دلی این سی آر

امن کے بغیر ہمیں تحفظ فراہم نہیں ہوسکتا،ایچ ایم میگوئل انجیل اقوام متحدہ کے اعلی نمائندےکا جامعہ ملیہ اسلامیہ میں خطاب

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:جامعہ ملیہ اسلامیہ نے عالی وقارمیگوئیل انجیل موراٹینوس انڈر سیکرٹیری جنرل اقوام متحدہ الائس فار سویلائزیشن (یواین اے او سی)کے اعلی نمائندے اور اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے خاص سفیر کی بھارت کے ان کے آفیشیل دورے پر کل میزبانی کی۔ یہ دورہ مختلف تہذیبوں و ثقافتوں اور معاشروں کے درمیان تعاون،باہمی افہام و تفہیم اور مذاکرات کے فروغ کے مقصد سے اہمیت رکھتا ہے۔
دورے پر آئے وفد میں ایچ ایم میگوئل انجیل،نہال سعد، ڈائریکٹر یو این اے او سی، انا پولی اوچنکو، پروگرام آفیسر،انسٹی ٹیوشن اور ممبر اسٹیٹ ریلیشن ایڈوازئر،محمد شبیر کے، انڈر سیکریٹری، (یو این ای ایس) وزارت برائے امور خارجہ،سریش چنرابھٹ،جوائنٹ سیکریٹری(یو این ایس ایس۔ دو) کے پی اے،اور دیوانشی سکسینہ،ٓفیسر ٹرینی،وزارت امور خارجہ حکومت ہند شامل ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ، ڈین (اکیڈمک افیئرز) ڈین (انٹر نیشنل ریلیشنز) ڈین (رسرچ اینڈ انوویشن)،کنٹرولر امتحانات، چیف پراکٹر، یونیورسٹی لائبریرین، افسر اعلی تعلقات عامہ(سی پی آر او) جامعہ کی تمام فیکلٹیز کے ڈینز اور یونیورسٹی کے اعلی عہدیداران نے میٹنگ میں شرکت کی۔
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کے خیر مقدمی تقریر سے پروگرام کا آغاز ہوا۔انہوں نے معزز مہمانان اور مندوبین کا والہانہ استقبال کیا اور شمولیتی تعلیم، تہذیبی تنوع اور تعلیمی افضلیت کے تئیں پابند عہد سرکردہ ادارے کے طورپر جامعہ کی وراثت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں یونائیڈنیشن الائنس فار سویلائزیشن کے زیر اہتمام فروغ پانے والی قدروں بین الاقوامی اشتراکات اور بین تہذیبی مذاکرات کے فروغ میں یونیورسٹی کی متواتر دلچسپی پر زوردیا۔
پروفیسر رضوی نے مغربی ایشیا میں موجودہ تنازعات اور عرب اسرائیل تنازعہ کی ابتدا اور خطے کی پیچیدہ تاریخ کے معاہدوں اور بڑھتے ہوئے تنازعہ میں بڑی طاقتوں کے مضمرات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے امن کی تعمیر اور تنازعات کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نیلسن منڈیلا سینٹر فار پیس اینڈ کنفلیکٹ ریزولوشن جہاں وہ پروفیسر بھی ہیں، گزشتہ دو دہائیوں سے تعلیم اور تحقیق کے لیے پوری طرح پرعزم ہے جس کا مقصد قیام امن ہے۔
ایچ ای اقوام متحدہ کے انڈر سکریٹری جنرل اور یونائٹیڈ نیشن الائنس فار سویلائزیشن (UNAOC) کے اعلی نمائندے مسٹر میگوئل اینجل مورٹینوس نے اپنے خطاب میں بین ثقافتی مکالمے، جامع معاشروں، اور علمی اداروں اور باہمی امن کو فروغ دینے میں شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔ ذمہ دار عالمی شہریوں کی تشکیل میں یونیورسٹیوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے ثقافتوں کے درمیان پل بنانے میں نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے تین اہم عالمی خدشات کو اجاگر کیا جن کے لیے اجتماعی کاروائی کی ضرورت ہے، یعنی امن، پائے دار ترقی کے اہداف (SDGs)، خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی اور کرہ ارض کی حفاظت کی ضرورت؛ اور مصنوعی ذہانت کے پیدا کردہ چیلینجز اس کے علاوہ انہوں نے اخلاقی فریم ورک، کثیر جہتی تعاون، اور ذمہ دار تکنیکی ترقی کی اہمیت پربھی زور دیا۔
. مغربی ایشیا میں موجودہ جنگ اور جب بھی تنازعات اور جنگ ہوتی ہے اس سلسلے میں انسانیت کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے، ایچ۔ایم مسٹر میگوئل اینجل موراٹینوس نے زور دے کر کہا کہ ’امن کو ترجیح دینی چاہیے، ہمیں امن کے بغیر کبھی بھی سیکیورٹی نہیں ملے گی۔ گزشتہ چار دہائیوں میں حکومتوں اور ریاستی عناصر نے سیکیورٹی کو اولین ترجیح دی ہے اور ناکام رہے ہیں۔ جب بھی ہم سیکیورٹی خطرے میں ڈالتے ہیں تو ہم ناکام رہتے ہیں۔ زیادہ سیکیورٹی زیادہ عدم تحفظ فراہم کرے گی۔ ہم امن کے ذریعے ہی سیکیورٹی حاصل کریں گے۔”جنگوں کی مذمت، جو انسانیت کو نہیں بچا سکتی ایچ۔ایم مسٹر مورنٹیوس نے متنبہ کیا کہ بدقسمتی سے ہم انسانیت کو درپیش اہم مسائل، غربت، بھوک، تعلیم اور پائیدار صحت کے حل پر توجہ دینے کے بجائے جنگوں پر کھربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ مسٹر موراتینوس نے دنیا کو امن کا ایک مضبوط پیغام دیتے ہوئے کہا، ”بہت سی ثقافتیں، کئی ممالک اور تہذیبیں ہو سکتی ہیں، لیکن ہم سب ایک انسانیت بنتے ہیں“۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network