Connect with us

دلی این سی آر

شب برات کھیل تماشہ کی رات نہیں ،مساجد یاگھروں میں کریں عبادت : ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ ماہ شعبان المعظم میں فرائض کے ساتھ نفلی عبادتوں کا بھی اہتمام کریں اس مہینے میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم زیادہ عبادت اور تلاوت کیا کرتے تھے نیز مساکین کی مدد کرتے تھے تاکہ وہ بھی رمضان المبارک کی عبادتوں کے لیے تیار ہو جائیں انہوں نے کہا کہ 14 شعبان المعظم بروز منگل مطابق ۳ فروری کو شب براء ت ہوگی اور عرس مظہری بھی منعقد ہوگا ۔
مفتی مکرم نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ شب براء ت کے موقع پر مساجد میں یا گھروں میں عبادت کا اہتمام کریں اور نوجوانوں کو سڑکوں پر کھیل تماشے کرنے سے روکیں کچھ نوجوان اسکوٹر یا بائیک پر کرتب دکھاتے ہیں اسٹنٹ کرتے ہیں جن سے نوجوانوں کے لیے بھی خطرات پیدا ہوتے ہیں نیز عوام کو بھی شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ رات کرتب دکھانے کے لیے نہیں ہوتی۔
مفتی مکرم نے کہا 26 جنوری کو ہر سال جشن جمہوریت بڑی شان و شان شوکت کے ساتھ منایا جاتا ہے یہ بھارت کے 140 کروڑ عوام کا شاندار تہوار ہے جسے پورا ملک بڑے جوش و خروش کے ساتھ مناتا ہے مدارس اور اسکولوں میں یوم جمہوریت کے بارے میں سماجی اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں ہر مذہب اور ہر فرقے کے لوگ ایسے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں انہوں نے کہا جمہوریت اور سیکولرازم سے ہندوستان کے وقار میں چار چاند لگے ہوئے ہیں کچھ فرقہ پرست ذہن رکھنے والے ہندوستان کے آئین کو ختم کرنے کے در پے ہیں انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ 75 سال میں ہندوستان نے جتنی ترقی کی ہے وہ اسی آئین کی دین ہے ہمیں سب کو سیکولرازم اور جمہوریت کی حفاظت کرنی چاہیے ۔مفتی مکرم نے بریلی کے محمد گنج کے ایک گھر میں کچھ مسلمانوں کی نماز باجماعت نماز ادا کرنے پر پولیس کاروائی کی شدید مذمت کی انہوں نے کہا کہ بند گھر میں پرسکون طور پر نماز ادا کرنا کس قانون سے جرم ہے ۔گھروں میں عام طور پر متعدد مذاہب کے لوگ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق مذہبی پروگرام منعقد کرتے ہیں تو مسلمانوں پر یہ ظلم کیوں؟ انہوں نے یو پی کی ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ گھروں میں پرامن طور پر نماز ادا کرنے پر کوئی ایکشن نہ لیا جائے جو آزادی دوسرے مذہب والوں کو ہے وہ مسلمانوں کو بھی ملنی چاہیے۔

دلی این سی آر

6مارچ کو خصوصی اختیارات کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے کجریوال

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال دہلی اسمبلی احاطے میں واقع پھانسی گھر معاملے میں خصوصی اختیارات کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ ہولی کے بعد 6 مارچ کو وہ خود دوپہر 3 بجے اسمبلی میں کمیٹی کے روبرو حاضر ہو کر ان کے سوالات کے جواب دیں گے۔ اس سلسلے میں منگل کو انہوں نے خط لکھ کر اسمبلی کمیٹی کو مطلع کر دیا ہے۔ انہوں نے کمیٹی سے مکمل کارروائی کی براہِ راست نشریات کرنے، اپنے قانونی حقوق، اعتراضات اور دعوؤں کو محفوظ رکھنے کی گزارش کی ہے۔
اروند کیجریوال نے خصوصی اختیارات کمیٹی کو لکھے گئے خط کی نقل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی آلودگی سے نبرد آزما ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہیں، اسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں اور دہلی اسمبلی نے پھانسی گھر پر سوال پوچھنے کے لیے مجھے طلب کیا ہے۔ میں نے خصوصی اختیارات کمیٹی کو خط لکھ کر اطلاع دے دی ہے کہ ان کے سمن کے مطابق میں 6 مارچ کو حاضر رہوں گا۔ شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میری کمیٹی سے گزارش ہے کہ کارروائی کی براہِ راست نشریات کی جائیں۔
دہلی اسمبلی کی خصوصی اختیارات کمیٹی کو خط لکھتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ مجھے دہلی اسمبلی کے طریقۂ کار اور قواعدِ کار کے ضابطہ 172 اور 220 کے تحت 18 فروری 2026 کو جاری کیا گیا سمن موصول ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں 6 مارچ 2026 کو دوپہر 3 بجے اس نوٹس کی تعمیل میں خصوصی اختیارات کمیٹی کے سامنے مقررہ مقام پر ذاتی طور پر پیش ہوں گا۔انہوں نے واضح کیا کہ میری یہ پیشی میرے قانونی اور آئینی حقوق پر کسی بھی منفی اثر کے بغیر ہوگی۔ میرے تمام قانونی اقدامات، اعتراضات اور دعوے مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت اور عوامی جوابدہی کے مفاد میں میرا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں کمیٹی کی کارروائی کو لائیو اسٹریم کیا جائے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

