ہے کہ سی بی آئی نے کل لاتور کے کیمسٹری کے ایکسپرٹ پروفیسر کلکرنی کو گرفتار کیا تھا۔ کلکرنی برسوں سے نیٹ پیپر سیٹنگ پینل سے جڑے ہوئے تھے۔ ایجنسی کے مطابق انھوں نے اپریل کے آخری ہفتے میں اپنے گھر اسپیشل کلاس لیا تھا ورطلبا کو سوالات فراہم کئے تھے ، جو بعد میں نیٹ کے سوال میں آئے۔
سی بی آئی نے اب تک دہلی۔ جے پور ، گروگرام، ناسک، پونے ، راجستھان، اہلیہ نگر سمیت 9ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ پانچ ملزمین کو کورٹ میں پیش کرکے سات دنوں کی پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔

Continue Reading

دیش

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا اعلان،پورے ملک میں 21 جون کو دوبارہ ہوگانیٹ کا امتحان

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی۔مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے آج نیٹ یو جی امتحان سے متعلق ایک بڑا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ سال سے نیٹ یو جی امتحان کمپیوٹر پر مبنی فارمیٹ، یعنی ’سی بی ٹی موڈ‘ میں منعقد کیا جائے گا۔
انھوں نے طلبا کو بھروسہ دلایا کہ حکومت شفاف، غیر جانبدار اور محفوظ امتحان سسٹم کے تئیں پرعزم ہے اور مناسب وسائل کا استعمال کرنے والے کسی بھی شخص یا گروپ کو بخشا نہیں جائے گا۔ انھوں نے میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ نیٹ یو جی 2026 کا منسوخ امتحان اب دوبارہ 21 جون کو منعقد ہوگا۔دھرمیندر پردھان نے کہا کہ این ٹی اے نے 3 مئی کو منعقد امتحان کے بعد پیدا حالات کا جائزہ لیا اور پھر امتحان کے لیے نئی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 7 مئی کو نیٹ یو جی پیپر لیک کی خبریں سامنے آنے کے بعد کئی طرح کی فکر سامنے آئیں۔
اس کے بعد حکومت نے معاملے کی آفیشیل جانچ شروع کی اور 12 مئی تک ابتدائی جانچ سے پتہ چل گیا کہ سوالنامہ ’گیس پیپر‘ نیٹورک کی آڑ میں لیک کیا گیا تھا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ اہل اور قابل امیدوار اس سے متاثر نہ ہوں۔ انھوں نے امتحان کے عمل میں غیر جانبداری سے متعلق کہا کہ ہم اہل طلبا کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دینا چاہتے۔وزیر تعلیم نے نیٹ یو جی کے امتحان میں دوبارہ شامل ہونے والے طلبا سے کہا کہ ان کی کوشش مراحل کو آسان بنانا ہے۔ اس امتحان میں دوبارہ شامل ہونے والے طلبا کو اپنی پسند کا امتحان سنٹر منتخب کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس قدم کا مقصد سفر کے بوجھ کو کم کرنا اور امتحان رد ہونے کے بعد دوبارہ امتحان دینے والے لاکھوں طلبا کے لیے سہولیات میسر کرانا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’نیٹ یو جی 2026‘ کے دوبارہ ہونے والے امتحان سے متعلق ایڈمٹ کارڈ 14 جون تک جاری کر دیے جائیں گے۔
دریں اثنا نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی(این ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ نیٹ کا دوبارہ امتحان 21 جون کو پورے ملک میں ایک ساتھ لیا جائے گا۔اس کے لئے ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا گیا ہے۔

Continue Reading

دیش

دھار کی کمال مولیٰ مسجد مندر قرار،پوجا کی ملی اجازت،نماز پر لگی پابندی،سجد کی زمین کیلئے درخواست کرسکتا ہے مسلم فریق،ایودھیا کے طرز پر اندور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ،اضی شہر نے کیا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

