بہار

دوسری شادی کی افواہ : دلہا اور باراتی بنائے گئے یرغمال

Published

on

(پی این این)
جالے: سنگھواڑہ تھانہ حلقہ کے کلی گاؤں کے مہادلت ٹولہ میں ایک شادی کی تقریب اس وقت سنسنی خیز موڑ اختیار کر گئی جب دلہے کی دوسری شادی کی افواہ پھیل گئی۔ شادی کے گیتوں اور خوشیوں کے ماحول کے درمیان مورَو گاؤں سے آنے والی بارات کا استقبال کیا گیا اور باراتیوں کی خاطر مدارت کے بعد جب جے مالا کی رسم ہونے والی تھی تو اچانک دلہے کی پہلے سے شادی شدہ ہونے کی خبر پھیل گئی، جس کے بعد پنڈال میں افرا تفری مچ گئی۔
اطلاع ملتے ہی لڑکی والوں اور مقامی لوگوں نے دلہا اور اس کے قریبی رشتہ داروں کو روک لیا اور باراتیوں کو یرغمال جیسی حالت میں رکھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مورَو گاؤں کے باشندہ شیو منگل رام کے بیٹے سریندر کمار بارات لے کر کلی گاؤں پہنچے تھے۔ شادی کی رسمیں جاری تھیں کہ اسی دوران خبر آئی کہ دلہے کی پہلے راجستھان میں شادی ہو چکی ہے۔ یہ سنتے ہی لڑکی نے شادی سے صاف انکار کر دیا اور معاملہ بگڑ گیا۔
اس دوران کچھ باراتی موقع پا کر نکل گئے، لیکن دلہا، اس کے والد اور چند قریبی رشتہ داروں کو گاؤں والوں نے روک لیا۔ بعد میں دونوں فریقوں کے درمیان پنچایتی سطح پر بات چیت ہوئی اور لڑکی والوں کے اخراجات اور دیے گئے سامان کی واپسی پر غور کیا گیا۔ اگلی صبح دلہے کے والد نے شادی کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے دی گئی اشیاء واپس کر دیں، جس کے بعد بارات بغیر دلہن کے ہی مورَو گاؤں لوٹ گئی۔
اس واقعہ کی خبر کلی گاؤں سے لے کر مورَو اور آس پاس کے علاقوں میں موضوعِ بحث بن گئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ لڑکا راجستھان میں ایک کمپنی میں کام کرتا تھا جہاں اس نے ایک لڑکی سے محبت کی شادی کی تھی، مگر وہ لڑکی ایک ماہ بعد اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ تقریباً چار سال پرانا تھا۔ شادی کی رات کسی نے یہی بات افواہ کے طور پر لڑکی والوں تک پہنچا دی، جس سے پوری تقریب میں رنگ میں بھنگ پڑ گیا۔
بعد ازاں حقیقت جاننے کے لیے کلی گاؤں کے کچھ لوگ مورَو گاؤں پہنچے اور دلہا اور اس کے والد سے تفصیلی بات چیت کی۔ صورتحال واضح ہونے کے بعد لڑکی والوں نے اسی لڑکے سے شادی کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ اس کے بعد 12 مارچ کی شام دوبارہ عزت و احترام کے ساتھ لڑکے والوں کو بلایا گیا، کھانے پینے کا انتظام کیا گیا اور باقی ماندہ رسمیں مکمل کرائی گئیں۔بالآخر جمعہ کی صبح گاجے باجے کے ساتھ دلہا دلہن کی رخصتی کر دی گئی اور بارات خوشی کے ساتھ واپس روانہ ہوگئی۔ یہ انوکھا واقعہ پورے علاقے میں موضوع گفتگو بنا ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network