انٹر نیشنل

سعود ی عرب کے امریکی بیس پر ایران کا بڑا حملہ،کئی امریکی فوجی ہلاک ،50سے زائد زخمی

Published

on

(ایجنسیاں)
ریاض:مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئربیس پر بڑا حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ حملے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 50سے زائد فوجی زخمی ہوئے ہیں جبکہ فوجی طیاروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران نے اس حملے میں میزائلوں کے ساتھ ڈرون کا بھی استعمال کیا۔حملے کے دوران امریکی فضائیہ کے ایندھن فراہم کرنے والے طیارے کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے آئندہ فوجی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔پریس ٹی وی کی جانب سے جاری سیٹلائٹ تصاویر میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملے میں بوئنگ KC-135 اسٹریٹو ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے واضح نشانات بھی سامنے آئے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس طیارے کو نقصان پہنچنے سے امریکی فضائی آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب کی الخرج بیس پر ہوئے حملے میں ایرانی میزائل اور بغیر پائلٹ ڈرون استعمال کیے گئےہیں۔ وہیں26 سالہ آرمی سارجنٹ بینجمن این پیننگٹن کی یکم مارچ کوایئربیس پر ہوئے حملے میں زخمی ہونے کے چند روز بعد موت ہوگئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ اس جنگ میں اب تک اس کے 300 سے زائد فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی میزائل اور بغیر پائلٹ ڈرون حملے کے صرف ایک دن پہلے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران پوری طرح تباہ ہوچکا ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ تاریخ میں کبھی کسی ملک کی فوج کو اتنی جلدی اور اتنی مؤثر طریقے سے بے اثر نہیں کیا گیا۔
وہیں ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے بیان میں کہا کہ ’آپریشن وعدۂ صادق 4‘ کی 84 ویں لہر شروع کردی گئی ہے اور اس دوران امریکی ایندھن بھرنے والی متعدد گاڑیوں اور ان کے لاجسٹک سپورٹ بیڑے کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی حکومت کی جانب سے خطے کے ایئربیسز کو جارحیت کیلئےاستعمال کیے جانے کے بعد پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے بحریہ کی مدد سے آپریشن کی 84 ویں لہر کے دوران ایک خصوصی مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن کیا۔
آئی آر جی سی نے آگاہ کیا کہ ان کی فورسز نے دشمن کے اینٹی میزائل دفاعی نظام تباہ کردیا اور ٹھوس اور مائع ایندھن والے میزائلوں کے ساتھ الخرج بیس میں کامیابی سے داخل ہو کر وہاں موجود ایندھن بھرنے والے اور فضائی مدد فراہم کرنے والے بیڑے کو میزائلوں اور ڈرون کے بے دریغ حملوں سے نشانہ بنایا۔ایران کے جوہری توانائی ادارے نے بتایا کہ بوشہر جوہری پلانٹ پر ایک بار پھر حملہ کیا گیا ہے۔ یہ جوہری تنصیب خلیج کے کنارے واقع بوشہر شہر کے قریب موجود ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ تیسری مرتبہ ہے جب اس اہم جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے باوجود جوہری تنصیب کو بڑے نقصان سے محفوظ رکھا گیا ہے، تاہم سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے تل ابیب پر بھی میزائل حملہ کیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ چار افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ میزائل لانچ کا پتہ چلتے ہی فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا۔ ممکنہ حملوں کے پیش نظر اسرائیل بھر میں موبائل فون پر وارننگ پیغامات بھیجے گئے اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام مسلسل میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔واضح رہے کہ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ جہاں بھی امریکی فوجی موجود ہوں گے، ان مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تازہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network