Connect with us

بہار

‘سی ووٹر’ کے تازہ سروے: 41 فیصد لوگ تیجسوی یادو کو بہار کا وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے

Published

on

پٹنہ: بہار میں اس سال کے آخر میں اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ اس کے لیے بی جے پی، جے ڈی یو، آر جے ڈی سمیت تمام پارٹیوں نے تیاری شروع کردی ہے ۔

جہاں نتیش کی قیادت میں این ڈی اے اتحاد دوبارہ حکومت بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے ، تیجسوی کو یقین ہے کہ اس بار ریاست میں عظیم اتحاد ہی حکومت بنائے گا۔ اس درمیان ایک نیا انتخابی سروے سامنے آیا ہے ، جس میں نتیش کو جھٹکا لگا ہے ، تیجسوی کو بہت اچھی خبر ملی ہے ، لیکن پرشانت کشور نے سب کو حیران کر دیا ہے ۔ دراصل یہ سروے بہار میں وزیر اعلیٰ کے لیے پسندیدہ امیدوار کے بارے میں ہے ۔

‘سی ووٹر’ کے تازہ سروے کے مطابق ‘نیوز ٹاک’ نے اطلاع دی ہے کہ تیجسوی یادو بہار میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ امیدواروں کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ انہوں نے 36 فیصد ووٹوں کے ساتھ پہلا مقام حاصل کیا ہے ، جب کہ دوسری پوزیشن نتیش کمار کے پاس نہیں ہے بلکہ جن سوراج کے سربراہ پرشانت کشور کے پاس ہے ۔ 17 فیصد لوگ انہیں بہار میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے پسندیدہ امیدوار مان رہے ہیں۔ تیسرے نمبر پر نتیش کمار ہیں جنہیں 15 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ ڈپٹی سی ایم سمرت چودھری 13 فیصد ووٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔ چراغ پاسوان پانچویں نمبر پر ہیں جنہیں چھ فیصد ووٹ ملے ہیں۔

تاہم تیجسوی کے ووٹ فیصد میں چند ماہ قبل کیے گئے سروے کے مقابلے میں کمی آئی ہے ، لیکن وہ اب بھی پہلے نمبر پر ہیں۔ پچھلی بار 41 فیصد لوگ تیجسوی یادو کو وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے تھے ۔ 5 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی سمرت چودھری میں پانچ فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ پرشانت کشور میں بھی دو فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ نتیش کمار کی مقبولیت میں تین فیصد کمی آئی ہے جبکہ چراغ پاسوان کی مقبولیت میں بھی دو فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ سروے میں جب پوچھا گیا کہ نتیش کمار کا بطور وزیراعلیٰ کام کیسے ہے ؟ 58 فیصد لوگ اس سے مطمئن تھے جبکہ 41 فیصد غیر مطمئن تھے ۔ ساتھ ہی نتیش حکومت کا کام کیسا ہے ؟ 65 فیصد لوگ اس سے مطمئن نظر آئے جبکہ 34 فیصد لوگ غیر مطمئن نظر آئے ۔

بہار

نتیش کمار نے بہارقانون ساز کونسل کی رکنیت سے دیااستعفیٰ

Published

on

(پی این این )
پٹنہ :بلآخر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہونے کے بعد قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جے ڈی یو لیڈر وجے کمار چودھری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار پہلے ہی راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو چکے ہیں، اس لیے استعفیٰ ضروری تھا۔ نتیش کمار کی جانب سے جے ڈی یو ایم ایل سی سنجے گاندھی نے بہار قانون ساز کونسل کے چیئر مین کو استعفیٰ سونپ دیا ہے۔
واضح ہوکہ نتیش کمار 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے، وہ رواں ماہ 16 مارچ کو راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو گئے تھے۔ جے ڈی یو کے سربراہ ان لیڈران میں شامل ہیں جو چاروں ایوانوں کے رکن بنے ہیں۔ نتیش کمار نے راجیہ سبھا انتخاب لڑنے کے دوران کہا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہوں، اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔
واضح رہے کہ نتیش کمار 1985 میں ہرنوت اسمبلی سیٹ سے جیت حاصل کر اسمبلی پہنچے تھے۔ اس کے بعد 1989 میں وہ نویں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے۔ اب پہلی بار راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر وہ اپنی نئی پاری کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ 10 اپریل کو وہ راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کریں گے۔