Published

on

(پی این این)
اندور۔مدھیہ پردیش کے دھار واقع تاریخی بھوج شالہ تنازعہ پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے جمعہ کو ایسا فیصلہ سنایا، جس نے مسلم فریق کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ عدالت نے بھوج شالہ کو مندر قرار دیا اور ساتھ ہی ہندو فریق کو پوجا کرنے کا حق بھی دے دیا۔ یہ ہندو فریق کی بہت بڑی جیت تصور کی جا رہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’ہم نے اخذ کیا ہے، اس جگہ پر ہندوؤں کی پوجا کبھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
ہم یہ بھی درج کرتے ہیں کہ تاریخی ادب یہ ثابت کرتا ہے کہ متنازعہ علاقہ بھوج شالہ کی شکل میں پرمار خاندان کے راجہ بھوج سے منسلک سنکرت تعلیم کے مرکز کی شکل میں جانا جاتا تھا۔‘‘یہ فیصلہ آج ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے سنایا ہے۔ عدالت کے سامنے خاص طور سے یہ سوال تھا کہ کیا یہ ایک ہندو مندر (واگ دیوی مندر) ہے؟ یا پھر مسلم مسجد (کمال مولا مسجد) ہے؟ ہائی کورٹ نے کہا کہ ہم نے اے ایس آئی کے دستاویزات اور رپورٹ پر غور کیا، اور اس اصول پر بھی کہ آثار قدیمہ ایک سائنس ہے۔ ہم اے ایس آئی کے نتائج پر بھروسہ کرتے ہیں۔ عدالت کے مطابق یہ ایک محفوظ عمارت ہے، یہ بالکل واضح ہے۔ اے ایس آئی کے پاس نگرانی کا پورا کنٹرول ہے اور تحفظ کا حق بھی ہے۔معاملے پر سماعت کے دوران عدالت نے مسلم فریق کے لیے یہ بات ضرور کہی کہ وہ مسجد کی زمین کے لیے درخواست کر سکتا ہے۔
ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی ایکٹ کے جائز التزامات کے ساتھ ساتھ ایودھیا معاملہ میں قائم مثال کی بنیاد پر، اور قدیم آثار پر مبنی ثبوتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے عدالت اے ایس آئی کے ذریعہ کیے گئے ایسے کثیر موضوعاتی اسٹڈی کے نتائج اور ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 25 و 26 کے تحت بنیادی حقوق پر تحفظاتی طور سے بھروسہ کر سکتی ہے۔غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جب یہ فیصلہ صادر ہوا، اس وقت بھوج شالہ (کمال مولا مسجد) میں نمازِ جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔ چونکہ آج جمعہ کا دن ہے، اس لیے مقرر کردہ اصول کے مطابق مسلم طبقہ بھوج شالہ میں نماز کر رہا تھا۔ سخت سیکورٹی کے درمیان پُرامن انداز میں نماز جمعہ مکمل ہوئی اور نمازی حضرات گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ عدالت کے فیصلہ سے قبل ہی شہر کے اہم مقامات پر ناکہ بندی کر دی گئی تھی۔ سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھی جا رہی تھی تاکہ کوئی افواہ گشت نہ کرے۔ تقریباً 1000 پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی اور خبروں کے مطابق کچھ شر پسند عناصر کی گرفتاری بھی ہوئی۔واضح رہے کہ بھوج شالہ تنازعہ میں مجموعی طور پر 3 فریقین شامل ہیں۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ گیارہویں صدی میں راجہ بھوج کے ذریعہ تیار سرسوتی مندر اور گروکل ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ یہاں مسلم سرگرمیوں پر روک لگائی جائے اور ہندوؤں کو مستقل پوجا کرنے کا مکمل حق دیا جائے۔ مسلم فریق (مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی) کا کہنا ہے کہ یہ صدیوں سے کمال مولا مسجد رہی ہے۔ انھوں نے اے ایس آئی کی سروے رپورٹ کو ’جانبدار‘ بتایا اور دلیل دی ہے کہ سروے کے دوران شفافیت نہیں رکھی گئی۔ تیسرا فریق جین طبقہ سے ہے۔
حال ہی میں جین سماج نے بھی ایک مداخلت عرضی داخل کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ بنیادی طور سے ایک جین گروکل اور مندر تھا، اور وہاں ملی واگ دیوی کی مورتی دراصل ’جین یکشنی امبیکا‘ ہے۔ اب عدالت کے فیصلے پرشہرقاضی وقارصادق نے ردعمل ظاہرکیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم عدالت کے فیصلے کو پڑھیں گے اور سمجھیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم فریق سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔
واضح رہے کہ اس فیصلے سے پہلے دھارضلع میں دفعہ 163 نافذ کردی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی 5 سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پرپابندی لگا دی گئی ہے اورکسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرہ اورجلوس پر بھی روک لگائی گئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network