مسلم پرسنل لا بورڈ نے کی امریکہ ۔اسرائیل کی ایران کے خلاف کھلی جارحیت کی شدید مذمت

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی مشترکہ اور کھلی جارحیت کی سخت اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ بورڈ اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے اور خطے کو تباہ کن جنگ سے بچائے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہو چکی تھی۔ ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے مطابق ایران امریکہ کی تقریباً تمام شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے اچانک مذاکرات ختم کرنے کا اعلان اور فوراً بعد اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مذاکرات محض ایک حربہ تھے، سنجیدہ سفارتی عمل نہیں۔
ڈاکٹر الیاس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملتِ اسلامیہ کے لیے عظیم سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی خود مختار ملک کی مرکزی قیادت کو دورانِ جنگ نشانہ بنانا اور قیادت کی تبدیلی کی کھلی بات کرنا بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کی آگ میں جھونک دیا ہے۔ ایک طرف متعدد یورپی ممالک امریکہ کی حمایت میں کھڑے ہیں، تو دوسری جانب روس اور چین ایران کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اگر فوری اور مؤثر سفارتی مداخلت نہ کی گئی تو یہ تصادم وسیع عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ طویل جنگ نہ صرف انسانی المیے کو گہرا کرے گی بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچائے گی، جس کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر اور کمزور ممالک کو اٹھانا پڑے گا۔
ڈاکٹر الیاس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر ہمارا ملک ایک متوازن اور باوقار ثالثی کردار ادا کر سکتا تھا، مگر موجودہ طرزِ عمل سے ملک کی خارجہ پالیسی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر سرکاری سطح پر تعزیت کا اظہار نہ کیا جانا ہماری اخلاقی اور سفارتی روایت کے منافی ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ایک بار پھر ملک کے حکمرانوں، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات کے ذریعے اس جنگ کو روکے۔ بصورتِ دیگر یہ آگ کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے گی اور پوری دنیا اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی میں بھی پارہ 35کے پار

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی میں اس بار فروری معمول سے زیادہ گرم رہا ہے۔ موسم کا یہ انداز مارچ میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔صبح سے ہی تیز دھوپ ہے جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ہولی، 4 مارچ کو موسم کیسا رہے گا۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 4 مارچ کو ہولی کے دن 35 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ تک پہنچ سکتا ہے۔ دریں اثنا،صفدرجنگ آبزرویٹری، دہلی میں زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔اس سال دہلی میں فروری معمول سے زیادہ گرم رہا ہے۔
توقع ہے کہ موسم کا یہ انداز مارچ میں بھی جاری رہے گا۔ اتوار کی صبح سے ہی تیز دھوپ چھائی رہی جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔اتوار کو صفدرجنگ میٹرولوجیکل اسٹیشن پر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 4.6 ڈگری زیادہ ہے۔ کم از کم درجہ حرارت 15.4 ڈگری سیلسیس رہا جو معمول سے 2.9 ڈگری زیادہ ہے۔ اگلے تین دنوں میں ہوا کی رفتار 15 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ تک رہنے کی توقع ہے۔ پیر کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 سے 32 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے اور کم سے کم درجہ حرارت 14 سے 16 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
ہوا کی رفتار میں اضافہ سے دہلی کے باشندوں کو آلودہ ہوا سے کافی راحت ملی ہے۔ سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق، اتوار کو دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 191 رہا۔ ایک دن پہلے، ہفتہ کو، یہ 248 تھا۔اس سال ہولی پچھلے سال کے مقابلے دس دن پہلے منائی جائے گی۔ اس کے باوجود موسم گزشتہ سال کی طرح گرم رہنے کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پچھلے سال ہولی کے دن یعنی 14 مارچ کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36.2 ڈگری تھا۔ اس بار بھی ہولی کے دن زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری تک پہنچنے کا امکان ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network