بہار
نتیش کماربلامقابلہ جے ڈی یو کے پھر صدر منتخب
(پی این این)
پٹنہ :نتیش کمار کو جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کا دوبارہ بلامقابلہ صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔ جے ڈی یو تنظیمی انتخابات کے آخری مرحلے میں قومی صدر کا انتخاب شامل تھا، جس کے لیے پارٹی کے موجودہ سربراہ نتیش کمار واحد امیدوار تھے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ اور دستبرداری کی آخری تاریخ کے بعد انتخابی افسر انیل ہیگڑے نے انہیں فاتح قرار دیا۔جے ڈی یو کی تشکیل 2003 میں جارج فرنانڈس اور نتیش کی سمتا پارٹی، شرد یادو کی قیادت والی جنتا دل دھڑے، اور رام کرشن ہیگڑے کی لوک شکتی کے انضمام سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے نتیش کئی بار پارٹی کے صدر رہ چکے ہیں۔ پارٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد نتیش نے آر سی پی سنگھ اور للن سنگھ کو بھی صدر مقرر کیاتھا۔
مرکزی وزیر اور جے ڈی یو کے سابق صدر لالن سنگھ کہتے رہے ہیں کہ نتیش کمار جے ڈی یو کے سپریم اتھارٹی ہیں اور وہ جو چاہیں گے وہی ہوگا۔ تقریباً دو دہائیوں تک بہار میں ریاستی حکومت کی قیادت کرنے کے بعد نتیش کمار راجیہ سبھا کے ذریعہ مرکزی سیاست میں قدم رکھ رہے ہیں۔ وہ 16 مارچ کو راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئےہیں اور اپریل کے دوسرے ہفتے یا بعد میں دہلی میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے رکن کے طور پر اپنا پہلا حلف لیں گے۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں وزیراعلی کے عہدے سے استعفیٰ دینے اور راجیہ سبھا الیکشن لڑنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہا تھاکہ راجیہ سبھا میں شامل ہونا زندگی بھر کی خواہش رہی ہے۔ نتیش لوک سبھا اور بہار لیجسلیچر دونوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں، لیکن راجیہ سبھا میں یہ ان کی پہلی میعاد ہے۔ اس کے ساتھ وہ بہار کے لیڈروں کے منتخب گروپ میں شامل ہوں گے جنہوں نے راجیہ سبھا، لوک سبھا، قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں خدمات انجام دی ہیں۔
نتیش کمار اس وقت بہار کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے سمردھی یاترا کے آخری مرحلے میں مصروف ہیں۔ نتیش کے جانشین کے بارے میں جے ڈی یو اور حکومت دونوں کے اندر بحث چھڑ گئی تھی، لیکن جے ڈی یو کے اندر اگلی مدت کے لیے نتیش کی اپنی امیدواری نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کے بیٹے نشانت کمار کو سیکھنے اور سمجھنے کے لیے زیادہ وقت ملے گا۔ نتیش کمار کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کسی لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے کی بات چل رہی ہے، جس کے لیے نتیش کمار کے قریبی ساتھی ڈپٹی سی ایم سمراٹ چودھری سمیت بی جے پی کے کچھ لیڈروں کے ناموں کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