Continue Reading

بہار

جیویش کمار نے ہائی اسکول کی عمارت کا کیا افتتاح

Published

on

(پی این این )
جالے: جالے اسمبلی حلقہ میں ترقیاتی کاموں کو مزید تقویت دیتے ہوئے رکنِ اسمبلی و سابق ریاستی وزیر جیویش کمار نے 2 اہم عوامی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مقامی نمائندے، معززینِ علاقہ اور بڑی تعداد میں عوام موجود رہے۔
راڑھی جنوبی پنچایت (بہاری) میں نوتعمیر شدہ ہائی اسکول عمارت کا افتتاح عمل میں آیا، جس کی تعمیر تقریباً 213.27 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہوئی ہے۔ اس عمارت کے قیام سے علاقے کے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔
اسی طرح برہمپور مشرقی پنچایت (کٹائی) میں پنچایت سرکار بھون کا افتتاح کیا گیا، جس پر تقریباً 305.31 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس عمارت کے ذریعے مقامی انتظامی نظام کو مضبوطی ملے گی اور عوام کو مختلف سرکاری خدمات ایک ہی جگہ فراہم کی جا سکیں گی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی جیویش کمار نے کہا کہ حلقہ میں تعلیم، دیہی ترقی اور بہتر حکمرانی کو فروغ دینا ترجیحات میں شامل ہے، اور اس سمت میں کام جاری رہے گا۔تقریب میں شریک افراد نے ان منصوبوں کو علاقہ کی ترقی کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

Continue Reading

بہار

بہارمدرسہ بورڈ کا بڑااعلان: تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل لازمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں مدرسہ تعلیم کے نظام کو لے کر ایک بڑا اور اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل (درمیانی کھانا) اسکیم کو لازمی طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔
مدرسہ بورڈ کے سکریٹری عبدالسلام انصاری نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر، مڈ ڈے میل اسکیم، بہار کو خط ارسال کرتے ہوئے فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ کئی امدادی مدارس اب تک اس اسکیم سے محروم ہیں، جو ایک تشویشناک امر ہے۔ جاری خط میں کہا گیا ہے کہ مڈ ڈے میل اسکیم تمام تعلیمی اداروں کے لیے لازمی ہے، ایسے میں کسی بھی مدرسے کا اس سے باہر رہنا قابل قبول نہیں ہوگا۔
ہدایت دی گئی ہے کہ تمام محروم مدارس کو فوراً اس اسکیم سے جوڑا جائے تاکہ وہاں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جا سکے۔ سکریٹری انصاری نے واضح طور پر کہا کہ اس اسکیم کا مقصد صرف کھانا فراہم کرنا نہیں بلکہ بچوں کی صحت بہتر بنانا اور اسکولوں میں ان کی حاضری بڑھانا بھی ہے۔ اس لیے کسی بھی سطح پر لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بورڈ کی جانب سے 1942 امدادی مدارس کی فہرست فراہم کر دی گئی ہے اور سبھی کو اسکیم کے دائرے میں لانے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
سیتامڑھی کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو ضلع میں کئی مدارس میں پہلے سے مڈ ڈے میل چل رہا ہے، لیکن بڑی تعداد اب بھی اس سے محروم ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے سخت ہدایت دی گئی ہے کہ اپریل سے ہر حال میں ضلع کے تمام مدارس میں یہ اسکیم نافذ کر دی جائے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ انتظامیہ اس حکم کو زمینی سطح پر کتنی تیزی اور سنجیدگی سے نافذ کرتی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network