اتر پردیش
سابق ایم ایل سی حاجی اقبال مفرور اقتصادی مجرم قرار، 5ہزار کروڑ کی جائیدادیں ضبط
(پی این این)
دیوبند:بہوجن سماج پارٹی کے سابق ایم ایل سی حاجی محمد اقبال کو مفرور اقتصادی مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ لکھنؤ کی ایم پی، ایم ایل اے خصوصی عدالت نے اس سلسلے میں اہم حکم جاری کیا، جس کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی مزید تیز ہو گئی ہے۔ حاجی اقبال کے خلاف سہارنپور میں پہلے ہی پولیس اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے مختلف مقدمات میں سخت کارروائیاں جاری ہیں۔
اطلاعات کے مطابق فروری 2026 میں تقریباً 275 کروڑ روپے مالیت کی 50 جائیدادیں قرق کی جا چکی ہیں، جبکہ اس سے قبل 203 کروڑ روپے کی 184 جائیدادوں کی نشاندہی کر کے ان پر بھی کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق گینگ سے وابستہ کئی بے نامی جائیدادوں کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بھی حاجی اقبال کی ملک اور بیرون ملک جائیدادوں کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے اب تک پانچ ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کی املاک ضبط کر لی ہیں، جبکہ مزید تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کی جائیدادوں پر بھی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔
حاجی اقبال اور ان کے قریبی افراد کے خلاف گینگسٹر ایکٹ، غیر قانونی کان کنی، زمینوں پر قبضہ، دھوکہ دہی اور دیگر سنگین الزامات کے تحت مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔ فروری میں تحصیل انتظامیہ نے مرزا پور اور بہٹ پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 275 کروڑ روپے مالیت کی زمینوں کو قرق کیا تھا، جن میں شیرپور پیلو، شاہ پور گاڑہ، مرزا پور، علی اکبر پور اور روشن پور پیلو کے علاقے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق حاجی اقبال ان کے بیٹوں اور قریبی ساتھیوں کے خلاف سال 2022 میں گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کی بنیاد پر ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی مسلسل نشاندہی اور ضبطی کی کارروائی جاری ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ضلع انتظامیہ اور پولیس حاجی اقبال گینگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں انجام دے چکی ہے، جن میں سینکڑوں کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں اور سینکڑوں بیگھہ اراضی پہلے ہی ضبط کی جا چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی دولت کے خلاف کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی۔